کتاب ”22 لوگ“ پر تبصرہ

مصنف سجاد پرویز
تبصرہ شاہانہ جاوید
اردو ادب میں ایک نئی صنف تیزی سے مقبول ہو رہی ہے ”مصاحبہ“ ، بہت سے لوگ اس نئے لفظ سے واقف نہ ہوں لیکن انٹرویو لفظ کو اچھی طرح پہچانتے ہوں گے۔ اردو ادب میں انٹرویوز کی روایت کتنی پرانی ہے معلوم نہیں لیکن آج کے دور میں یہ صنف ادب، مصاحبہ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ بہت سے لکھنے والے اسے فروغ دے رہے ہیں آج یہ ایک مقبول صنف بن چکی ہے۔ سجاد پرویز صاحب کی کتاب ”22 لوگ“ اس صنف میں ایک شاندار اضافہ ہے۔
آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں شارٹ کٹ کا رواج ہے وہاں کوئی اتنے پیار سے اتنے اہتمام سے اپنی کتاب چھپوائے گا سوچا ہی جاسکتا ہے لیکن جس وقت آپ کے ہاتھ میں کتاب ”22 لوگ“ ہو گی تو آپ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ کیا خوبصورت کتاب ہے، کچھ دیر کو نظریں ٹائٹل پر ہی جم جائیں گی، سیاہ رنگ میں سنہری بیل بوٹے کناروں پر اور اردو کی گنتی میں بائیس لوگ اور کونے میں سجاد پرویز کا نام جگمگا رہا ہے بالکل اس طرح جیسے اندھیری رات میں بائیس روشن ستارے، بائیس نابغہ روزگار شخصیات جن کا تعلق ادب و فن سے ہے اس اندھیرے معاشرے میں جگمگا رہے ہیں۔ کتاب کو صاحب مصاحبہ کی رنگین تصاویر سے مزین کیا گیا ہے ساتھ ہی اس شخصیت کا بھرپور تعارف بھی لکھا ہے۔ کتاب ہاتھ میں لیتے ہی کتاب کی خوبصورتی اجاگر ہوجاتی ہے، بہترین کاغذ پر الفاظ موتیوں کی صورت سجائے گئے ہیں، مجھے سب ہے یاد ذرا زرا۔ کی صورت اپنا تعارف بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
سجاد پرویز کا شمار ریڈیو پاکستان کے سینئر براڈ کاسٹرز میں ہوتا ہے۔ آپ اپنے مہمان سے مکالمہ کرتے ہیں اور اس گفتگو کو آواز کی لہروں پر ہم تک پہنچاتے ہیں یہ ایک طویل داستان ہے۔ سجاد پرویز کو مطالعہ اور شعر و ادب میراث میں ملا ہے، انھوں نے اس میراث میں ایک نئی صنف پر کام کر کے گراں قدر اضافہ فرمایا ہے۔ آپ نے پہلا انٹرویو اے حمید صاحب کا، لاہور میں مختصر قیام کے دوران ریکارڈ کر کے بہاول پور لائے، قسمت نے یاوری کی اور حسن درانی نے یہ انٹرویو ادبی پروگرام میں نشر کر دیا۔
اس وقت یہ ایک بڑی بات تھی، اے حمید ایک جانے پہچانے ادیب و کالم نگار تھے یوں انٹرویو لینے کا سلسلہ چل نکلا، اے حمید کے انٹرویو سے اس کتاب کے پہلے انٹرویو کی بنیاد پڑی۔ انہی دنوں بہاول پور آنے والی مشہور شخصیات نصرت فتح علی، پٹھانے خان، عبداللہ حسین، ضیاء محی الدین اور میکسم کے انٹرویوز کیے، جو بہاول پور کے رسالے ”حقیقت“ میں شائع بھی ہوئے۔
آپ نے جن دوسری شخصیات کے انٹرویوز کیے ان میں انتظار حسین، ڈاکٹر آصف فرخی، امین گل جی، افتخار عارف، رضا علی عابدی، زاہدہ حنا، زہرا نگاہ، شکیل عادل زادہ، عقیل عباس جعفری، فہمیدہ ریاض، وجاہت مسعود وغیرہ شامل ہیں۔
سجاد پرویز نے انٹرویو سے پہلے انٹرویو دینے والی شخصیت کا جامع اور خوبصورت تعارف پیش کیا ہے جس کی وجہ سے انٹرویو پڑھ کر شخصیت کا سارا پس منظر واضح ہوجاتا ہے۔ آپ نے جس شخصیت سے بھی انٹرویو لیا ان کی شخصیت کے ہر پہلو پر کھل کر شائستہ انداز مین گفتگو کی ہے اور اس کی شخصیت کو بھر پور انداز میں سامنے لائے ہیں یعنی یہ کتاب معلومات کا خزانہ ہے اور علم و تحقیق کے میدان میں ایک سنگ میل ہے، ان شخصیات کو ان مکالموں کی صورت میں محفوظ کر دیا ہے۔
رضا علی عابدی صاحب فرماتے ہیں ”کہ سجاد پرویز کو یہ انٹرویوز ریکارڈ کرتے ہوئے شاید خیال بھی نا ہو گا کہ وہ ایک صدی کے اواخر اور ایک صدی کے اوائل سے وابستہ سرکردہ افراد کے احوال اور افکار کو محفوظ کر رہے ہیں“ ایک جگہ فرمایا ”مصنف نہیں رہتا تصنیف رہ جاتی ہے“ ۔ عرفان صدیقی نے اپنے خیالات یوں بیان کیے ہیں ”انٹرویو میں بعض اوقات جواب سے زیادہ اہمیت سوال کی ہوتی ہے، سجاد صاحب کے ان انٹرویوز کی اہمیت یہ بھی ہے کہ انھوں نے اتنے موزوں سوالات کیے ہیں جنھوں نے نہ صرف ان کی اپنی علمی وقعت ظاہر کی بلکہ مخاطب سے بھی شعور افزا جوابات حاصل کیے“ ۔ دوسری بڑی شخصیات نے بھی اس کتاب پر اظہار خیال کیا ہے۔
اس کتاب کو ہر اس کتب خانے کی زینت بننا چاہیے جو کتب کے قدر دان ہیں، یہ کتاب آگے چل کر نئے لکھنے پڑھنے کے لیے تحقیق کے در وا کرے گی۔ اس کتاب کی پیش کش میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کا کردار قابل تعریف ہے۔ حرف آخر ”مصاحبہ“ کی یہ کتاب اردو ادب میں گراں قدر اضافہ ہے اور اس صنف کے پڑھنے والوں کے لیے نایاب تحفہ۔

