استعماری فوج سے قومی ادارے تک کا سفر ( 6 )

یحییٰ خان کو امریکہ اور چین کی طرف سے مدد نہ آنے پر دکھ تھا۔ دوسری طرف چین پاکستان کے عسکری اور سیاسی رہنماؤں کی طرف سے معاملے کا سیاسی حل نکالے جانے میں تساہل پر اپنی جگہ سخت مایوس تھا۔ ایک خیال ہے کہ 3 دسمبر کو اگر تمام محاذوں پر جنگ کا اعلان نہ کیا جاتا تو بھارت بین الاقوامی سرحد پار نہ کرتا اور یوں ممکن تھا کہ معاملے کا کوئی سیاسی حل نکل آتا۔ سقوط ڈھاکہ سے قبل کلیدی دنوں کے اندر بھٹو صاحب کے اقوام متحدہ میں طرزعمل پر بھی کئی سوالیہ نشانات موجود ہیں۔
تاہم پاکستان کو عالمی ہزیمت اور عسکری شکست سے بچانے کی بنیادی ذمہ داری بہرحال جنرل یحییٰ اور ان کے قریبی ساتھیوں کی ہی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو سیاسی حل مقصود بھی تھا؟ بالائی سطح پر کھیلے جانے والے کھیل سے قطع نظر، پاکستان آرمی کے افسروں اور جوانوں نے بے حد محدود وسائل اور انتہائی نا مساعد حالات کے باوجود مشرقی پاکستان میں اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے بے مثال جرآت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔
سقوط ڈھاکہ سے محض سات روز قبل بھارتی حملہ آور فوج کے بریگیڈ کمانڈر بریگیڈیئر ہردیو سنگھ کلیر کی طرف سے جمال پور گیریژن کے پاکستانی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل سلطان احمد کو لکھا گیا رعونت بھرا خط اور عزم و حوصلے سے لبریز اس کا جواب آج بھی راولپنڈی کے آرمی میوزیم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جنگ کے بعد خود فیلڈ مارشل سیم مانک شا نے اقرار کیا کہ پاکستان آرمی کی پیشہ وارانہ کارکردگی اپنی بیس سے ایک ہزار میل دور ہونے کے باوجود شاندار رہی۔
جہاں ایک طرف پاکستان آرمی کی سینئر قیادت اندرونی و بیرونی سیاسی معاملات اور اس کے افسر اور جوان اندرونی خلفشار پر قابو پانے کی تگ و دو میں الجھے ہوئے تھے تو اسی دوران خود مانک شا کے بیان کے مطابق انہیں آٹھ سے نو مہینے یکسوئی کے ساتھ مشرقی پاکستان پر حملے کی تیاری کے لئے دستیاب رہے۔ مانک شا کے مطابق، پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو مشرقی تھیٹر پر بھارت کو ایک کے مقابلے میں پندرہ کی برتری حاصل تھی۔ بدقسمتی سے مگر جنگ کے خاتمے پر کوئی ’رنر اپ‘ نہیں ہوتا۔ صرف فاتح ہوتا ہے۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ جنگ کی تاریخ فاتح فریق ہی لکھتا ہے۔ چنانچہ مشرقی پاکستان میں شکست کے بعد ، پاکستان آرمی جیسی پروفیشنل فوج کو محاذ جنگ پر شاندار پیشہ ورانہ کارکردگی کے باوجود سقوط ڈھاکہ جیسے المیے کے ساتھ ساتھ تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل عام اور تین لاکھ بنگالی عورتوں کے ریپ کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایس ایس جی کے بریگیڈیر ریٹائرڈ یعسوب علی خان 1971 ء میں ایک نوجوان کپتان کی حیثیت سے ڈھاکہ میں تعینات تھے۔
مارچ میں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کیا گیا تو صورت حال تیزی سے بگڑنے لگی۔ بریگیڈیر یعسوب حالات کو قابو میں لانے کے لئے شورشیوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کا حصہ تھے۔ بریگیڈیر یعسوب علی ہی نہیں، سانحہ مشرقی پاکستان پر لکھنے والے اکثر مورخین کا خیال ہے کہ اس پر آشوب دور میں مشرقی پاکستان کے اندر انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان آرمی کی کارکردگی ہرگز قابل رشک نہیں تھی۔ پاکستان کے اندر افواج پاکستان کے وجود سے نفرت کرنے والا گروہ ’مافوق الفطرت‘ الزامات کو دہرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
پاکستان آرمی کے خلاف پراپیگنڈے کی نفی کے لئے نامور بنگالی مصنف شرمیلا بوس کی کتاب ’ڈیڈ ریکننگ‘ کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے۔ تاہم ایک اور بنگالی سکالر ڈاکٹر عبدالمومن چوہدری نے ’Behind the Myth of 3 Million‘ کے عنوان سے لندن سے شائع ہونے والے ایک مختصر مگر جامع کتاب میں محض اعداد و شمار کی مدد سے مبالغہ آرائی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود بنگالیوں سے متعلق اس وقت کے ہمارے حکمرانوں کا طرز فکر کبھی بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔
’بھٹو ڈائنسٹی‘ کے مصنف اوون بینٹ جانز کے مطابق ’یحییٰ اور بھٹو اس نکتے پر متفق تھے کہ بنگالی فوجی کارروائی کے سامنے کسی قسم کی مزاحمت کرنے کا مزاج نہیں رکھتے‘ ۔ دوسری طرف بنگالیوں کے بارے میں ڈھاکہ میں تعینات ایک سینئر عسکری عہدیدار کے مبینہ ’عزم‘ کو بھی یہاں دہرانا ہرگز مناسب نہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب مارچ 1971 ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیے جانے کے امکانات نظر آنے لگے تو غیر بنگالیوں، بالخصوص بہاریوں اور ان کے خاندانوں کا قتل عام شروع کر دیا گیا تھا۔ آخری نتیجے میں ’آپریشن سرچ لائٹ‘ سے قبل، اس کے دوران اور اس کے بعد دونوں اطراف خوب خون بہایا گیا۔ روح و جان پر لگے زخم چھیڑو تو آج بھی رسنے لگتے ہیں۔
گوجرانوالہ اور کھاریاں کی چھاؤنیوں میں نوجوان افسروں کے شدید ردعمل کے بعد جنرل گل حسن اور ائر چیف مارشل رحیم خان کے ایماء پر جنرل یحییٰ اور ان کے ساتھیوں کو ہٹا کر حکومت بھٹو صاحب کے حوالے کر دی گئی۔ تاہم بہت جلد بھٹو صاحب اور چیف آف آرمی سٹاف کے درمیان تناؤ کے آثار نظر آنے لگے۔ جنرل گل حسن پاکستان آرمی کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ ادارے کو سیاسی معاملات سے دور لے جانے کی شعوری کوشش میں مصروف تھے۔ بھٹو صاحب مگر فوج کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے پر مصر رہے۔
سیاسی اور عسکری قیادت میں تناؤ اس وقت عروج کو پہنچا جب کشمیر آپریشن میں اپنے سینئر افسروں سے بالا بالا سیاسی قیادت سے تعلقات استوار کرنے اور بعد ازاں خود وزیر اعظم لیاقت علی خان کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے کے جرم میں سزا پانے والے جنرل اکبر خان نے وزیر اعظم بھٹو کے مشیر سلامتی کی حیثیت سے پشاور میں پولیس کی شورش پر قابو پانے کے لئے فوجی دستوں کو براہ راست ہدایات دینا شروع کر دیں۔ نتیجے میں کسی ’جمہوری ریاست‘ کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا گیا کہ کسی وزیر اعظم نے اپنے آرمی چیف اور ائر چیف کو ایوان صدر بلا کر حبس بے جا میں رکھتے ہوئے مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔
بعد ازاں دونوں کمانڈروں کو ایک کار میں ڈال کر جبرا لاہور روانہ کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش میں ’بچر آف بنگال‘ کے نام سے جانے جانے والے جنرل ٹکا خان نئے آرمی چیف مقرر ہوئے۔ اوریانا فلاسی نے بھٹو صاحب سے اس بابت سوال کیا تو جواب ملا، ’ٹکا خان نے ایک پیشہ ور سولجر کا کردار ادا کیا تھا‘ ۔ جنرل ٹکا خان کے بعد جنرل ضیاء الحق نئے آرمی چیف تعینات کیے گئے۔ شجاع نواز کے مطابق ’بھٹو صاحب جنرل ضیاء کو اکثر موقع بے موقع تضحیک کا نشانہ بناتے‘ ۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کی شخصیت کے مخصوص پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہی بھٹو صاحب نے انہیں ساتویں نمبر سے اٹھا کر آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ سٹیفن پی کوہن نے پاکستان آرمی کو جن تین نسلوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں سے تیسری یعنی ’پاکستانی نسل‘ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھٹو صاحب کے دور سے لے کر سال 1982 ء تک پروان چڑھی۔ اوون بینٹ جانز تاہم پاکستان آرمی کی چوتھی نسل کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسے وہ ’ضیاء الحق جنریشن‘ کا نام دیتے ہیں۔ (جاری ہے )

