ٹوٹے
1980 کی دہائی کی بات ہے جب وی سی آر کے عروج کا زمانہ تھا (ٹچ موبائل استعمال کرنے والی نئی نسل کو تو شاید وی سی آر کا بھی علم نہ ہو کہ یہ کیا بلا ہے؟) گاؤں میں جب کسی شادی بیاہ پر ایک رات کے لئے بھی کرایہ پر وی سی آر لایا جاتا تو ساتھ چار پانچ فلمیں لائی جاتیں، وقت بچانے کے لئے فلم کی صرف سٹوری دیکھی جاتی جب گانا آتا تو اسے فارورڈ کر دیا جاتا، ان چار پانچ فلموں میں ایک فلم ایسی بھی ہوتی جو صرف ”بالغوں“ کے لئے ہوتی تھی اور یہ فلم اکثر اس وقت لگائی جاتی جب بچوں کی آنکھ لگ جاتی یا پھر ان کو کمرے سے نکال دیا جاتا، اب جو چالیس پچاس سال کی عمر والے ”نوجوان“ ہیں وہ سب جانتے ہیں کہ بچپن میں کیسے کیسے وہ یہ ”خاص فلم“ دیکھنے کے لئے ترستے رہے ہیں مگر بڑے ان کو منہ تک نہیں لگاتے تھے، ہم بھی اپنے اپنے بڑوں کے اس ”ناروا سلوک“ کا شکار ہوئے اور ایک خاص عمر میں پہنچنے تک ”خاص فلم“ دیکھنے کو ترسے، اس زمانے میں گاؤں میں کوئی بھی وی سی آر لے کر آتا تھا تو سارے گاؤں کو علم ہوتا تھا کہ آج فلاں کے گھر وی سی آر لگنا ہے اس زمانے میں جس کو وی سی آر دیکھنے کے لئے چارپائی پر جگہ مل جاتی وہ بڑا اعزاز سمجھا جاتا ورنہ اکثریت تو ”بوریا نشیں“ ہی ہوتی، وی سی آر لانے والے کے گھر اگر جب کمرہ اور آواز بند ہوتی تھی تو سب سمجھ جاتے تھے کہ اب ”انگریزی فلم“ چل رہی ہوگی ایسا ہی ایک اتفاق ہمیں بھی ہوا ایک دوست وی سی آر کرایہ پر لایا اور خود کہیں کام چلا گیا پیچھے سے اس کے چھوٹے بھائی اور کزنز نے مل کر ”خاموش فلم“ لگا لی، ہم ایک دو دوست طے شدہ وقت پر گئے تو آگے سے کمرہ بند تھا دروازے کے ساتھ کان لگایا تو آگے سے مخصوص سرگوشیاں سنائی دیں، دروازہ کھٹکھٹایا تو کچھ دیر بعد کھلا لیکن اتنی دیر میں فلم بدل چکی تھی اور ماحول بدلنے کے لئے جلدی جلدی مٹھائی پیش کی گئی ہم نے کہا کہ مٹھائی تو کھاتے ہیں لیکن یہ بتائیں کہ پہلے جو فلم لگی تھی اس کی تو آواز بند نہیں تھی؟
پہلے تو ”بالغ بچے“ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے پھر آخر میں مان گئے کہ ہاں جی وہ ”انگریزی فلم“ تھی۔ دیہات میں اس زمانے میں ”انگریزی فلم“ سے مراد صرف اور صرف بلیو فلم، عریاں فلم، یا ٹرپل ایکس ہی لیا جاتا تھا، ایک بات کا ذکر کیے بغیر شاید اس ”زمانہ جاہلیت“ کی صحیح عکاسی نہ ہو سکے اس زمانے میں جب یہ فلم اپنے ”جوبن“ پر ہوتی تو اچانک اس میں اکثر ”کچرا“ بھی آ جاتا، کچرے سے مراد یہ ہے کہ فلم کا رزلٹ خراب ہوجاتا اور صاف دکھائی نہ دیتی پھر جس دوست کے پاس ”کھڑکتا نوٹ“ (نئی کرنسی) ہوتا اس سے لے کر وی سی آر کا ہیڈ صاف کیا جاتا اور دوبارہ فلم وہیں سے شروع کی جاتی جہاں سے ”گڑبڑ“ شروع ہوتی۔
