تبدیلی آپ کی کوشش سے پیدا ہوگی


میں انسٹاگرام پر فرانسیسی زبان میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ اس میں ایک خاتون زندگی کے مسائل پر بڑی اچھی گفتگو کر رہی تھیں۔ دوران گفتگو انہوں نے ایک جملہ استعمال کیا جو مجھے بے حد پسند آیا۔ وہ جملہ اس طرح ہے :

Si tu ne changes rien, rien ne changera

اس کا لفظی ترجمہ ہوا ”اگر آپ کچھ نہیں بدلتے ہیں تو پھر کچھ بھی نہیں بدلے گا۔“ میں نے یہ جملہ سنا اور ویڈیو وہیں روک دی۔ میں اس جملے کو دراصل حقیقی دنیا میں کہیں فٹ کر کے سمجھنا چاہ رہا تھا۔ اپنی زندگی، گھر، خاندان، سماج، قوم اور ملک ہر جگہ میں نے اس جملے کا اطلاق کر کے دیکھا اور پایا کہ اس میں سو فیصد سچائی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے حالات بہتر ہو جائیں، آپ کا گھر اور خاندان معاشی طور پر مضبوط ہو جائے یا آپ جس سماج اور معاشرہ میں رہتے ہیں وہ ایک مثالی معاشرہ بن جائے تو اس کے لیے سب سے پہلے اور سب سے پہلا قدم آپ کو ہی اٹھانا پڑے گا۔

آپ کے چاہنے اور آپ کی کوشش سے ہی چیزیں بدلتی ہیں۔ آپ جب تک اس بات کے لیے راضی نہیں ہوں گے کہ آپ کے حالات میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو پھر آپ کے حالات میں بھی از خود کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔ آپ کوشش نہیں کرتے ہیں تو آپ کی زندگی ایک ہی ڈگر پر چلتی ہوئی ختم ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ غریب پیدا ہوتے ہیں تو غریبی میں ہی آپ کی ساری زندگی گزر جائے گی اور غریبی کی حالت میں ہی آپ اس دنیا سے بھی رخصت ہو جائیں گے۔ بل گیٹس نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ ”اگر آپ غریب پیدا ہوتے ہیں تو یہ آپ کی غلطی نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ غریب ہو کر مرتے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے۔“ بل گیٹس کے الفاظ اس طرح ہیں :

If you are born poor, it ’s not your mistake, but if you die poor, it‘ s your mistake.

اس اقتباس سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اپنی غربت دور کرنے کی پہلی اور آخری ذمہ داری آپ کی ہے۔ غریب پیدا ہونا کوئی المیہ نہیں ہے، غریب پیدا ہو کر اسی حالت میں مر جانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ المیہ بتاتا ہے کہ آپ نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی کہ آپ کے حالات بدلنے چاہیے۔ اگر آپ نے کوشش کی ہوتی تو آپ کے اختتام کی کہانی آپ کے آغاز سے ضرور مختلف ہوتی۔ آپ اس کا الزام کسی دوسرے پر نہیں رکھ سکتے۔ آپ کے پڑوسی، رشتے دار، سرکار یا این جی اوز کبھی آپ کے حالات نہیں بدلتے۔

آپ کوشش کریں گے تو ممکن ہے کوئی مدد کو ہاتھ بڑھا دے۔ اگر آپ ہی کوشش نہیں کریں گے تو کوئی سہارا بھی نہیں دے گا۔ انسانی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی شخص کے حالات خود سے بدل گئے یا کسی دوسرے انسان نے کسی کی زندگی بدل دی۔ کسی انسان کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی تبھی آتی ہے جب وہ خود اس حیرت انگیز تبدیلی کے لیے کمربستہ ہو جاتا ہے۔

آپ جس حال پیدا ہوتے ہیں بالکل اسی حال میں اگر آپ موت کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہیں تو پھر آپ کا اس دنیا میں نہیں آنا ہی بہتر تھا یا پھر آپ کو انسانی گروہ میں پیدا نہیں لینا چاہیے تھا۔ انسان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے گزرے ہوئے کل سے اپنے آنے والے کل کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ آپ خود سوچیں کہ آپ نے کتنی لاپروائی میں اپنی زندگی گزاری کہ زندگی اور موت کے اتنے طویل سفر میں آپ کو کبھی اپنے حالات پر غور و فکر کرنے اور اس میں تبدیلی لانے کی توفیق نہیں ہوئی۔

آپ کتنے بد ذوق انسان ہیں کہ آپ کے دل میں کبھی زندگی کے دوسرے رنگ کو دیکھنے کی آرزو پیدا نہیں ہوئی۔ یہاں زندگی کے دوسرے رنگ سے فحاشی اور عیاشی مراد نہیں ہے، دوسرے رنگ سے میری مراد اپنے آپ کو معاشی طور پر مضبوط کرنا اور اپنی ذکاوت و ذہانت کی سطح کو بلند کرنا ہے۔ آپ کو یہ بات جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے درمیان کچھ ایسے ”پرانی“ بھی موجود ہیں جو صرف اس لیے زندگی گزار رہے ہیں کہ وہ پیدا ہو گئے ہیں۔

