کتاب: عجائب خانہ

کتاب: عجائب خانہ
مصنف: عرفان جاوید
تبصرہ: عرفان علی ڈنور
مجھے ایک جنون تھا کہ میں خاکہ لکھنا سیکھوں سمجھوں اور یہ تلاش مجھے ”دروازے“ تک لے کر گئی۔ ”دروازے“ درحقیقت دروازے ثابت ہوئے۔
یہ دروازے کھل گئے، میں نے عرفان جاوید صاحب کی تحریر و تصنیف کردہ دوسری کتابیں جن میں ”سرخاب“ ، عجائب خانہ اور کافی ہاؤس شامل ہے منگوائیں۔
میں نے پڑھنا شروع کر دیا ان کتابوں کو ترتیب وار، تو جب میں نے کتاب ”عجائب خانہ“ مطالعے کے لیے اٹھائی، جسے سنگ میل پبلشرز نے شایع کیا ہے، اس کتاب کا کاغذ قدرے چوڑاہٹ اور کشادگی رکھتا ہے، جو کتاب کی جلد ہے اس پر شروع میں عرفان جاوید صاحب کی تحریر اور تصنیف کے بابت بہت ہی بڑے لوگوں کے تاثرات درج تھے۔ مرعوب ہی ہو جائے نہ بندہ اگر شکیل عادل زادہ صاحب یا گوپی چند نارنگ کسی کی تعریف کریں اور رکمینڈیشن دیں۔ لیکن کام خود بھی بولتا ہے بات کرتا ہے۔ عرفان جاوید صاحب وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور یہ مطالعہ اب تک گھل کر ان کی شخصیت میں گھر کر چکا ہے یا ان کی طبیعت اور مزاج کا خاصہ بن چکا ہے۔
میں نے کوئی 12 مئی کو یہ کتاب پڑھنی شروع کی۔ ویسے اس 12 مئی کی بھی پاکستان کی تاریخ میں اپنی ہی ایک الگ حیثیت، حقیقت اور اہمیت ہے۔
یہ کتاب مضامین پر مشتمل ہے۔ موضوعات لیے گئے ہیں اور ان پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔
یہ ساری معلومات، بلکہ مفید تر معلومات جو ہمیں بڑے ذرائع وکیپیڈیا، گوگل اور مخلتف کتابوں کو کھنگالنے کے بعد ملتی ہے۔ وہ ہمیں اس 264 صفحات پر مشتمل کتاب میں مل جاتی ہے۔ اور انداز بھی ایسا سہل کہ کیا کہنے۔ جس طرح آپ اور مصنف کچہری کر رہے گپ شپ کر رہے بالکل ایسے ہی۔
دروازے کے بعد عجائب خانہ، جو کتاب کا نام ہے وہ واقعی مناسبت سے رکھا گیا نام ہے کہ کتاب کھولیں اور آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ درحقیقت کسی عجائب خانے میں موجود ہیں۔
یہ تو ایک نیکی محسوس ہوئی کہ اتنے ڈھیر سوالات کے جوابات، اتنی زیادہ، عمدہ اور تعمیری معلومات، بہت سارے زاویہ نگاہ سے تجزیہ کی ہوئی باتیں۔ مشورے، آراء، زندگی کے میدان میں ہوں یا صحت، جنس ہو یا غذا، جانور، ضرب الامثال محاورے، فن، فکشن، نثر و نظم کے وسیع و عریض میدان میں کئی ایک نامور محققین، سائنسدانوں، ادیبوں، شاعروں، فلسفیوں اور روایت کا ایک بہتا ہوا چشمہ محسوس ہوئی یہ کتاب۔
ذرا فہرست ہی دیکھیے کہ بنا پڑھے آپ رہ نہیں سکتے۔ مناسب اور خوبصورت فونٹ سائز میں چھپی یہ کتاب ادب کی دنیا کی ایک ایسی خدمت ہے کہ آپ کی بس سوچ ہے فقط۔
کتنی ڈھیر ساری باتیں اور سہل انداز میں بیان کی گئی باتیں اس بات کی طرف واضح اشارہ ہیں اس عمل کا واضح ثبوت بھی ہیں کہ مصنف کتنا مطالعہ کرتے ہیں۔ کسی طرح عرق ریزی سے کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں کتاب بینی بھی ایسی کہ بندہ خودبخود سبحان اللہ کہہ اٹھے۔
کتنے محسنین انسانیت کا تذکرہ بڑی روانی سے کر گئے ہیں۔ میں نے سوچا تھا کہ مصنف شاید بہت ہی معصوم ہیں۔ ان سے چالاکی نہیں ہو پائی تحریر لکھنے کے شوق و ذوق میں وہ ایک خزانہ اپنے قارئین کے حوالے کر بیٹھے ہیں اور وہ بھی مفت میں۔
لیکن مصنف بڑے ہی زیرک ہیں، وہ جاودانی کے فن سے آشنا ہیں، انہوں نے بڑی ہی سادگی اور معصومیت کے ساتھ اپنے آپ کو ادب و تاریخ میں امر کر لیا ہے۔ انہوں نے امرت پی لیا آب حیات چکھ لیا ہے۔ قیمتی معلومات، بیش بہا اقوال، حوالہ جات اور تذکرے ایک ہی کتاب میں کہاں ملتے ہیں!
