ساسو ماں کا گلہ


خدا نے شاید ساسو ماں بارش یا ٹھنڈ میں سوجی، گاجر یا سوہن کا حلوہ کھلانے کے لئے پیدا کیں ہیں۔

پروجیکٹ کی وجہ سے تین دن گھر اور یونیورسٹی سے غیر حاضر رہا، آج واپسی ہوئی تو بہت سے کام ادھورے پڑے تھے۔ اوپر سے جنوری کی ہڈی توڑ ٹھنڈ نے ناک میں دم کر رکھا ہے ؛ سرد موسم میں بادل برسنے کے لئے بہانے ڈھونڈتے ہیں، بارش ایسی برس رہی تھی جیسے دو چار دنوں میں انہی اپنا کوٹہ پورا کرنا ہو۔

فجر کی نماز پڑھی، تلاوت کی اور پہلی فرصت میں یونیورسٹی پہنچا، لگاتار تین کلاسز لی، دوپہر کو چھٹی کی اور پتوں سے گھنگال چناروں تلے بڑے قدموں سے گھر کو چلتا بنا۔

ابھی آدھا پونا راستہ باقی ہو گا کہ موبائل پہ گھنٹی بجی، یخ و شل ہاتھوں سے موبائل نکال کے دیکھا تو ساسو ماں کی کال تھی، علیک سلیک کے بعد اس یخ بست موسم میں عالی جاہ نے کاشانہ اقدس پہ حاضر ہونے کا فرمان جاری کیا۔

لمحہ بھر سوچے بغیر حکم پہ سر تسلیم خم کیا اور ”رب سوہنڑئے دے حوالے“ کی صدا سنتے ہی فون رکھ دیا۔

عالی جاہ کا رعب اور کاشانہ اقدس کے دھب دھبے کے حصار ہی میں تھے کہ سونے پہ سہاگا کے طور پہ بارش کے ہمراہ چنار کے درختوں نے اپنے پیٹھوں سے وزن ہلکا کرنے کے لئے جمع شدہ پانی بھی بڑے قطروں کی صورت ہم پہ نچاور کیے۔

سارے جہاں کی اکلوتی فرشتہ صفت، معصوم چہرے مگر یونیورسٹی کی حد درجہ لائق و قابل خوبرو دوشیزہ سے منگنی ہوئے ابھی ہفتہ چار دن ہی ہوئے تھے ؛ پسند کے نتیجے میں بننے والے رشتے کے حق ادائیگی کے لئے جانا ضروری سمجھا، لیکن۔

بادل ناخواستہ آج اپنی من مانی منوا رہی تھی، لمحہ بھر کے لئے دل میں خیال غلط آیا کہ شاید یہ ابر اس ”ماہ جبیں“ کے کسی ناکام مجنوں کی بد دعا پہ برستی جا رہی ہے۔

خدا جانے سارے کام ایک ہی دن کیوں جمع ہو جاتے ہیں؟

ایک طرف ساسو ماں کی حکم عدولی کا ڈر، دوسری جانب گھر کے بہت سے ادھورے کام، ایک طرف زور و شور سے برستی بارش و سردی، دوسری طرف اس ”پری وش“ کے ہاتھوں بنے کھانے کی بھوک؛

مولا ہمیں بے ترتیب الجھنوں سے امان دے۔

ابھی چناروں کی نوازش اور باران رحمت یا زحمت میں بھیگتے اور سوچتے ہی جا رہے تھے کہ موبائل پہ ایک اور کال گھنٹی بجی، بے جان انگلیوں کو گرما دم کرتے فون کے سکرین پہ ”گل اندام“ کا نام دیکھا تو ساری تھکن و سردی رفو ہو گئی اور گھریلو کام کاج بھول بھلا کے لمبا سانس لینے کے بعد ”السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ“ کہا؛ ہلکی، نرم و نازک اور معمولی سی توتلی زبان سے ”آپ آ رہے ہیں نا“ سنا تو پھر آؤ دیکھا نہ تاؤ، یہ جا اور وہ جا، سیدھا ساسو ماں کے دربار پہ حاضر ہوا۔