اب تو دیہات کا کلچر بھی بدل چکا ہے اور انگریزی فلم سے مراد اب کوئی ”مخصوص فلم“ نہیں لیا جاتا بلکہ اب تو ”پینڈو“ ہالی وڈ اداکاروں کے شجرہ نسب بھی جانتے ہیں۔
اب 2023 کی بات کر لیتے ہیں زمانہ بدل چکا ہے ٹچ موبائل رکھنے والا ہر مردو زن اب ”رپورٹر“ بن چکا ہے، آج بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز کا زمانہ ہے اب شہر اور دیہات میں بھی کافی حد تک تفریق ختم ہو چکی ہے سوائے چند جہلاء کے جو دیہات میں آج بھی حسد کی آگ میں جھلس رہے ہیں دیہات میں آج بھی کافی ویلے موجود ہیں جو دوسروں کو آگے بڑھتا دیکھ کر دل ہی دل میں اس کے لئے بددعائیں کرتے رہتے ہیں شہروں میں کم از کم یہ بیماری ختم ہو چکی ہے اور دیہات میں شاید کبھی بھی ختم نہیں ہونی۔
پاکستان میں اب آئے روز معروف شخصیات کی 1980 کی دہائی والی ”انگریزی فلم“ ریلیز ہونا معمول بن چکا ہے اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اب جدید ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے پہلے زمانے میں سہولیات کا فقدان تھا ورنہ جس طرح کے ”ٹوٹے“ اس زمانے میں بننے تھے ان کا تصور بھی اب محال ہے۔ اب کسی بزرگ سیاستدان کی ”انگریزی فلم“ مارکیٹ میں آ جائے یا پھر کسی عالم دین کی تو کوئی اچنبھے والی بات نہیں لگتی۔
معروف شخصیات پبلک پراپرٹیز ہوتی ہیں اس لئے ان کی نجی زندگی پر بھی ان کے چاہنے والوں کی کڑی نظر ہوتی ہے بعض دوست کہتے ہیں کہ ان کی نجی زندگی کو نظرانداز کر دیا جائے کیا پاکستان جیسے ممالک میں ایسا ہو سکتا ہے؟
پاکستان میں اس وقت جتنا گند مارکیٹ میں آ چکا ہے اتنا تو وی سی آر کے زمانے میں بھی نہیں تھا اس وقت چھوٹے بچوں کو کمرے سے باہر نکالنا پڑتا تھا اور فلم کی آواز بند کرنا پڑتی تھی مگر اب تو ہر کسی کے ہاتھ میں ”اوزار بند“ ہے جب چاہو کھول لو اور جی بھر کر ٹوٹے دیکھ لو، وی سی آر کے زمانے میں تو ٹوٹے صرف انگریزی میں ہوتے تھے اس لئے آواز کھولنا یا بند کرنا ایک برابر ہی تھا کیونکہ انگریزی زباں کی سمجھ تو کوئی آنا نہیں ہوتی تھی مگر اب تو پاکستان کی قومی و مادری زبانوں میں بھی قومی لیڈرز کے نایاب ٹوٹے دستیاب ہیں۔
ویسے سوچنے کی بات ہے کہ یہ ہمارے نام نہاد لیڈر کتنے ”چھوٹے“ لوگ ہیں ان کا اپنا کردار سب کے سامنے ہے کرپشن کے خلاف ان کے لیکچر ختم نہیں ہوتے، اخلاقیات کا درس دیتے یہ تھکتے نہیں مگر کرپشن خود پر اور انکے حواریوں پر حلال ہے اخلاقیات ان کی قوم کے سامنے آ چکی ہیں، اس حمام میں صرف سیاستدان ہی ننگے نہیں ہیں بلکہ نام نہاد علماکرام، ججوں، جرنیلوں، صحافیوں سمیت ہر مکتبہ فکر کی اکثریت کے لئے سب کچھ حلال ہے حرام صرف اس کے لئے ہے جو بے بس ہے۔


