پروفیسر برادری مشکل میں


صوبہ بلوچستان میں کالجوں کی کل تعداد تقریباً 135 ہے اور ان کالجوں میں پڑھانے والے پروفیسروں کی تعداد 3500 کے لگ بھگ ہے۔ اپنے حقوق، مفادات اور بقا کے لیے پروفیسر برادری کی اپنی ایک تنظیم ہے جو بلوچستان پروفیسرز اینڈ لکچررز ایسوسی ایشن، یعنی بی پی ایل اے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہر دو سال بعد بی پی ایل اے کے صاف شفاف انتخابات ہوتے ہیں اور اکتوبر 2022 کو بی پی ایل اے کے انتخابات ہوئے جس میں یکجہتی پینل نے 1193 ووٹ لے کر پروگریسو پینل کو شکست دی۔

پروگریسیو پینل ہو یا یکجہتی، دونوں گروپوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر طرح کے باہمی تعصب اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پروفیسر برادری کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں، مگر بدقسمتی سے ان دونوں گروپوں کے درمیان ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی۔ حالاں کہ پروگریسیو پینل کے سربراہان پروفیسر آغا محمد زاہد، پروفیسر عبد القدوس کاکڑ اور پروفیسر عین الدین کبزئی اور اسی طرح یکجہتی پینل کے سربراہان پروفیسر محمد طارق بلوچ، پروفیسر حمید خان اور پروفیسر عبدالرازق الفت تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور جہاں دیدہ لوگ ہیں۔ پھر بھی ان دونوں گروپوں میں بڑے فاصلے پائے جاتے ہیں۔ اگر پروفیسر برادری کے درمیان اتفاق اور ہم آہنگی نہیں پائی جاتی تو عام لوگوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

اگر بہ غور جائزہ لیا جائے تو مجموعی پاکستانی سیاست کے منفی اثرات مقامی تنظیموں پر بھی نمایاں ہیں اور عدم برداشت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے جس سے پروفیسر برادری کے ساتھ ساتھ طلبہ اور والدین بھی براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پروفیسر برادری کو اس وقت کئی مشکلات کا سامنا ہے، یعنی کالجوں میں تعمیرات اور فنڈز کی کمی، بی ایس پروگرام کی بحالی کے لیے اساتذہ اور انفراسٹرکچر کی کمی، اساتذہ کے ریمونریشن کے حصول میں مشکلات، ٹرانسفر پوسٹنگ کے لیے باقاعدہ واضح اصولوں کا فقدان، کالج بسوں کی مرمت اور ایندھن کے لیے کافی رقم نہ ہونا، کالج اساتذہ کے لیے سرکاری گھروں کی تعمیر میں تاخیری حربے، کالج اساتذہ کے لیے اپ گریڈیشن اور پروفیشنل الاؤنس کے حصول میں رکاوٹیں اور سب سے بڑھ کر کالجوں میں درجہ چہارم اور دیگر پوسٹوں پر سیاسی تعیناتیاں۔ یہ سارے وہ مسائل ہیں جن کے حل کے لیے پروفیسر برادری کو ہر قیمت پر متحد رہنا ہو گا۔

الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد دسمبر 2022 کو یکجہتی پینل نے اپنے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے اور اپنے تحفظات کو حکومت بلوچستان تک پہنچانے کے لیے کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس میں مرد اور خواتین پروفیسروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور کافی حد تک جرات و بہادری سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر سیکرٹری تعلیم نے اتوار کی شام کو پریس کانفرنس میں شریک تمام مرد اور خواتین پروفیسروں کا دور دراز علاقوں میں تبادلہ کیا۔

پروفیسر برادری نے بہ طور احتجاج ایک پرامن ریلی نکالی۔ کئی صوبائی وزرا اور معززین نے معاملے کو باہمی افہام و تفہیم سے رفع دفع کرنے کی کوشش کی مگر جبری تبادلوں کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے، ان تبادلوں سے بلوچستان کا تعلیمی نظام درہم برہم ہونے کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔ اس مشکل حالت میں پروگریسیو پینل کا یکجہتی پینل کو بھرپور ساتھ دینا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے پروگریسیو پینل نے اب تک نہ صرف چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے، بل کہ اس مخدوش صورت حال سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے تبادلوں کو معمول کی کارروائی تصور کیا ہے۔ ان تبادلوں سے پروفیسر برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کی رہائش اور ان کے بچوں کی تعلیم داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

پروفیسر برادری میں اس طرح کی تقسیم بلوچستان کے تعلیمی نظام کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔ بیوروکریسی کا ہمیشہ سے اصول رہا ہے کہ: ”تقسیم کرو اور حکمرانی کرو۔“ تنظیموں پر مشکل حالات آتے رہتے ہیں اور چلے جاتے ہیں مگر پروفیسر برادری کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کرنا کسی المیے سے کم نہیں۔ اساتذہ تنظیموں میں اختلافات کا مطلب دشمنی نہیں، بل کہ کسی مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے طریقہ کار میں اختلاف ہونا ہے۔ ابھی تین مہینے پہلے ٹیچرز ایسوسی ایشن میں گہرے اختلافات کی وجہ سے ٹیچر آئینی گروپ کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے تقریباً پچاس دن مسلسل بھوک ہڑتال کرنا پڑی، مگر عزم مصمم کو کوئی شکست نہ دے سکا اور فاتح لوٹے۔

پروفیسر برادری کو اس وقت متحد رہنا ہو گا۔ بی پی ایل اے نے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ بی پی ایل اے سے پروفیسر برادری، طلبہ اور والدین کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ اگر بی پی ایل اے کے سرکردہ رہنما بھی اپنا تحفظ نہیں کر سکتے تو پھر وہ عام اساتذہ کے مسائل کیسے حل کریں گے؟ حکومت بلوچستان، وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم کو صوبے کے وسیع تر مفاد کے لیے اور تعلیم کے فروغ کے لیے پروفیسروں کے بڑے پیمانے پر کیے گئے تبادلوں کو فوری طور پر منسوخ کرنا ہو گا۔ اساتذہ کو بولنے دیں۔ اگر اساتذہ بھی نہیں بولیں گے تو کون بولے گا؟

Facebook Comments HS