موٹی مگر نرم سرخ مخمل کپڑے کی تہہ چڑھے فوم پہ بیٹھا، کشیدے اور ہاتھ سے گل کاری والے تکیے پہ ٹیک لگایا اور انگیٹھی میں موجود چیڑ لکڑی کے شعلوں سے سینکے کے لئے ہاتھ بڑھائے اور حال احوال پوچھا اور تبادلہ خیال کیا۔

گھر کی ”اکلوتی پیاری“ سے کھانا پکائی میں شاید دیر ہوئی؛ سو ایک بڑی پلیٹ جس میں پانچ چھے خانے بنے تھے، خشک میوہ جات سے بھری میرے حضور پیش کی گئی۔ بھوکا پیاسا سردی کا مارا دانے پہ دانہ اٹھاتا گیا، خبر ہی نہیں ہوئی کہ کب بڑی دسترخوان انواع و اقسام کے کھانوں سے سجی؛ میں، ساسو ماں اور سسر جی یعنی ہم تینوں کے لئے چھے بندوں کے حساب کا کھانا رکھ دیا گیا۔

چائنیز رائس اور پاس پڑی بروسٹ کی خوشبو نے بھوک مزید بڑھا دی، ؛ایک پلیٹ میں سلیقے سے رکھے سلاد اپنے جانب توجہ مبذول کرا رہی تھی، جبکہ دسترخوان کے کونے پہ پڑی ”گاجر کے حلوے“ کی مدہوش کرنے والی مہک نے مزہ دوبالا کر دیا۔

بعد از قہوے کی بڑی گول پیالی تواضع کے لئے پیش کرتے ہی ساسو ماں قریب آ کر بیٹھی، اور کہا،

”بیٹا جی! تمہیں ہم نے اپنی کل جہاں یعنی بیٹی کا رشتہ دیا، پورا گاؤں محلہ تم پہ نظر جمائے بیٹھے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ تم مختلف میڈیا چینلز اور این جی اوز کے ساتھ کام کرتے ہو، ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن جا بجا تمہارے ساتھ لڑکیوں کی تصاویر اور ویڈیوز پروگرام دیکھ کے کچھ لوگ ہمیں شکوک و شبہات میں ڈال رہے ہیں۔

بیٹا جی! تم سمجھدار ہو، ان باتوں کا خیال رکھو تو ہم بڑھاپے میں اپنی پھول جیسی بچی کے لئے پریشاں نہ ہوں ”۔

ساسو ماں کی محبت بھرے گلے اور مؤدبانہ انداز گفتگو سن کر قہوے کی پیالی سے بڑا گھونٹ لیا اور جواباً عرض کیا،

”ساسو ماں! آپ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، مجھے رشتوں کا پاس رکھنا اچھے سے آتا ہے۔ میں جانتا ہوں کسے کہاں رکھنا ہے۔ فیلڈ کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔ باقی آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں ہر کسی سے متاثر نہیں ہوتا، میں جس لڑکی سے شادی کے لئے راضی ہوں، وہ بہت سوں کے بعد پسند آئی ہے، یعنی ان سب کو چھوڑ کے ہی میں نے آپ کے پھول کو چنا ہے۔ ہمیں آپ کی بیٹی پسند تھی، پسند ہے اور انشاءاللہ پسند رہے گی۔“

میرے پراعتماد لہجے سے ساسو ماں کے چہرے پہ خوشی کے ایسے آثار ظاہر ہوئے جیسے بوڑھی دادی جان کی برسوں بعد پوتا پیدا ہونے کی دعا قبول ہو گئی ہو۔

مستقبل میں میرے میرے گھر کی رونق یعنی ”وہ“ دوپٹہ دانتوں میں دبائے نمبر وار برتن اٹھا رہی تھی، میں قہوہ ختم کرنے پیالی ہاتھ میں اٹھا ہی رہا تھا کہ اتنے میں میرے کانوں پہ اونچی آواز پڑی،

عمیر! اٹھو شاباش، ناشتے کے لئے باہر دکان سے ایک درجن انڈے لے آؤ؛ ذرا جلدی کرنا عبداللہ خان کو سکول کے لئے دیر ہو رہی ہے۔

میں نیند سے بیدار ہوا، آنکھوں پہ پانی چھڑکا اور ناشتے کے لئے انڈے لانے دکان چلا۔

Facebook Comments HS