پرائمری سکول کی نصابی تعلیم
مجھے ہمیشہ سے شوق رہا ہے کہ میں وجہ وہ جان سکوں کہ دوسرے قومیں ہم سے تعلیم اور ترقی میں آگے کیوں ہیں۔ مجھے جو پہلے عنصر ملا وہ ان قوموں کا نصاب تعلیم ہے۔ ان کے نصاب تعلیم میں جو اضافی جزئیات ہیں اور ہمارے نصاب میں بچپن شامل ہی نہیں ہیں میرے مشاہدے کے مطابق وہ بنیادی وجوہات و جزئیات ذیل ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک کریٹکل تھنکنگ ایک سبجیکٹ بچپن سے پڑھانا شروع کر دیتے ہیں کریٹکل تھنکنگ کا مقصد بچپن ہی سے طلباء میں جذبہ تنقید صحیح اور غلط فیصلے کی پہچان اور فیصلے کرنے کے لیے معلومات، خیالات اور حالات کا تجزیہ اور جائزہ لینے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
اس میں بچوں کو کھیل کھیل میں مفروضوں کی شناخت اور سوال کرنے کے قابل بنانا شامل ہے، متعدد نقطہ نظر پر غور کرنا، اور مسائل کو حل کرنے کے لیے منطق اور استدلال کا استعمال ہے۔ اس میں آزادانہ طور پر سوچنے اور اپنے طور سیکھنے کی ذمہ داری لینے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔ چھوٹی عمر میں تنقیدی سوچ کی مہارتوں کو بیدار کرنا طلباء کو سکول اور زندگی میں کامیابی کے لیے تیار کرنے میں بہت زیادہ مدد فراہم کر سکتا ہے۔
دوسرا جو اہم جز ہے بچوں کے لیے موجودہ دور کا ڈیجٹل لٹریسی۔ بچپن ہی سے سے پڑھانا چاہیے کہ کیبورڈ اور ماؤس یا ٹچ پیڈ کو نیویگیٹ کرنے اور کمپیوٹرز، ٹیبلٹس اور دیگر آلات کی استعمال اور آپس میں کمبیشنز سکھانا چاہیے اور ساتھ ساتھ میں بنیادی فائل مینجمنٹ کو سمجھانا، جیسے فائلوں اور فولڈرز کو محفوظ کرنا، کھولنا اور ترتیب دینا۔ وغیرہ
بچوں کو بچپن ہی سے محفوظ طریقے سے آن لائن بات چیت کا طریقہ، بشمول یہ سمجھنا کہ ذاتی معلومات کی حفاظت کیسے کی جائے اور سائبر دھوکہ دہی اون لاین ہراسمنٹ کے بارے سمجھانے اور آن لائن فراڈ وغیرہ آن لائن خطرات کو پہچان اور ان سے بچنے کے طریقے سکھانا نہایت اہم ہو چکا ہے جو باقی دنیا کے نصاب میں بچپن سے شامل ہے۔
پرائمری اسکول کے بچوں کو ہمیں بنیادی صحت اور ذہنی تندرستی سے متعلق آگاہی بھی بہت ضروری ہے۔ اس سے میری مراد 5 سے 11 سال کی عمر کے طلباء کی جسمانی اور جذباتی تندرستی ہے۔ اس میں یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ طلباء کو مناسب غذائیت، بنیادی جسمانی سرگرمی، اور حفظان صحت کے معلومات ہونی چاہیے۔ جو مختلف مشقیں، نیز ذہنی صحت کے کسی بھی کیفیت جیسا کہ بے چینی یا ڈپریشن کو دور کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں طلبا کو صحت مند طرز عمل اور نمٹنے کے طریقہ کار کے بارے میں تعلیم دینا بھی اہم، اور انہیں وہ وسائل اور مدد فراہم کرنا بھی شامل ہے جن کی انہیں اچھی صحت اور تندرستی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ نوٹ کیا گیا ہو گا ایسے نا کرنے ہمارے اکثر نوجوان مختلف ذہنی اور نفسیاتی و صحت کے مسائل اس وجہ سے دوچار ہوتے ہیں کہ بروقت ان کو مرض کا پتہ ہی نہیں چلتا۔
ایک اور جز جو پڑھایا جانا بہت ضروری ہے وہ ہے سماجی۔ جذباتی تعلیم Social and Emotional Learning (SEL)
بچوں کو اپنے جذبات کو سمجھنے اور ان کا منظم کرنے، مثبت اہداف طے کرنے اور حاصل کرنے کی تعلیم و آگاہی دینا ہے، کہ کیسے اپنے جذبات احساسات کو محسوس کریں اور دوسروں کے لیے ہمدردی ظاہر کرنے اور عمل کرنے کے پراسز سے روشناس کریں، مثبت تعلقات قائم کرنے اور برقرار رکھنے، اور ذمہ دار بنانے میں مدد کرنے کے عمل تک ایک مکمل سلسلہ ہونا کھیل کھیل سمجھانا ضروری ہے۔
فیصلے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں میں ان کے جذبات اور ان کا اظہار کرنے کا طریقہ سکھانا، تناؤ اور اضطراب پر قابو پانا، بچوں میں خود اعتمادی برقرار رکھنا اور خود اعتمادی پیدا کرنا، اور تنازعات کو حل کرنے اور دوسروں کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے کا طریقہ سیکھنا شامل ہونا۔ یعنی ایس ای ایل کو انصاب میں شامل کرنا از حد ضروری ہے اور اسے مختلف سرگرمیوں کے ذریعے پڑھانا نصاب کا حصہ ہونا چاہیے، جیسے رول پلے، ، اور کلاس ڈسکشنز۔ وغیرہ وغیرہ
پرائمری اسکول کے طلباء کے لیے ماحولیاتی تعلیم کے کچھ بنیادی تصورات بھی نصاب میں شامل ہونا بھی وقت کی اہم ضروریات میں ایک اہم ضرورت ہے
جیسا کہ قدرتی وسائل جیسے ہوا، پانی اور مٹی جنگل جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت کو سمجھنا۔ اپنے مقامی ماحولیاتی نظام میں پودوں اور جانوروں کی مختلف اقسام کے بارے میں سیکھنا اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں۔ اور ان کی ہمارے زندگیوں میں کتنی اہمیت ہے۔ فطرت کی خوبصورتی اور تنوع کی تعریف اور ان کے اثرات و مضمرات پر ڈسکشنز اور گروپ ایکٹیویٹیز کرانا، ماحول پر انسانی سرگرمیوں کے اثرات کو سمجھنا اور منفی اثرات کو کم کرنے اور پائیداری کو فروغ دینے کے طریقے سکھانا کچھ عملی پریکٹس کروانا، ریسائیکلنگ اور وسائل کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں سمجھانا بتانا، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی اہمیت کو سمجھانا، ماحولیاتی مسائل کو سمجھنے اور جانچنے کے لیے تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں بچوں سکھانا یہ سب چیزوں کو بچپن سے سکھائیں گے تو ہم اپنی اگلی نسل کو ایک بہترین نسل بنا سکتے ہیں۔
ثقافتی تعلیم مختلف ثقافتوں اور روایات کی تفہیم اور تعریف سکھانا اور مختلف ثقافتوں اور روایتوں میں تعامل و اعتدال ڈھونڈنے کے لئے مثبت سرگرمیوں کو پروموٹ کرنا اس گلوبل ویلج دنیا میں نہایت اہم ہے۔
یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ پرائمری اسکول کا نصاب لچکدار اور طلبا اور کمیونٹی کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ مختلف تدریسی طریقوں کے استعمال اور تجرباتی سرگرمیوں کے انضمام کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، نصاب کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جانا بروقت وقت چاہیے اور اسے تازہ ترین تحقیق اور تعلیم کے بہترین طریقوں کی عکاسی کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔


