موٹیویشنل سپیکرز کی خواب فروشی


ایک بڑے تعلیمی ادارے میں ایک موٹیویشنل سپیکر مدعو تھے۔ سامعین ظاہر ہے اس ملک کا مستقبل یعنی نوجوان طلباء و طالبات تھے۔ خوبصورت ائر کنڈیشنڈ ہال میں خوش آمدید کے بینرز آویزاں تھے۔ موضوع اگرچہ کیریئر کونسلنگ نہیں تھا لیکن وہ صاحب بھٹکے تو مثل شتر بے مہار کیریئر کونسلنگ میں جا گھسے۔ پھر پناہ خدا کی، ایسے ایسے گمراہ کن مشورے دیے کہ میرا ضبط جواب دینے کو تھا۔ حضرت نے جتنے وقت کے پیسے لیے تھے وہ پورا ہوا اور یوں وہ ضروری مصروفیت کا کہہ کر چلتے بنے۔

میں بار بار گمراہ کن کا لفظ کیوں استعمال کر رہا ہوں۔ اس کے پیچھے بہت سی معقول وجوہات کارفرما ہیں۔

حضرت موٹیویشنل سپیکر نامی مخلوق لہک لہک کر وہ نغمے گنگناتی ہے جو سننے میں کانوں کو بہت بھلے محسوس ہوتے ہیں۔

اب ان گمراہ کن مشوروں کی طرف آتے ہیں۔

”آپ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کی تگ و دو کیوں کر رہے ہیں جب آپ کا شوق سیاست دان اور صدر یا وزیراعظم بننے کا ہے“ ۔ ”انجینئر بننے کی بجائے آپ کھلاڑی بھی بن سکتے ہیں۔“ ”ایک سائنسدان کی بجائے آپ ایک اچھے گائیک بھی بن سکتے ہیں“ ۔ جیسے یہ کہ ”ضروری نہیں آپ ڈاکٹر بنیں جب آپ کے اندر اچھا موسیقار بننے کی صلاحیت ہے۔ تو کیوں نہ موسیقی کا چناؤ کریں اور اس پر والدین کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے“ ۔ یہ چورن بہت اچھا بکتا ہے کیونکہ سامعین ناپختہ ذہن کے مالک طلبا و طالبات ہوتے ہیں جو آسانی سے اس احمقانہ بات کو اپنی غیر تسلی بخش کارکردگی کا جواز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان کے معصوم والدین کو پتہ تک نہیں ہوتا ہمارا انجینئرنگ والا بچہ ”تان سین“ بننے کی راہوں پر چل پڑا ہے۔

آج کی تحریر کا نچوڑ یہ ہے کہ آپ عملی زندگی میں جو کرنا چاہتے ہیں اس کا انتخاب ناپختہ اذہان کے مالک بچے دوران تعلیم تو ہرگز نہیں کر سکتے۔ یہ کام اپنے والدین اور اساتذہ پر چھوڑ دیں۔ یہاں تک موٹیویشنل سپیکرز سے بچتے ہوئے دلجمعی سے تعلیم حاصل کریں اور آپ کا جو بھی شوق ہو جیسے گائیکی، لکھنا، کھیلنا، ان سب کو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے بیچ اس طرح متوازن کریں کہ سب کچھ اعتدال میں رہے۔ بلاشبہ وہ پیشہ اختیار کرنا چاہیے جو پسند ہو۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے امریکن صدر بننا پسند ہے تو میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر سیاست میں حصہ لینے لگوں۔ کیونکہ بہر صورت میری منزل تو امریکن صدر بننا ہے لیکن میں نے اس کو اپنا ہدف بناتے ہوئے وقت کی حد مقرر نہیں کی۔ جو لوازمات یا صلاحیتیں ہیں میں نے ان کا جائزہ نہیں لیا کہ آیا وہ میرے اندر ہیں بھی کہ نہیں۔ اس لیے میری یہ سوچ معقول نہیں ہے۔

کوئی قوم گانے بجانے والوں ناچنے والوں یا کامیڈین سے ترقی نہیں کرتی۔ فنون لطیفہ ایک حد تک اہمیت کا حامل ہیں اس کے بعد جدید دنیا کی ساری عمارت ہی سائنس کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ فنون لطیفہ کا یہ حال ہے کہ فلمی صنعت تباہ حال ہے۔ اداکار اداکاری کی بجائے متنازع بیانات یا فحش مناظر عکس بند کروا کر شہرت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فنکار حضرات کو ہر وقت آسکر یا کینز فلم فیسٹیول کا رٹا لگاتے دیکھا جاسکتا ہے لیکن پاکستانی فلم انڈسٹری کا کوئی نام بھی نہیں جانتا یہ بہرحال ایسا موضوع ہے جس پر صفحات غارت کیے جا سکتے ہیں۔

دنیا میں غلبے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی بہرحال کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ جب بغداد کو منگولوں نے تباہ کیا۔ خلیفہ کے دربار میں زیر بحث موضوع یہ ہوتے تھے کہ سوئی کے ناکے سے اونٹ گزر سکتا ہے یا نہیں، قرآن مخلوق ہے یا کلام، کوا حلال ہے یا حرام۔ خلیفہ عبداللہ مصتعصم باللہ کبوتر بازی کے شوقین کے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہلاکو نے ایسا سبق سکھایا کہ آج تک مسلمانوں میں بغداد میں ہونے والی غارت گری کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ امریکہ نے پوری دنیا میں من مانیاں کی ہیں لیکن کسی کی چوں تک نہیں کی۔ کیا کسی مولوی کی بد دعائیں، کسی گائیک کے گیت، کسی کھلاڑی کے چھکے یا گول کام آئے۔ یقیناً جواب نہیں میں ہو گا۔

تمام موٹیویشنل سپیکرز سے گزارش ہے کہ بچوں کو شاندار مسلم ماضی کے مرثیے یا مستقبل کے سہانے خواب نہ دکھائیں۔ بلکہ اچھا سنگر بننے کی بجائے ایک واجبی سا سائنسدان بننے کی تلقین کریں تاکہ مسلم دنیا بے بسی اور کسمپرسی سے نکل کر ”عزت کی روٹی“ کھا سکے۔ میں موٹیویشنل سپیکرز کی کتب اور ویڈیوز کے خلاف نہیں لیکن ہم اپنی سوچ اور عمل میں جوہری تبدیلی لانے کے لیے خطیبوں پر انحصار نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی ذات میں خود تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔

Facebook Comments HS