امریکہ میں مقیم چترال کی بیٹی: انسانیت کی خادم
پاکستان میں جون 2022 کے مہینے سے شروع ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں سیلاب سے تباہی آئی ہے، ایک ہزار سے زائد لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بچے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ پر مشتمل فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس سیلاب سے 5 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر، مال، مویشی اور روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور درد و غم کی تصویر بنے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔
لاکھوں خاندان خوراک، خیمے، لباس، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں اور ادویات اور مدد کے منتظر ہیں۔ یہ خدمت خلق کا بہترین موقع ہے۔ اگر آپ رب کو اپنی طرف مائل بہ کرم دیکھنا چاہتے ہیں تو آج اس کی مخلوق سے محبت اور شفقت سے پیش آئیں۔ یہى انسانیت ہے۔ اللہ کی مخلوق کو آج ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ سیلاب زدگان بہت مشکل میں ہیں۔ انہیں ہم سب کی انفرادی و اجتماعی مدد کی ضرورت ہے۔ اس پریشانی کے وقت کون آگے بڑھتا ہے اور دکھی انسانیت کی خدمت کرتا ہے، یہ صرف حکومت کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ معاشرے میں بسنے والے ہر صاحب استطاعت و متمول افراد کے علاوہ نجی اداروں اور این جی اوز کو بھی چاہیے کہ ناگہانی آفت کے موقع پر خلق خدا کی حتی الامکان مدد کرے، دکھی انسانیت کی خدمت معاشرے کے حقوق میں سے ہے۔ گزشتہ سال سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ضلع چترال سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
انسانی معاشرہ مرد اور عورت کے وجود سے تشکیل پاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور فلاح صرف مرد حضرات پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ عورت بھی بحیثیت ایک فرد نہایت اہم کردار سرانجام دیتی ہے۔ یوں تو آج دنیا کی کوئی قوم، کوئی مذہب بھی عورتوں کے مقام و حیثیت اور ان کے سماجی کردار کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ تاہم اسلام نے جس طرح سے عورت کے مقام و مرتبہ کو انسانی معاشرے میں بلند کیا ہے اور عورت کے ہمہ جہت کردار کو مذہبی و اخلاقی اور معاشرتی و سماجی ہر اعتبار سے اہمیت سے ہمکنار کیا ہے اس کی کوئی دوسری نظیر دکھائی نہیں دیتی۔ چترال کی بیٹیاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔
چترال میں سیلاب سے متاثرین کی امداد کے لئے امریکہ میں مقیم چترال آوی سے تعلق رکھنے والی سفیرہ بی بی صدر ماس آرگنایئزیش کی جانب سے وادی یارخون، وادی لاسپور وادی لٹکوہ، تو رکہو، موڑکہو، مڈکلشٹ اور لوئر چترال کے سیلاب زدگان کے لئے بطور تحفہ کمبل تقسیم کیے گئے، یہ صرف چترال کی بیٹی کی جانب سے اپنے علاقے سے محبت کرنے کا اظہار ہے۔ سفیرہ بی بی کا کہنا ہے کہ یہ صرف میرے علاقے کے ان بہن، ماؤں، بھائیوں، بزرگوں کے واسطے میری ایک چھوٹی سی کاوش ہے اس شدید سردی کے موسم میں بعض افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہم سب کو اپنے حصے کا نیک کام کرنا ہی ہے تاکہ اس معاشرے میں انصاف کا توازن برقرار رہے۔
یاد رہے صفیرہ بی بی آج کل یو ایس اسٹیٹ کیلیفورنیا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں ماس آرگنائزیشن کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا ہے اس ادارے کا قیام 2008 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ جبکہ باقاعدہ طور پر اپنے عملی کاموں کا آغاز تین سال سے ایک رجسٹرڈ انٹرنیشنل غیر سرکاری ادارے کے طور پر سرگرم عمل ہے۔
ماس آرگنائزیشن کا مقصد اور وژن صرف ان بچوں کی مالی معاونت فراہم کرنا ہے جو دوران تعلیم مالی کمزوری کی صورت میں انہیں درپیش آتے ہیں، ماس آرگنائزیشن ان بچوں کی تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا خواہان ہے جو انتہائی قابل ہوتے ہیں۔ لیکن مالی کمزوری کی وجہ سے معیاری تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے سکتے ماس آرگنائزیشن ان بچوں کی بہتر اور پائیدار مستقبل کو سنوارنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ ماس آرگنائزیشن کا اس بات پر عمل پیرا ہے کہ معاشرے میں ہر بچہ مختلف صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے، لیکن ان فطری صلاحیتوں کی تکمیل کے لئے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرنا اور ساتھ مالی معاونت سے اس کے فطری صلاحیتوں کو پرکھا جا سکتا ہے۔
تاکہ قوم کے یہ معمار مستقبل میں اس ملک کی تعمیر و ترقی میں بہتر کردار ادا کرسکیں۔ ماس آرگنائزیشن کے ٹیم ممبر امریکہ میں بھی کام کر رہے ہیں ان تمام کارخیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں جبکہ چترال میں بھی ماس آرگنائزیشن کے رضا کار ٹیم ممبر موجود ہیں۔ جو انسانیت کی فلاح اور سماج کی بہتری کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔
اس سوچ اور مثبت رویے کے ساتھ صفیرہ بی بی نے گزشتہ تین سالوں سے باقاعدہ طور پر چترال کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے جو اس اسکالرشپ کے مستحق ہیں۔ وادی لاسپور سے لے کر وادی یارخون اور چترال کے مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہے۔ وہ ان بچوں کی سرپرستی کر رہی ہے جو اس وقت چترال کے مختلف سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔


