تاریخ اور ہم
کچھ وقت پہلے ایک ڈاکیومنٹری دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں کچھ قدیم تاریخی بلکہ مقدس چیزوں کی حقیقت کا فرانزک سائنس اور آثار قدیمہ کے ماہرین کی مدد سے جائزہ لیا گیا۔ اس ڈاکیومنٹری کے بارے میں تو خیر آگے چل کر بات ہوگی فی الحال تاریخ پر ہی تحریر مرکوز رکھتے ہوئے بڑھتے ہیں۔ تاریخ کی بدقسمتی ہے کہ اسے اکثر اوقات تاریخ نویس ٹھیک نہیں ملے۔ انہوں نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ جب مذہبی تاریخ کی بات آتی ہے تو حقیقت کو افسانے سے الگ کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ افسانے بھی آگے چل کر عقیدے کا حصہ تصور ہونے لگتے ہیں۔
تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ زیادہ تر تاریخ نویس نیوٹرل نہیں تھے۔ اس لیے نہیں کہ نیوٹرل جانور ہوتا ہے بلکہ اس لیے کہ غم روزگار اور مقتدر حلقے ہر دور میں ہی با اثر رہے ہیں۔ یہ آج کا ہی المیہ نہیں ہے بلکہ ہر دور کے زمینی خداؤں کی یہی فطرت رہی ہے کہ لوگ وہی سنیں، دیکھیں اور سمجھیں جو وہ چاہتے ہیں۔ وہ چاہیں تو بہادر کو بزدل اور چاہیں تو بزدل کو بہادر لکھ دیا جائے۔ سچ ان کی ایماء پر جھوٹ اور جھوٹ ان کی رضا پر سچ بنا دیا جائے۔ تاریخ کی بڑی بڑی کتابیں اپنے اپنے وقتوں کی مطالعہ پاکستان رہی ہیں۔
تاریخ شناسوں کا ماننا ہے کہ تاریخ میں کئی مرکزی کردار گم نام رہ گئے اور کئی مخالف کرداروں کو مرکزی کردار کے اعزاز سے نوازا گیا۔ آج کے نیوز چینلوں، اینکروں اور یوٹیوبروں کی طرح ماضی میں مورخین بھی شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار رہے ہیں۔ عوام کے مسائل اور ان کی تکلیفوں کے بجائے شاہ کی شان بیان کرنے، ان پر قصیدے پڑھنے اور مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کا کام کرتے رہے ہیں۔ ہر حملہ آور کو مسیحا اور شکست خوردہ کو کرپٹ و نا اہل ثابت کرتے رہے ہیں۔
مہذب معاشروں نے تو بالآخر اپنی تاریخ کو کھنگال ڈالا ہے لیکن ہمارے ہاں حملہ آوروں اور ان کے خوشامدیوں کی لکھی ہوئی تاریخ آج بھی مقدس مانی جاتی ہے جس پر چوں چرا کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ 1992 میں امریکہ کے قدیم باشندے کولمبس کی شان میں ہونے والے پروگرام کی مخالفت میں کھڑے ہو گئے اور اسے ہیرو نہیں بلکہ مقامی تہذیب و تمدن کو مٹانے والا ظالم و غاصب قرار دیا۔ لیکن جس ملک میں بابائے قوم کی جائے پیدائش بھی بدل دی جائے، یوم آزادی کی تاریخ پر بات سینسر ہو جائے، جہاں جناح پر تحقیق کرنے سے ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہو وہاں کسی غزنوی کو کون جگر مراد آبادی کا شعر سنائے کہ
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
نظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیا
یا پھر حجاج پر کون سوال اٹھائے کہ سندھ پر حملہ مبینہ مظلوم لڑکی کی صدا پر فی سبیل اللہ تھا یا تجارتی مفادات کی نشو و نما اور تحفظ کی کامیاب مہم۔
جہاں نصابی کتابوں کے مصنفین کو نسلی و جنسی امتیاز کا بھی ادراک نہ ہو وہاں کوئی کیا سر پیٹے کہ فزکس اور اسلامیات دو الگ الگ مضامین ہیں۔ جہاں سیاست بھی ”مذہبی ٹچ“ کے بغیر نہیں چلتی۔ جہاں کچھ جدید خودساختہ ولی اللہ آئے دن طاقتور عہدیداروں کی شان میں مقدس خواب بیان کرتے ہوں وہاں تحقیق و تنقید کی گنجائش کہاں باقی رہتی ہے۔ بقول بابا رنچھوڑ داس آف تھری ایڈیٹس ”اگر کوئی بحث میں ماں کی ساڑھی کو لے آئے تو پھر کیا بحث ہو سکتی ہے؟“
بہرحال جس ڈاکیومنٹری کا اوپر ذکر ہوا وہ ہے ”فائنڈنگ جیسس: فیتھ، فیکٹ، فورجری“ ۔ اس میں چھ قدیم تاریخی بلکہ مقدس چیزوں کی حقیقت کا جائزہ لیا گیا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی نشانات کا سراغ فراہم کر سکتی تھیں۔ ڈاکیومنٹری میں جدید ترین سائنسی تکنیکوں اور آثار قدیمہ کی تحقیق کو بروئے کار لاتے ہوئے جعل سازوں اور دھوکے بازوں کے افسانوں سے حقائق کو چھانٹنے کی کوشش کی گئی ہے اور دلچسپ نتائج دریافت کیے گئے ہیں۔
یہ متجسس لوگوں کے لیے ایک اچھی تحقیق ہے۔ جب تاریخ عقیدے سے جڑی ہو تو اسے موضوع بحث بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی جرات تو صرف وہاں کے لوگ ہی کر سکتے ہیں، ہم نہیں۔ مذہبی تاریخ تو دور فی الحال تو ہم ملکی تاریخ پر بھی بحث نہیں کر سکتے۔ حالانکہ اس جدید دور میں سائنسی تکنیک کی مدد سے سچ جاننا بچوں کا کھیل بن چکا ہے لیکن؛
جس کو ہو دین و دل عزیز
اس کی گلی میں جائے کیوں؟
۔ ۔ ۔ ۔


