"ہوم لینڈ کی گلوریا” (بچوں کی کہانی)

ہوم لینڈ نامی خوبصورت اور پرسکون پہاڑی قصبہ سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن سے تقریباً 40 کلو میٹر دور واقع ہے۔ اس قصبے کے لوگ خدا کی طرف سے زمین والوں کے لیے بہترین تحفہ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ نہ تو ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ ان کا حسن سلوک اور پیار و محبت دیکھ کر دنیا انہیں کسی اور ہی سیارے کی مخلوق سمجھتی ہے۔ اس قصبے کے لوگوں کو نہایت ہی صفائی پسند ہونے کی وجہ سے پچھلے دس برسوں سے ”صفائی ایوارڈ“ مل رہا ہے۔
ہوم لینڈ کا عمر رسیدہ میئر ہوپر قصبے کے لوگوں سے بہت خوش ہے تو پولیس چیف ہولی مین بھی ناراض نہیں ہے کیونکہ ایک طویل عرصے سے قصبے میں کسی بھی قسم کی واردات وغیرہ نہیں ہوئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ پولیس فارغ وقت میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی ہے، نہیں بالکل بھی نہیں بلکہ پولیس قصبے میں ہونے والی سماجی سرگرمیوں میں مختلف تنظیموں اور افراد کا ہاتھ بٹاتی نظر آتی ہے۔ اسی لیے وہاں پولیس والے کو دیکھ کر لوگ خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں۔ قصبے کے واحد ہسپتال میں صرف گنتی کے مریض ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ لوگ حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ صبح شام واک کرتے ہیں اور مختلف ورزشی کھیلوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے لوگوں سے پھر بیماریاں میلوں دور ہی رہا کرتی ہیں۔
قصبے کی شمالی پہاڑی کے قریب واقع چھوٹی سی جھیل اپنی خوبصورتی اور روح پرور طلسماتی محل وقوع کی وجہ سے قصبے کے لوگوں کے لیے پکنک پوائنٹ بنی ہوئی ہے۔ ہر طرف پھیلی ہریالی آنکھوں کو طاقت دینے کے ساتھ ساتھ قصبے کی خوبصورتی دوبالا کرنے کا کام بھی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ قصبے کی ہر سڑک، گلی اور گھر میں اگے ہوئے رنگ برنگے پھول لوگوں کی خوش ذوقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اسی ہوم لینڈ میں ننھی گلوریا اپنے باپ اینڈریو اور ماں جین کے ساتھ نہایت خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی۔ وہ کلاس فائیو کہ طالبہ ہے، اس کی کلاس انچارج مس مارتھا کو یقین ہے کہ گلوریا مستقبل میں سوئٹزرلینڈ کی کوئی اہم شخصیت بنے گی کیونکہ وہ اتنی سی عمر میں ہی نہایت ذہانت کی باتیں کرتی ہے۔ وہ اپنے گھر میں موجود انٹرنیٹ کا مثبت انداز میں استعمال کرتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی معلومات صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتی ہے بلکہ اردگرد موجود سب لوگوں تک پہنچاتی ہے۔ قصبے سے شائع ہونے والے اخبارات و رسائل میں اس کی کہانیاں اور نظمیں شائع ہوتی رہتی ہیں، اسی لیے تقریباً سارا قصبہ اس سے اچھی طرح واقف ہے وہ اپنی ایسی ہی خوبیوں کی وجہ سے کئی بچوں کی آئیڈیل بن چکی ہے لیکن اس کی کلاس فیلو چیری، جو اس کے گھر کے بالکل سامنے ہی رہتی تھی کا معاملہ گلوریا کے بارے میں ذرا نہیں کافی مختلف تھا۔
اسے گلوریا سے بلکہ اس کے نام سے ہی سخت چڑ تھی۔ اس چڑ کی وجہ سے وہ گلوریا کی ہم نام اور بچوں کی معروف مصنفہ گلوریا ہائیٹ کی کتابیں خریدنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔ ذہین تو چیری بھی تھی لیکن وہ اپنی ذہانت کا غلط استعمال کرنے والے افراد میں شمار ہوتی تھی۔ انٹرنیٹ اس کے ہاں بھی تھا لیکن وہ اس پر گھنٹوں بیٹھ کر فضول میں چیٹنگ کرتی رہتی تھی۔ اسے یوں بے مقصد وقت ضائع کرتے دیکھ کر اس کے والدین بہت کڑھتے تھے۔
وہ اسے بہت سمجھاتے تھے لیکن وہ بھلا کہاں سمجھنے والی تھی۔ اپنی انہی بری عادتوں کی وجہ سے وہ قصبے کے دیگر بچوں سے الگ تھلگ ہی رہتی تھی۔ وہ ہر وقت گلوریا کو نیچا دکھانے کے لیے مختلف ترکیبیں سوچتی رہتی تھی لیکن اس کو ہمیشہ ہی اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی تھی۔ گلوریا کی کامیابیوں کو دیکھ کر چیری زخمی سانپ کی طرح بل کھانے لگ جاتی تھی۔ ایسی حالت میں اس کے سامنے اگر گھر کی چیزیں، پالتو جانور، پرندے حتی کہ کچھ بھی آ جاتا تو وہ بچ نہیں پاتا تھا۔
ایک بار اسی جنون کی حالت میں اس نے قصبے کے چرچ کے پادری فادر جارج پر پانی پھینک دیا تھا جس کی وجہ سے اس کے باپ مسٹر مارٹن نے پہلی بار اسے تھپڑ مارا تھا۔ اس کی اس قسم کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے اس کے والدین ایک بار اسے نفسیاتی امراض کے ایک ماہر کے پاس بھی لے کر گئے تھے لیکن حیرت انگیز طور پر اس سے علاج کروانے کے باوجود بھی چیری نہ بدلی تھی بلکہ گلوریا کی ہر نئی کامیابی اس کا خون کھولا دیتی تھی۔ حسد کے اس بے پناہ جذبے نے اس کو اپنے والدین، ٹیچرز، دوستوں اور قصبے کے لوگوں کی نظروں سے گرا دیا تھا جس کی وجہ سے تنگ آ کر سب نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔
اس دن موسم بہت خوشگوار ہو رہا تھا۔ گلوریا کے ماں باپ نے قصبے کی شمالی پہاڑی کے قریب واقع جھیل کے کنارے پکنک منانے کا پروگرام بنالیا تھا۔ گلوریا ان کی خواہش کو دیکھتے ہوئے فٹافٹ تیار ہو گئی تھی جب وہ تینوں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جھیل پر پہنچے تو وہاں اور بھی بہت سارے لوگ موجود تھے۔ ظاہر ہے کہ خوشگوار موسم کو سب نے ہی انجوائے کرنے کا پروگرام بنالیا تھا۔
بچے بڑے سب ہی ہنگامہ کر رہے تھے۔ اچھل کود رہے تھے۔ ہنس رہے تھے۔ قہقہے لگا رہے تھے اور گلوریا سب کو مسرور دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ کچھ بچے اس کے اردگرد آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ وہ اس سے دلچسپ کہانی سننے کے موڈ میں نظر آرہے تھے۔ ان کے اصرار نے گلوریا نے ان کو اپنی نئی کہانی ”مجھے کتاب دو“ سنانا شروع کردی، ابھی اس نے آدھی ہی کہانی سنائی ہوگی کہ اچانک پہاڑی کی جانب سے چیخوں اور عجیب و غریب شور کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں، گلوریا اور بچے اٹھ کر تیزی سے پہاڑی کی طرف بھاگے، لوگوں کی چیخ پکار سے انہیں یہ ضرور اندازہ ہو گیا تھا کہ کسی قسم کا کوئی حادثہ وغیرہ ہو گیا ہے لیکن کیا ہوا تھا؟
یہ انہیں وہاں جا کر ہی معلوم ہوسکا تھا۔ اپنے دھیان میں باتیں ہوئے پہاڑی پر چہل قدمی کے دوران گلوریا کا باپ اینڈریو اور ماں جین اچانک پہاڑی کی خطرناک نکر سے پھسل کر نیچے گہری کھائی میں جا گرے تھے۔ دیکھنے والوں کا کہنا تھا کہ دراصل پاؤں جین کا پھسلا تھا اینڈریو بے چارہ تو اسے بچاتے ہوئے گرا تھا۔ بہرحال گلوریا کی دنیا اندھیر ہو گئی تھی۔ سب اسے دلاسا دے رہے تھے لیکن وہ گم سم کھڑی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد میئر ہوپر اور پولیس چیف ہولی مین امدادی ٹیموں کے ساتھ وہاں آ پہنچے تھے۔
گلوریا کو ایک ایمبولینس میں بٹھا کر میئر ہوپر کی اہلیہ لنڈا کے ساتھ اس کے گھر روانہ کر دیا گیا تھا۔ میئر ہوپر کا خیال تھا کہ بچوں کو ایسے واقعات کے فوراً بعد جائے حادثہ سے ہٹا دینا چاہیے ورنہ وہ نفسیاتی مریض بن سکتے ہیں۔ دو دن کہ مسلسل کوششوں کے باوجود بھی اینڈریو اور جین کی لاشیں کھائی سے نکالی نہ جا سکی تھیں، سب کو ننھی گلوریا سے پہلے سے بھی زیادہ محبت اور ہمدردی ہو گئی تھی لیکن گلوریا حیرت انگیز طور پر پرسکون ہو چکی تھی۔
میئر ہوپر، اس کی اہلیہ لنڈا اور دوسرے لوگ گلوریا کی ہمت، حوصلے اور صبر کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔ مختلف اخبارات، رسائل اور ٹی وی ریڈیو والے گلوریا سے ملنے کو بے چین ہو رہے تھے لیکن میئر ہوپر اور پولیس چیف ہولی مین نے فی الحال سب سے معذرت کرلی تھی۔ وہ ننھی گلوریا کے ننھے ذہن کو رپورٹروں کے بھاری بھرکم سوالوں سے حتی الامکان بچانا چاہتے تھے لیکن رپورٹرز کیمرے اٹھائے گلوریا کے گھر کے باہر ہی کھڑے رہتے تھے۔
یوں دکھائی دے رہا تھا کہ وہ گلوریا کے انٹرویوز کے بغیر وہاں سے ہرگز ہرگز نہ ٹلنے کا تہیہ کرچکے تھے۔ آخر کار مجبوراً ایک دن میئر ہوپر نے پولیس چیف ہولی مین سے مشاورت کے بعد گلوریا کو رپورٹروں کے سامنے پیش کر ہی دیا، انہوں نے گلوریا سے بیسیوں سوالات کیے جن کا ننھی گلوریا نے نہایت سکون اور حوصلے سے جواب دیا، ایک دو بار اس کی آنکھوں میں نمی ضرور دکھائی دی لیکن لمحے بعد ہی وہ پھر سے با اعتماد اور حوصلہ مند گلوریا نظر آنے لگ گئی تھی۔
اگلے دن کے اخبارات ”ہوم لینڈ کی گلوریا“ کی المناک کہانی سے بھرے ہوئے تھے۔ تمام ملکی و غیرملکی ٹی وی اور ریڈیو چینلز اس کے انٹرویوز نشر کر رہے تھے۔ پوری دنیا میں ہوم لینڈ کی گلوریا کا دکھ پہنچ چکا تھا۔ سب اس سے اظہار ہمدردی کر رہے تھے۔ اس کے گھر کے اندر اور باہر لووں کے بھیجے ہوئے پھولوں کے ڈھیر لگ چکے تھے۔ دنیا بھر سے لوگ اسے کارڈز بھیج رہے تھے۔ ای میل کر کے اس کے دکھ میں شریک ہو رہے تھے۔ ہوم لینڈ کی گلوریا پوری دنیا میں راتوں رات مشہور ہو چکی تھی۔
کئی ملکوں کے صدور اور وزرائے اعظم اور اہم شخصیات نے اپنے نمائندے سوئٹزرلینڈ اظہار افسوس کے لیے بھیجے تھے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف نے گلوریا کو سوئٹزرلینڈ میں اپنی ”اعزازی سفیر“ کا عہدہ دے دیا تھا۔ ایک بین الاقوامی اشاعتی ادارے نے گلوریا کی المناک کہانی ”ہوم لینڈ کی گلوریا“ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کردی تھی اور پوری دنیا میں اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا تھا۔ پبلشر نے اس کتاب سے حاصل ہونے والی ساری آمدنی گلوریا کے بنک اکاؤنٹ میں ڈالنے کا اعلان کر دیا تھا۔
گلوریا اپنے حقیقی ماں باپ کھو چکی تھی لیکن لوگوں کی محبتیں، خلوص اور اور جذبہ دیکھ کر اسے کسی بھی قسم کی کمی کا احساس نہیں ہو رہا تھا بلکہ اسے اپنے آپ پر رشک آ رہا تھا۔ اسی لیے وہ سب کا شکریہ ادا کر رہی تھی لیکن ادھر ایک چیری بھی تھی جو گلوریا کی اس پذیرائی سے جل بھن کر سیاہ کباب کی طرح ہو رہی تھی۔ اس کا یوں اچانک بے پناہ شہرت حاصل کرلینا اسے کسی بھی طور بھی ہضم نہیں ہو پا رہا تھا
جوں جوں وقت گزر رہا تھا۔ توں توں اس کے اندر حسد کی آگ تیز ہوتی جا رہی تھی۔ وہ اب ہر صورت میں گلوریا کے ”برابر“ آنا چاہتی تھی اور اس کے لیے اس کے ننھے شیطانی دماغ نے ایک خطرناک ترین ترکیب بھی سوچ لی تھی۔ بس اب وہ اتوار کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ اس کے ماں باپ کو بھی اس دن ہی چھٹی ہوتی تھی اور اسے بھی، اتوار کی صبح حالانکہ موسم خوشگوار نہیں تھا لیکن چیری نے جھیل پر جا کر پکنک منانے کا اعلان کر دیا، اینڈریو اور جین کے ساتھ پیش آنے والے سنگین حادثے کی وجہ سے ہوم لینڈ کے لوگوں نے جھیل کی طرف جانا بہت کم کر دیا تھا لیکن بھلا ضدی چیری کہاں ماننے والی تھی؟
اس لیے مجبوراً اس کے والدین اس کے ساتھ پکنک کو ہولیے، وہاں پہنچ کر چیری کو اپنا بھیانک منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا نظر آیا کیونکہ وہاں دور دور تک کوئی بھی نہیں تھا۔ واقعی ہوم لینڈ کے لوگ اس جگہ سے خوفزدہ ہو گئے تھے۔ وہاں پہنچتے ہی چیری نے پہاڑی کی اس نکر کو قریب سے دیکھنے کی ضد کرنا شروع کردی، جہاں سے اینڈریو اور جین نیچے گہری کھائی میں گرے تھے۔ پہلے تو اس کا باپ مسٹر مارٹن اور ماں جولیا اس کو ٹالتے رہے لیکن وہ بھی ضد کی پکی تھی۔ آخر کار منوا کر ہی دم لیا اور وہ دونوں چیری کو لے کر وہاں پہنچے۔
چیری کو دانستہ انہوں نے پیچھے ہی رکھا تھا اور وہ بھی یہی چاہتی تھی۔ اس وقت جب اس کا باپ مارٹن اور ماں جولیا عین اس نکر پر ابھی کھڑے ہی ہوئے تھے کہ چیری نے ایک دم انہیں آگے کو دھکا دے دیا اور وہ دونوں چیختے ہوئے گہری کھائی میں گرتے چلے گئے تھے۔
چیری کی خواہش پوری نہ ہو سکی تھی۔ ایک دو اخبارات نے ہی اس واقعے کو شائع کیا تھا اور پڑھنے والوں نے بھی اسے ”گلوریا جیسا واقعہ“ ہی کہا تھا۔ میڈیا کو ”نیا پن“ چاہیے ہوتا ہے یکسانیت نہیں، لیکن نادان چیری کو بھلا یہ بات کون سمجھا سکتا ہے؟ وہ آج بھی مختلف اخبارات و رسائل اور ٹی وی ریڈیو والوں کو خطوط لکھتی ہے۔ فون کرتی ہے۔ ای میل کرتی ہے لیکن کوئی بھی اس کو گلوریا جیسی اہمیت دینے کو تیار نظر نہیں آتا ہے۔ اس لیے اب وہ ہوم لینڈ کی گلیوں میں آنے والے ہر شخص کو روک کر کہتی ہے کہ ”میں ہوم لینڈ کی گلوریا ہوں۔ میں ہوم لینڈ کی گلوریا ہوں“ ۔
اور جب لوگ اسے یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ گلوریا نہیں بلکہ چیری ہے تو وہ غصے میں آجاتی ہے۔ چیختی ہے۔ چلاتی ہے۔ پتھر اٹھا اٹھا کر انہیں مارتی ہے اور پھر پہاڑی کی اس نکر پر بیٹھ کر رونے لگ جاتی ہے اور یہ کہتے کہتے سو جاتی ہے۔ ماما۔ پاپا۔ ہوم لینڈ کی گلوریا میں ہوں نا۔ میں ہوں نا ”۔