ایدھی صاحب کی مثال سے شروع کرتے ہوئے باتوں کا ایک جال بنتے جاتے ہیں جس میں خوش ونت سنگھ کا ٹانکا بھی ہے تو دیوان مفتون سنگھ کا جوڑ بھی ہے، ایڈورڈ اسٹینلے بھی ہیں تو احمد ندیم قاسمی صاحب بھی۔
یہ کتاب واقعی عجائب خانہ ہے۔ اس میں بہت سارے موڑ ہیں راہداریاں ہیں، اور گلیاں ہیں،
یہ گلیاں، یہ راہداریاں اور موڑ وہ اہم سنگ میل ہیں جہاں ادب کے لافانی دیوتا کھڑے باتیں کرتے بلکہ باتیں بتاتے نظر آئیں گے آپ کو، بولتے ہیں وہ، آپ کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔ عبداللہ حسین نظر آئیں گے، چرچل بھی قیلولہ کے فوائد بتاتے نظر آئیں گے۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب صحت اور بیماری پر بات کرتے نظر آئیں گے تو ادب کی گہرائیاں بیان کرتے ہوئے بھی۔ نیلسن منڈیلا، ڈاکٹر گیری میئر، چارلس ڈکنز، رالف والڈو ایمرسن، نطشے، کرل یونگ، فرانز کافکا، ورجل بورخیس، مہاتما بدھ، ایڈیسن، سقراط، بقراط، ارسطو، افلاطون، فیودور دوستوفسکی، انتنچیخوف، ماپاساں، میکسم گورکی، برٹرینڈ رسل، یہ نہیں کہ اسلامی اسلاف کو نظر انداز کیا ہے بلکہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم و اجمعین کا تذکرہ ہے صوفیاء کرام کے ملفوظات ہیں اور علامہ اقبال اور قائد اعظم کی مثالیں ہیں
خوراک کی، صحت کی مذہب اور انسانی تاریخ کے تواتر سے حوالے پیش کرنا اور بالکل ترتیب کے ساتھ تاریخی کتب کے مصدقہ حوالہ جات سن اور جگہوں کا بیان ایک دلکش اور حسین سنگم محسوس ہوتا ہے تحریروں کا، الفاظ کا، شیرینی میں گھلا ہوا حلیم سا انداز، وہ کہتے ہیں کہ
انداز بیان اگر چہ میرا شوق نہیں
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
میں شدید ترین متاثر ہوا اس مطالعہ کرنے کی عادت سے۔ یہ ایک بندہ کتاب در کتاب سفر کرتا محسوس ہوتا ہے جیسے کرسی پر بیٹھے ہوئے انہوں نے ورق ورق دل میں اتارا ہے اور ساتھ ہی اتنے عظیم ادیبوں کے ساتھ شناسائی، نشستیں اور گفتگو ہو تو بندہ ادیب بن کر ہی تیار ہو جائے یہ آسان بات بھی نہیں لیکن عرفان جاوید صاحب نے یہ کر دکھایا ہے۔
محاورات اور مختلف کہاوتوں سے مزین کی گئی نایاب تحریروں کا پلندا ہے یہ کتاب آپ کھو جائیں گے پہلا پنا پلٹانے کے بعد بھول بھلیاں ہیں یہاں سے وہاں وہاں سے یہاں۔
ہر موضوع کے آخر میں ببلو گرافی موجود ہے کہ کن کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ مجھے یہ کتاب پڑھ کر کلدیپ نائر کی کتاب ”ایک زندگی کافی نہیں“ والا ٹائیٹل یاد آ گیا کہ
میں چند اقتباسات پیش کروں گا
خوش ونت سنگھ کہتے ہیں : دان پن، خیرات اور امداد دل کھول کر کریں۔ یہ روح کو صاف کرتے ہیں۔ ویسے بھی انسان اپنے مال و متاع ساتھ لے کر تو نہیں جاتا۔
ہم قدرت کے بیچ رہنا پسند کرتے ہیں اس لیے بھی کہ یہ ہمارے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کرتی۔ نطشے یہ خوبصورت بات کہتے ہوئے مسکراتا نظر آئے گا۔
دوسروں کی ہر وہ شے یا عادت جو ہمیں غصہ دلاتی ہے دراصل ہمیں اپنے آپ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ”
کارل یونگ
درختوں اور پودوں کی ابتدائی ساخت ان کے اجناس اور فوائد ہر سیر حاصل گفتگو آئے ہائے ے ے کیا ہی بات ہے۔
پھر غذاؤں کا تذکرہ کے ملکوں ملکوں غذاؤں کا جو استعمال ہے۔ جکر کر سکندر اعظم سے شروع کر لیں آج تک لاہور کی فوڈ اسٹریٹ جیسے وہیں سے پھیلی ہوئی ہے سکندر اعظم کے زمانے سے یہاں تک ایک ارتقاء ہے غذاؤں کا کھانوں کا تراکیب کا ہر ملک کی غذائیں اور پکانے کے طریقے الگ ہیں کون سی غذائیں صحتمند توانا بناتی ہیں کون سی نقصان دہ ہیں۔ پھر ہندوستان اور پاکستان کے جو دسترخوان ہیں ان کا تذکرہ ہی منہ میں پانی لے آتا ہے چٹخارے دار کھانے جو لذیذ اور ذائقہ سے بھرے ہوتے ہیں۔ سبزیاں، گوشت، کڑی بوٹیاں اور میوا جات سب کا ذکر شامل ملے گا
ابن بطوطہ بتاتے ہیں یہیں کسی جگہ پر کہ
پان منہ کو خوشبودار بناتا ہے۔ بدبو دور کرتا ہے اور کھانا ہضم کرتا ہے
بہادر شاہ ظفر کو یہاں تک کہا گیا کہ
صلح کر لیجیے، کیوں کہ اس سے آپ کی ایک پلاؤ کی طشتری کہیں نہیں جائے گی۔
اور ایسا تھوڑی کے کہ محدود تذکرے ہوں تمثیلیں ہیں موازنہ کیا گیا ہے ملکوں کا ملکوں کے ساتھ تہذیبوں کا تہذیبوں کے ساتھ ثقافتیں زبانیں کیا ہی شیرینی گھلا رہی ہیں تحریروں میں۔ لکھتے ہیں
1830 تک برطانیہ میں عورتوں کا ریستوراں جانا برس سمجھا جاتا تھا۔
یہ دیکھیے مصنف کا مطالعہ اور تحقیقی کام ماشاءاللہ
اور دیکھیں معلومات ہی معلومات
” یورپ میں چودھویں صدی عیسوی میں ناشتے کا آغاز ہوا۔
سترہویں صدی میں فرانس میں ڈائننگ روم کا آغاز ہوا
1860 میں کھانا اینٹوں کے چولھے پر آگ سے پکایا جانے لگا۔
1913 میں برطانوی ماہر دھات ہیری بریئرلی نے اتفاقاً اسٹین لیس اسٹیل اینڈ کر لیا۔
زندگی، درخت، اسیر شکم، غذا ابتدا انتہا، سفید کوے، زمانہ، وقت کا حیرت کدہ، جنس، فکشن کیوں پڑھا جائے، شاعری، نثری تخلیقات، جیسے دقیق موضوعات پر سیر حاصل گفتگو، مختلف زاویوں سے تحقیقات اور تنقیدی نظریات، ایک جہان فسوں ہے جو 264 صفحات میں موجود ہے۔ ورق در ورق آپ پر یہ فسوں چھاتا جائے گا۔ معلومات اور آگہی کا ذخیرہ۔ موتی بکھرے پڑے ہیں آپ چنتے جائیے۔ ایک چھوٹی سی کتاب میں مصنف کی سخاوت کا کھلم کھلا مظاہرہ آپ پہلی بار دیکھیں گے۔ یہ معصومیت ہے مصنف کی یا دیدہ دلیری۔
واقعی کتاب ایک عجائب خانہ ہے نہ جدید اور دوم ادوار کا ہر بات میں موازنہ اور مثالیں اور حوالے اس قدر تواتر اور ترتیب کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کہ یہ ایک کتاب پڑھ کر بندہ ایک ضخیم قسم کی معلومات کا حامل بن جاتا ہے۔
یہ خزانہ ایسا ہے کہ معلومات، اسلوب، تحریر اور ترتیب کا بھی ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ مجھے تب ہوش آیا جب میں اس عجائب خانہ میں گھوم پھر کر محو حیرت تھا کہ آخری ورق تمام ہوا اور میں ایک سوچ میں گم ہو گیا کہ کون سی دنیا اصلی ہے۔ وہ جو کچھ دیر پہلے میں جہاں موجود تھا یا یہ جہاں اس وقت موجود ہوں، فریب ہیں دلفریب، حقیقت سے زیادہ حقیقت کا عکس خوبصورت ہوتا ہے۔ عرفان جاوید صاحب دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو خوش و خرم رکھے۔ اللہ پاک اور زیادہ استقامت عطا فرمائے کہ آپ ایسے شاہکار خاکے، موضوعات اور کہانیاں یا افسانے اپنے قلم سے تحریر کر کے قارئین کو ہوشربا خزانوں کو گھر بیٹھے حاصل کرنے کا سبب بن جائیں۔
آپ پر خدائے واحد بزرگ و برتر کی رحمتیں ہوں اور یہ تحریر پڑھنے والے احباب اس کتاب کو ضرور پڑھیں تاکہ آپ بھی استفادہ حاصل کر سکیں۔

