اعتدال، مثبت سوچ اور معاشرتی ترقی


آج کل میرے دوستوں کا خیال ہے کہ سال کے شروع ہوتے ہی میں پڑھنے اور لکھنے کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا ہوں۔ تھوڑی دیر پہلے ایک دوست کا فون آیا، جب میں نے اسے بتایا کہ میں گاڑی میں ہوں اور آفس سے گھر کی جانب رواں دواں ہوں تو اس نے معذرت کی کہ وہ مخل ہوا۔ میں تھوڑا حیران ہوا کہ وہ کیوں ایسا کہہ رہا ہے تو اس نے بات بڑھاتے ہوئی بتایا کہ اسے معلوم ہے کہ میں گاڑی میں سفر کرتے ہوئے پڑھ لکھ رہا ہوتا ہوں، اس لیے وہ مجھے تنگ نہیں کرنا چاہتا۔

یوں اس نے فون رکھ دیا اور مجھے سوچتا چھوڑ گیا۔ حسب عادت، میں نے فون اٹھایا اور لکھنا شروع کر دیا۔ یہ ہوتی ہے آپ کے فیصلوں کی قوت۔ جب آپ کوئی بات طے کر لیتے ہیں اور دوسروں پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آپ اٹل رہیں گے تو لوگ آپ کے فیصلوں کا احترام کرنے لگتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ان لوگوں کے وعدے اور کہی ہوئی بات کی عزت ہوتی ہے جو اپنے وعدوں پر پورے اترتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہم جو بات کریں، اس پر پورے اتریں تبھی آپ کی کہی بات کا وزن ہو گا اور لوگ آپ پر اعتبار کریں گے۔

اپنے فیصلوں پر قائم رہنا اور وعدہ وفا کرنا ایک حد لاگو کرنے جیسا ہے۔ آپ اس حد کا تعین خود کرتے ہیں اور پھر اس حد سے تجاوز نہیں کرتے۔ یہ آپ کی سنجیدہ شخصیت کی نشاندہی کرتا ہے، اور پھر آپ اپنے حلقہ احباب میں ایک ایسے فرد کے طور پر ابھرتے ہیں جس کے افعال اور اقدار میں ٹھہراؤ ہے ؛ ایسے شخص جن پر احباب یقین کر سکتے ہیں۔ یوں آپ کا حلقہ احباب جڑتا ہے اور اس میں آپ کو ممتاز حیثیت میسر آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حد طے کرنے والے افراد اکثر معتدل واضح ہوتے ہیں۔

اعتدال ایک اہم پہلو ہوتا ہے جو آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ معاشرے میں ایسے لوگ مثبت کردار ادا کرتے ہیں جو معتدل ہوں۔ معتدل شخصیت کے مالک لوگ انتہائی رویو کا رد ہوتے ہیں۔ انتہائی رویے انسان کو بے وجہ جذباتیت کی طرف دھکیلتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے جذبات نہیں ہونے چاہیے۔ جذبات ہی تو انسان کو انسان بناتے ہیں لیکن جذباتیت تب منفی رویا اختیار کرتی ہے جب ان جنونی خیالات کے سحر میں لوگ صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے نا صرف خود ہیجان کا شکار رہتے ہیں، پر اپنے ارد گرد بھی انتشار کی فضاء قائم کرلیتے ہیں۔ نتیجتاً انفرادی نقصان کے ساتھ ساتھ اجتماعی نقصان بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کے اعتدال کی اہمیت ہے اور، معتدل لوگ اکثر ہر دل عزیز ہوتے ہیں۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ انتہا پسند لوگوں کی سوچ محدود ہوتی ہے، جیسے کوئی کنویں کا مینڈک۔ ایسے لوگوں کی سوچ کا محور انتہائی چھوٹا ہوتا ہے۔ کسی بھی چیز کے مختلف پہلؤں کو جانچنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ایسے اشخاص کسی بھی چیز کے صرف ایک زاویے کو ہی اس کی مکمل حقیقت مان لیتے ہیں۔ یوں وہ کسی بھی معاملے کے صرف مخصوص ڈائمینشن کے بارے میں سوچتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں اور ایسے فیصلے دیر یا شفاف نہیں ہوتے۔ یوں انہیں وہ نتائج نہیں مل پاتے جن کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر ایسے لوگوں کے مقدر میں سبکی لکھی جاتی ہے۔

انسان کی شخصیت سازی بظاہر اس پہلی سانس سے شروع ہوتی ہے جو وہ رحم مادر سے باہر لیتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کردار و شخصیت سازی پہ کام پیدا ہوتے ہی شروع ہوجانا چاہیے۔ چونکہ معاشرہ افراد سے جڑتا ہے وہ اگر ہم ان نونہالوں کو سنواریں تو معاشرہ سازی کر سکتے ہیں۔ معاشرے میں مثبت افراد وہ گردانے جاتے ہیں جو معتدل ہوں، اس لیے ضروری ہے کہ گھر سے لے کر اسکول تک ہم معتدل رویوں کی ترغیب دیں۔ معاشرے میں معتدل افراد مثبت سوچ کی علامت ہوتے ہیں اور ان کے ہونے سے مثبت سوچ کا بول بالا ہوتا ہے۔ نتیجتاً ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS