پہلے مارشل لا کی سترویں سالگرہ


بڑی عمر کے لوگوں کو اکثر شکایت ہوتی ہے کہ ہمیں خوابوں میں مردے ملتے ہیں، ایسے ہی ایک بابے نے خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑی گراؤنڈ ہے، گراؤنڈ کے ارد گرد جعلی سجاوٹ کے لیے بڑے بڑے دیو قامت پودے لگانے کے لیے جنگل سے اکھاڑ کے جوق در جوق لا رہے تھے۔ بڑے بڑے آسمان کو چھو جانے والے شامیانے بھی نصب ہو چکے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں صوفے گراؤنڈ میں لگے ہوئے تھے، صوفوں کے سامنے شیشوں کے ایک سے بڑھ کر ایک ٹیبل موجود تھا۔ بابے نے دیکھا گراؤنڈ کے مین گیٹ پر ”پریڈ گراؤنڈ“ لکھا ہوا ہے، بابا انیس سو اکہتر کی جنگ میں شامل تھا اس لیے اس نے پہچان لیا کہ یہ پریڈ گراؤنڈ ڈھاکہ والا نہیں۔ بابے نے خواب میں کسی سے اس رونق میلے کی وجہ پوچھی تو اس کو بتایا گیا کہ یہاں پانچ مارچ کو ”ملک میں لگنے والے پہلے مارشل لا کی سترویں سالگرہ منائی جانی ہے“ ۔

انتظامیہ کی طرف سے بارشوں اور آندھیوں کو حکم دے دیا گیا تھا کہ جہاں مرضی ہے بسیں یا طوفان بدتمیزی ڈھائیں بس ہماری سالگرہ والی جگہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی، انہوں نے بھی جواب میں تحریری طور پر حکام کو بتا دیا کہ آپ بے فکری سے انتظامات مکمل کریں ہم آپ کی معاونت کریں گئے مداخلت بالکل نہیں، معاونت ایسے کہ جہاں پر چھڑکاؤ کی ضرورت محسوس ہو آپ ہمیں بتا دینا، ہم چکر لگا کر گرد وغیرہ کی تہہ بٹھا دیں گئے اور شاپروں کو اڑا کر گراؤنڈ سے دور کسی سول جگہ پر بکھیر دیں گے۔

دور سے دیکھیں توبڑا عالی شان انتظام نظر آتا تھا، کیوں نہ عالی شان ہوتا آخر پہلے مارشل کی سترویں سالگرہ تھی۔ ڈرم ماسٹروں کی ٹولیوں نے سالگرہ سے دو ماہ پہلے ہی گراؤنڈ کے الگ الگ حصوں پر قبضہ کر کے ریہرسل شروع کر دی تھی۔ اصل میں پہلا ننھا منا مارشل لا بھی بعد میں آنے والے مارشلوں کی ریہرسل ہی تھی۔

بابا بھی سابق فوجی تھا، وہ ایک دم اپنی نوجوانی کے دنوں میں پہنچ گیا، کیسے وہ بھرتی ہوا، کتنا وہ سمارٹ تھا، کیسے خوبصورت یونیفارم اس کے خوبصورت جسم کو اور خوبصورت کیا کرتا تھا، ماضی کو اپنی آنکھوں کے سامنے پاکر وہ خوشی سے جھوم گیا، اس کو سارا یاد آ گیا، کیونکہ وہ اس وقت حاضر سروس تھا جب ملک میں پہلا مارشل لا لگا تھا۔

پھر بابا جی نے خواب میں دیکھا کہ پانچ مارچ آ گیا، یونیفارمڈ لوگ آ کر صوفوں پر بیٹھنا شروع ہو گئے۔ کسی سیول یا رینکر کو اندر آنے کی اجازت نہیں تھی ماسوائے حفاظتی ڈیوٹی پر لگے لوگوں کے۔ مہمان خاص کی کرسی پر ایوب نامی بندے کو بٹھایا گیا۔ باقی سب سامنے تھے۔ گراؤنڈ کے باہر کچھ لوگوں کو شکایت تھی کہ ہم نے اس کو صدر مملکت بنانے کے لیے ووٹ دیا تھا ’آج خود بڑی کرسی پر بیٹھا ہے اور ہمیں گراؤنڈ کے اندر آنے کی بھی اجازت نہیں۔

مہمان خصوصی کی کرسی کے بہت قریب پھرنے والے کو بابے نے پہچان لیا اور خواب ہی میں بولا ”یہ تو آغا ہے“ ۔ مہمان خاص کی کرسی کے قریب پھرنے والے دوسرے کا نام یاد نہیں غالباً اس کے نام کے ساتھ ”حق“ لگتا ہے۔ دور والی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ان کے بچونگڑے، ان کے نام یاد نہیں بس ان کے قبیلوں کا پتہ ہے ”سید، کیانی، باجوہ وغیرہ وغیرہ“ ۔ وہ سارے بڑے شوق و حسرت سے مہمان خاص کو دیکھ رہے ہیں اور دل میں دعائیں کر رہے ہیں کہ اللہ میاں ہمیں بھی مہمان خاص کی کرسی پر بیٹھنے کا موقع دینا، تاکہ ہم پاکستان کی دل لگا کر خدمت کر سکیں۔

خواب دیکھنے والے بابے کے بقول پروگرام شروع ہو گیا، مقررین نے اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین اور چوہدری ظفراللہ خاں وزیر خارجہ کا مذاق اڑایا، دولتانہ نامی وزیر اعلی پنجاب کی کافی تعریف ہوئی، مقررین کے بقول مارشل لا لگانے کے لیے حالات ساز گار بنانے بارے وزیر اعلی نے بہت محنت کی تھی۔

کچھ مقررین نے اعتراض کیا اور ان کو جلی کٹی اس بات پر سنائی کہ پہلا مارشل لا اتنا مختصر اور صرف ایک شہر تک محدود کیوں رکھا، اعتراض کرنے والوں نے نے یہ بھی کہا کہ اگر 1953 والے مارشل لا کو جاری رکھا جاتا تو یقیناً پاکستان کی ترقی پانچ سال پہلے شروع ہو جاتی، مختصر مارشل لا کی وجہ سے قوم کا پینڈا کھوٹا کیا گیا، بڑا مارشل لا لیٹ لگنے ہی کی وجہ سے بنگال کا بوجھ 1971 تک اٹھانا پڑا۔

صدر مجلس نے اپنے خطاب میں بہت سی مفید باتوں کے علاوہ اعتراض کرنے والوں کو بھی کھری کھری باتیں بتائیں۔ صدر مجلس نے بتایا کہ 1953 والا مارشل لا سیکھنے کے لیے لگایا تھا، ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ مارشل لا لگاتے کیسے ہیں، پھر اس کی بیس کیسے تیار کرتے ہیں، ہم نے یہ بھی سیکھنا تھا کہ صادقوں اور امینوں کو اپنی مطلب براری کے لیے کیسے استعمال کرنا ہے، ان کے ریٹ کیا کیا ہیں اور ان باریشوں سے بھاؤ تاؤ کیسے کرنا ہے۔ ہم نے سیاست دانوں کو بھی سمجھنا تھا کہ ان میں سے کون کون نظریاتی اور کون کون دکان دار ہے۔

خطاب جاری رکھتے ہوئے صدر مجلس نے بتایا کہ جب ہم نے سب کو سمجھ لیا تو آپ نے دیکھا کہ ہم نے کبھی مختصر مارشل لا نہیں لگایا، آپ دعا کریں کہ اللہ مجھے موقع دے اور میں مارشل لا لگانے کے لیے اتنا کام کر جاؤ کہ آپ کو یہ کام کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ہجوم نے صدر مجلس کو بلند بانگ نعروں سے داد دی اور زور زور سے تالیاں پیٹیں، زور دار نعروں کی وجہ سے بابا جی کی آنکھ کھل گئی اور یوں خواب ختم ہو گیا۔

Facebook Comments HS