بری حالت سے اچھی حالت میں جانے کے لیے وہ کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ کمال کی بات یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ موت کی دہلیز پر پہنچ کر یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اپنی ناگفتہ بہ حالت کا ٹھیکرا اپنی قسمت پر پھوڑتے ہیں۔ کوشش کرنے کی عمر جب نکل جاتی ہے تب انسان شکایت کا پٹارہ کھولتا ہے اور جب کوشش کرنے کا وقت تھا اور اپنے حالات کو بدلنے کا موقع تھا تب ان کی کیفیت اس شعر کے مصداق تھی:

یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فرازؔ
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

قناعت اپنے آپ میں ایک اچھی چیز ہے لیکن اس سے بھی اچھی چیز کوشش کرنا اور اپنے حالات کو بہتر سے بہتر بنانا ہے۔ کوشش کے بعد جو ملے اس پر قناعت کرنا مومنانہ صفت ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا اور اپنی حالت زار پر قناعت کرنا ایک غیر مومنانہ صفت ہے۔

اگر آپ موت کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر گزری ہوئی زندگی کو یاد کر کے خوش ہونا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی موجودہ حالت میں بدلاؤ لانے کی حتی الوسع کوشش کریں اور آج سے ہی کریں۔ آپ کسی ”گاڈ فادر“ کا انتظار نہ کریں کہ وہ آپ کی زندگی میں آئیں گے اور ایک لمحے میں آپ کی قسمت بدل دیں گے۔ دوسرے لوگ آپ کی زندگی کو خوشگوار بنانے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ آپ کی خوشگوار زندگی میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ اپنی زندگی بہتر کرنا چاہتے ہیں تو آپ یہ یاد رکھیں کہ اس کے لیے جد و جہد آپ ہی کریں گے۔ یہ اصول کوئی نیا اصول نہیں ہے۔ یہ بہت پرانا اور خدا کا بنایا ہوا اصول ہے۔ انسان جب تک خود اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، خدا بھی اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا کہ اس کے حالات کیسے ہیں۔ انسان تو پھر انسان ہے وہ بھلا کیوں آپ کی زندگی میں دلچسپی لے۔ خالق کو وہ بندے پسند ہیں جو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں غور و فکر کرتے ہیں اور اپنی روزی تلاش کرتے ہیں۔ خدا اسی کی قسمت بدلتا ہے جو اس کے لیے کوشش کرتا ہے۔

یہاں جو بات ایک قوم کے متعلق کہی جاری ہے بالکل وہی بات ایک فرد اور سماج کے تعلق سے بھی کہی جا سکتی ہے۔ چیزیں آپ کے لیے خود سے کبھی نہیں بدلتی ہیں اور جہاں تک رہی بات دوسرے لوگوں کی تو انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے ساتھ کیا پریشانی ہے۔ دوسرا کوئی بھی شخص آپ کی زندگی کے مسئلے حل نہیں کرتا۔ دوسرے لوگ انسانی ہمدردی کے نام پر آپ کی طرف صرف مشروط مدد کا ہاتھ بڑھا سکتے ہیں۔ لوگوں کی مدد سے وقتی راحت کا سامان تو مہیا ہو سکتا ہے، آپ کی پریشانی کا دائمی حل نہیں نکلتا۔

ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ آپ کچھ نہیں کرتے اور آپ کے سارے مسائل دوسرے لوگ حل کر دیتے ہیں۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا محاورہ آپ نے سنا ہو گا۔ اس محاورے کا مطلب یہ ہے کہ ڈوبنے والے کو ایک چھوٹا سا سہارا اسی صورت میں بچا سکتا ہے جب ڈوبنے والا خود بھی دریا سے نکلنے کے لیے اپنا ہاتھ پیر چلا رہا ہو۔ اگر وہ دریا میں اترا ہی ہے ڈوبنے کی غرض سے تو کوئی اس کی کہاں تک مدد کر سکتا ہے۔ اسے کوئی بھی سہارا ساحل سے قریب نہیں کر سکتا۔

کسی سہارے کی اہمیت بھی تبھی ہے جب آپ بھی کوشش کر رہے ہوں۔ آپ کوشش کرتے ہیں تو خدا اور انسان دونوں آپ کی مدد کرتے ہیں۔ آپ کوشش نہیں کرتے ہیں تو خدا اور انسان دونوں آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کوشش کرنے والوں کے حالات میں کرشماتی طور پر حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوتی ہے اور کوشش نہیں کرنے والوں کے حالات میں کبھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے آپ بھی کوشش کریں اور اپنی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی لائیں۔

Facebook Comments HS