مفتی سرفراز نعیمی شہید

تصوف، صوفی ازم یا mysticism دنیا کے تمام مذاہب میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے، مسلمان صوفیوں اور بزرگوں کی تاریخ پڑھی جائے تو ان کی آفاقی شاعری اور اقوال انسانی اخلاقی اقدار، دوسرے عقائد کو لے کر برداشت اور اپنے ادوار کے مطابق پیار، محبت اور یگانگت سے سرشار نظر آتی ہے، دراصل کسی بھی کامیاب معاشرے کی بنیاد انہیں اصولوں پر استوار ہوتی ہے۔
یہ میرا ہمیشہ سے پسندیدہ موضوع رہا ہے، کیونکہ مملکت خداداد پاکستان کے جس ماحول میں ہم نے آنکھ کھولی، ہر قدم پر اس چیز کی ہمیشہ کمی محسوس ہوئی، عقائد اور فرقوں کی غیر ضروری جنگ نے معاشرے میں جہاں عدم برداشت پیدا کی وہیں دوسرے نظریات کو لے کر ”نفرت“ ایک برائی سے نکل کر norm بن گئی، ہم نے مذہب کے بنیادی پیغام، جو محبت اور انسانی جان کی اہمیت جیسی اقدار سے عبارت ہے کو یکسر بھلا دیا۔
یہ 2009 کی بات ہے، میں ہمارے خطے کے نمائندہ صوفی بزرگوں کی زندگیوں اور ان کی شاعری میں چھپے خوبصورت پیغام کو لے کر ڈاکیومنٹری فلم بنا رہا تھا، اس سلسلے میں سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب کا سفر کر چکنے کے بعد لاہور میں انٹرویو کے لئے جن شخصیات اور مختلف مکاتب فکر کے علماء سے رابطہ کر رہا تھا ان میں جامعہ نعیمیہ والے مفتی سرفراز نعیمی بھی شامل تھے، طاہر القادری صاحب کا انٹرویو کرنے کے لیے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ کینیڈا جا رہے ہیں اور مہینوں کے بعد لوٹیں گے، ہم نے بھی کہا، سفر بخیر۔
اب مولانا سرفراز نعیمی کا انٹرویو بہت اہمیت اختیار کر گیا تھا اور وہ مجھے ٹائم نہیں دے رہے تھے، بڑی مشکل سے کسی نہ کسی طرح انہیں لاہور سینٹر آنے کے لیے راضی کیا (وہ کس کے کہنے پر مجھے انٹرویو دینے کے لیے آمادہ ہوئے؟ اس کا ذکر میں اخیر میں کروں گا) ۔
اس سے پہلے میری بہت سے مذہبی لیڈرز اور اسکالرز سے کام کے سلسلے میں ملاقات رہی تھی، اکثر مشہور مذہبی رہنما جب بھی کہیں آتے یا جاتے ہیں تو ایک جمگھٹا ساتھ ہوتا ہے، بہت سے رہنما تو درجن بھر سکیورٹی گارڈز کے بغیر حرکت نہیں کرتے، ان کی گاڑی کے آگے اور پیچھے کھلی چھت والی گاڑیوں میں اسلحہ بردار باوردی محافظ معصوم، مقلد شہریوں پر خوف طاری کر دیتے ہیں۔
ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ریکارڈنگ والے دن آفس کی ریسیپشن پر مولانا سرفراز نعیمی کا نام گاڑیوں سمیت اندراج کروایا تاکہ ان کو آفس کے اندر آنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، اندراج کے بغیر کسی بھی گاڑی یا شخصیت کے بلڈنگ میں داخلے کے وقت بدمزہ situation پیدا ہو سکتی تھی۔
اب میں اپنے آفس میں بیٹھا ان کا انتظار کر رہا تھا کہ ریسیپشن سے مجھے کال آئی کہ آپ کے کوئی مہمان آئے ہیں اور ان کا نام رجسٹر میں درج نہیں ہے، میں نے پوچھا کون؟
وہ بولا مولانا سرفراز نعیمی، میں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے خود ان کا نام گاڑی والی لسٹ میں ڈالا ہے،
ریسیپشنسٹ بولا وہ اکیلے ہیں اور گاڑی پر نہیں ہیں، مجھے انتہائی شرمندگی ہوئی، میں نے کہا کہ میں انہیں خود receive کرنے آ رہا ہوں، میں اپنے آفس سے نکل کر گیٹ کی طرف تقریباً بھاگا۔
ایک شخص سادہ سی شلوار قمیض، سر پے جناح کیپ رکھے گیٹ کے ساتھ موٹرسائیکل پکڑے کھڑا ہے، مجھے اپنی کمر پر پسینہ تیرتا محسوس ہو رہا تھا، میں نے ان سے دعا سلام تو کی لیکن نظریں ملانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی، لیکن انہیں اس چیز کی بالکل پرواہ نہیں تھی۔
میں نے ان کا انٹرویو کیا جو کہ انتہائی سیر حاصل اور جامع گفتگو پر مشتمل تھا، انٹرویو کے بعد انہوں نے ایک چائے کا کپ پینا بھی گوارا نہیں کیا، میرے peon سے انتہائی پرتپاک ملے اور اسی طرح اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر واپس جامعہ نعیمیہ چلے گئے۔
دراصل جب میں مولانا سرفراز نعیمی کو آفس آنے کے لیے قائل کر رہا تھا تو میرے کمرے میں میرے ادھیڑ عمر peon یہ سب سن رہے تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ مولانا سرفراز نعیمی سے بات کر رہے تھے؟ میں نے کہا ہاں لیکن وہ ٹائم نہیں دے رہے،
اس نے اسی وقت اپنے موبائل سے مولانا سرفراز نعیمی کو کال کی اور کہا کہ یہ میرے صاحب ہیں، آپ نے ضرور آنا ہے اور وہ راضی ہو گئے۔
دراصل مولانا سرفراز نعیمی میرے peon کے بچپن کے کلاس فیلو تھے، انتہائی مصروف ہونے کے باوجود وہ اس کا کہا نہ ٹال سکے۔
اس انٹرویو کے چند ہفتوں بعد اچانک بریکنگ نیوز میں پتہ چلا کہ جامعہ نعیمیہ میں خودکش حملہ ہوا ہے جس میں مفتی سرفراز نعیمی شہید ہو گئے ہیں، اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

