نظری تصوف : اک تعارف (1)
جدیدیت کے پیدا کردہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس نے عقلی علوم خاص طور پر فلسفہ اور سماجی علوم میں جدید سائنس سے کافی اثر قبول کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ گزشتہ چار صدیوں میں سائنس کی انگنت ایجادات اور قدیم فلسفیانہ نظریات کی شکست و ریخت کے بعد ان میں رد و بدل ہونا ہے۔ قدیم یونانی فلسفے نے مسلم زریں دور میں کئی صدیاں اہل عقل و دانش کی رہنمائی کی۔ کہیں یہ فلسفہ قدیم استادوں یعنی ارسطو اور افلاطون اور فلاطینس وغیرہ کی حمایت میں پروان چڑھا تو کہیں ان پر نقد کر کے اس میں اضافے کا باعث بنا۔ ایسے ادوار بھی آئے جس میں فلسفیوں کو زندیق کہا گیا اور سائنسدانوں کی رصد گاہوں کو جلا کر راکھ کیا گیا اور کتب خانے دریا برد کیے گئے۔ لیکن بڑے ذہنوں نے اس علم کو تباہ ہونے سے بچائے رکھا اور اس کی پرورش بھی کرتے رہے۔
چونکہ مسلم حکومت اور عقائد میں فلسفہ ایک حجت کی حیثیت اختیار نہیں کر سکتا تھا اس لئے اسے ہمیشہ ثانوی حیثیت میں ہی دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مسلم شعور میں غزالی کا مقام الفارابی یا ابن سینا سے بلند تر نظر آتا ہے۔ ایسے حالات میں یہ عین ممکن تھا کہ حقیقت اور حکمت کی تلاش کا کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے جس سے عقل کو وحی اور تجربے کو وجدان یا روحانیت کے تابع کر کے دکھایا جائے۔ اس مہم میں غزالی کے علاوہ اہم کردار ابن عربی، سہروردی اور بعد ازاں ملا صدرا وغیرہ نے ادا کیا۔ یاد رہے شیخ الرئیس ابن سینا کی اشارات بھی ایسے علم حضوری کے اشارات سے بھری پڑی ہے جن کا اخفاء کسی کشف کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا ۔
اہل تصوف کی کتب جیسے عثمان ہجویری (المعروف داتا صاحب) کی کتاب کشف المحجوب یا ابن کی فتوحیات مکیہ یا مجدد الف ثانی کے مکتوبات ربانی سے لے کر سلطان باھو اور شاہ ولی اللہ وغیرہ سب کے ہاں کشف و مجاہدات کے ساتھ ساتھ ایک علمی بیانیہ بھی ملتا ہے۔ اسے بعض اوقات نظری تصوف یا عرفان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس میں صوفی حقیقت کا ادراک بلاواسطہ عقل کرتا ہے۔ اگرچہ کچھ جدید تشریحات میں ان کے معروضات کو جدید ذہن کے لئے قابل فہم بناتے ہوئے کشف اور وجدان ہی کو عقل سلیم یا عقل اول وغیرہ کا نام دیا جاتا ہے۔
ایک گروہ ایسا بھی ہے جو صوفیاء کی تکفیر کرتا رہا ہے جیسے ابن تیمیہ وغیرہ جس نے ابن عربی کی تکفیر کی اور اسے زندیق قرار دیا ہے۔ موجودہ دور میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو صوفیاء کا سراسر انکار کرتے ہیں اور یوں اسلام کی اپنی تشریح ہی کو دیگر تمام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ وہ شاید یہ قبول کرنے کو تیار نہیں کہ ہر شخص اپنی استعداد اور مزاج کے مطابق حقیقت کا ادراک کرنا چاہتا ہے۔ اور صدر اول ہی سے مسلم شعور میں ایسے واقعات اور ایسی شخصیات موجود رہی ہیں جن کے ہاں مکشوفات اور مشاہدات پر مبنی ایک بیانیہ موجود رہا ہے۔ اور اب تصوف ایک باقاعدہ ادارے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کی اپنی حسیات اور فنون لطیفہ ہیں اور ایسے ہی ایک نظام کار ہے جس کے ساتھ پوری ایک عمارت وابستہ ہوتی ہے۔ اسے بعض لوگ خانقاہ یا درگاہ کا نام دیتے ہیں۔ بالکل جیسے دیگر دینی علوم یعنی فقہ و تفسیر وغیرہ کے لئے مدارس موجود ہوتے ہیں۔
سولہویں صدی عیسوی تک مسلم شعور ان تمام مراحل یعنی پیغمبر اسلام ﷺ کی آمد اور قرآن کی تکمیل اور بعد ازاں حدیث کی تدوین اور مسلم حکومت کا قیام اور علم کلام و فقہ و تصوف وغیرہ طے کر چکا تھا۔ دنیا بھر کے علوم خاص طور سے ہند کے افکار و علوم، چینی تکنیکی علوم، یونانی علم فلسفہ، بابلی علوم ہندسہ اور ایرانی مابعدالطبیعات وغیرہ کے تراجم اور ان پر کثیر تعداد میں شرحیں لکھی جا چکی تھی۔ اسکندریہ کے کتب خانے اور فلاطینس کی اپنشدوں سے واقفیت نے افلاطونی یوٹوپیا کو مذہبی بیانیہ میں ملفوف کر کے عربوں تک پہنچا دیا تھا۔
آفرینش کائنات سے لے کر معاد کے مسائل اور جزا و سزا اور جبر و قدر کے دقیق موضوعات پر سیر حاصل ابحاث موجود تھے۔ معتزلہ و اشاعرہ کی کلامی بحثوں اور ملاؤں کے فتووں اور بعد ازاں غزالی کے فلسفہ یونان پر حملوں نے عقلی علوم میں دراڑیں ڈالنا شروع کر دیا ہوا تھا۔ قدیم ایرانی مابعدالطبیعات نے سہروردی کے اشراق اور سریانی مابعد الطبیعات نے ابن عربی کے وجود کو متاثر کر رکھا تھا۔
ابن عربی سے پہلے حسن بصری سے لے کر بایزید بسطامی، رابعہ بصری، جنید بغدادی، ذالنون مصری، شبلی و منصور وغیرہ نے حلول، تجلی اور کشف و الہام کے بارے اپنی اپنی آراء کو اپنے حلقوں میں پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ لیکن یہ سب مواد دسویں صدی عیسوی تک ایک بکھری ہوئی شکل میں موجود تھا۔ اور اس عہد تک صوفیوں کی زیادہ توجہ عشق الہی اور باطنی مشاہدات تک محدد تھی۔ جیسے کہ رابعہ بصری نے عشق الہی، بسطامی نے فنا و بقا، محاسبی نے نفسی محاسبہ، جنید بغدادی نے تزکیہ، ذالنون مصری نے معرفت اور منصور حلاج کے استاد سہل طشتری وغیرہ نے حقیقت محمدی اور انسان اور خدا کی وحدت کی باتیں کر رکھی تھیں۔
دسویں صدی تک یہ صوفیاء اپنے محدود دائروں میں ہی اپنے مریدوں کو ان مجاہدات و مکاشفات سے آگاہ کیا کرتے تھے۔ لیکن گیارہویں صدی عیسوی اور اس کے بعد سے صوفیاء نے اپنے ملحقین اور منہج طریقت پر اٹھنے والے شبہات اور اشکالات کا ازالہ کرنے کے لئے بڑی تعداد میں کتب تحریر کرنا شروع کر دیا۔ یہیں سے نظری تصوف کی بنیاد پڑنا شروع ہوئی۔
یاد رہے اسی عہد تک مسلم ذہن کے بڑے بڑے نام یعنی البیرونی، ابن الہیشم، الرازی اور حنین ابن اسحاق وغیرہ نے علم ہندسہ، فلکیات، طبیعات، کیمیا اور طب وغیرہ میں کافی اہم پیشرفت کر لی تھی۔
چونکہ اس مضمون کا دائرہ کار علمیات (تصور علم) اور نظری تصوف میں اس کے کردار تک محدود ہے لہذا ہم اب اس اہم جہت سے اہل تصوف کی تحریروں اور نظریات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ گیارہویں صدی عیسوی تک اہل تصوف نے اپنے نظریات کو قلم بند کرنے کے ساتھ ساتھ ایک منظم و جامع علمیات میں ڈھالنے کا کام شروع کر دیا تھا۔ جیسا کہ ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا ہے (1) ،
” صوفیاء نے معرفت، ترک دنیا اور زہد سے آغاز کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک خاص فکر کو پروان چڑھایا جس کا منبع روحانی مشاہدات تھے“
یہاں یہ یاد رہے کہ ہمارا مقصد اسی ”فکر“ پر بات کرنا ہے نہ کہ تصوف کی عملیات پر اور اسی لئے ہم صرف ان کتابوں اور اصحاب کا ذکر کریں گے جو نظری جہت سے اہم ہیں۔ مزید یہ کہ ان کتابوں اور نظری تصوف کی تاریخ کی تفصیلات کے لئے بہت سا مواد آن لائن یا دیگر تاریخی کتب میں موجود ہے اس لئے تفصیلات کی بجائے ہم صرف ان کا مختصر ذکر کریں گے اور بعد ازاں ان کی تعلیمات کے اہم نکات پر ہی اکتفاء کریں گے۔ نظری تصوف یا علمی تصوف کا تعارف کرواتے ہوئے سید حسین نصر لکھتے ہیں (2) ،
” اسلامی روایت میں ایک ایسا علم بھی پایا جاتا ہے جو علم کی اصل تعریف کے لحاظ انتہائی علمی ہے۔ یہ علم نہ تو کلام ہے اور نہ ہی فلسفہ، اگرچہ یہ ایک دوسرے تناظر میں علم کلام و فلسفہ کے کئی مضامین سے بحث کرتا ہے۔ اس علم کو عربی میں التصوف العلمی کا نام دیا جاتا ہے جو کہ عملی تصوف سے مختلف ہے۔ اسے بعض اوقات نظری تصوف یا عرفان یا فارسی دنیا میں عرفان نظری بھی کہا جاتا ہے۔ اس علم کے طالب اور استادوں نے اسے ہمیشہ اعلی درجے کا علم قرار دیا ہے اور اسے ہی ہم مقدس سائنس کہتے ہیں“
اگلے مضمون میں ہم نظری تصوف کے دو اہم مکاتب فکر یعنی مکتب خراسان اور مکتب بغداد کے نمائندگان اور نظریات پر بات کریں گے۔ (جاری ہے )
1. Ibn Khaldun, The Muqaddimah, An Introduction to History, (translated.) Franz Rosenthal, Vol. 3, London, 1958, p. 76.
2. Transcendent Philosophy 1, 1-36, London Academy of Iranian Studies, p. 1



Thank you for writing this Ali jee