محبت میں سب جائز ہے!


رینا نے مبوتے کے ماتھے پہ لمبا بوسہ دیا، کافی دیر تک اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا۔ پھر تیزی سے کمرے سے باہر نکل آئی۔

کلینک سے باہر نکل کروہ تیز تیز خاموش قدموں سے بس اسٹاپ پہ آ کر کونے میں بیٹھ گئی۔ بسیں آ رہی تھیں، بس اسٹاپ پہ رکتیں اور پھر اگلے اسٹاپ کی طرف چلی جاتیں۔ ’اب میری زندگی کا اگلا اسٹاپ کون سا ہے؟ ‘ یہ سوچ کر اسے ایک جھرجھری سی آئی اور اب وہ بیٹھی بیٹھی تیزی سے پیچھے کی طرف جا رہی تھی۔

دو سال پہلے ایک بس اسٹاپ پر ہی اس کی مبوتے سے ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں صبح چھے بجے کر پچاس منٹ والی بس کا انتظار کرتے۔ عام طور پہ رینا جب بس اسٹاپ کے لئے سڑک عبور کرتی تو مبوتے وہاں پہلے سے موجود ہوتا۔ وہ رینا کو دیکھ کر ضرور مسکراتا اور رینا بھی محض جواب میں رسمی طور پہ مسکرا دیتی۔ رینا کبھی کبھی مبوتے کو تجسس سے دیکھتی؛ سیاہ فام، کھلاڑی جیسا جسم، چوڑے کندھے، چہرے پہ ایک دبی دبی سی مسکراہٹ۔ پھر اس نے کنکھیوں سے یہ بھی دیکھ لیا کہ اس کی انگلیوں میں کوئی انگوٹھی نہیں تھی۔

رینا کوئی دل پھینک عورت نہیں تھی، اسی لئے پچیس سال کی ہو کر بھی اس نے کسی سے عہد و پیمان نہیں کیے اور ہر ممکن کوشش کی کہ کہیں اس کی زندگی محبت کی زنجیروں میں نہ الجھ جائے۔ کبھی کبھار وہ سوچتی کہ شاہد وہ اتنی خوبصورت نہیں تھی کہ مبوتے اس کی طرف مائل ہو۔ دن مہینوں میں ڈھلتے رہے۔ مبوتے ہفتے میں اکثر ایک دو روز اس بس اسٹاپ پر نہیں ہوتا تو نجانے کیوں رینا کی آنکھیں اس کو ڈھونڈتی رہتیں۔

’میں ایسا کیوں کر رہی ہوں۔ میں ہرگز اتنی کمزور نہیں ہوں، یہ صرف ایک سیاہ فام باشندے کے لئے میرا تجسس ہے! ‘

رینا ہمیشہ مبوتے کے بعد بس میں سوار ہوتی اور مبوتے سے پرے کسی سیٹ پہ بیٹھتی۔

معمولی شکل و صورت کی حامل رینا نے کبھی خود کو پر کشش بنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اپنے ناخنوں کو لمبا اور ملائم رکھنے، ان پر پالش کی سجاوٹ کے علاوہ اسے بننے سنورنے کی خواہش نہیں تھی۔

’میں ایک آزاد شخص ہوں کیوں خود کو میڈیا کی بنائی ہوئی عورت کی امیج میں ڈھالوں۔ مجھے اگر کسی مرد نے پسند کرنا ہے تو آنکھوں، لبوں اور جسم کی ساخت کی وجہ سے پسند نہ کرے بلکہ میرے ذہن، میری عادات، میرے شوق کی وجہ سے مجھے پانا چاہے۔ ‘

ایک دن، ایک عام سا دن، گہرے بادلوں کی رنگت میں چھپی ہوئی صبح جس نے بس کو بھی کہیں چھپا دیا تھا۔ رینا نے معنی خیز نظروں سے مبوتے کی طرف دیکھا لیکن وہ بڑے سکون سے بادلوں کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے اسے بس کا نہیں بلکہ بادلوں کا انتظار تھا۔ ایک دو اور لوگ بھی انتظار سے تنگ آ کر فون پہ باتیں کر رہے تھے۔ رینا مبوتے کے قریب آ کر بولی۔ ’میں ٹیکسی منگوا رہی ہوں ٹرین اسٹیشن تک کے لئے۔ وہاں سے میں اپنے کام پہ جانے کے لئے ٹرین لے لوں گی۔ کیا آپ ٹیکسی کو شیئر کرنا پسند کریں گے؟‘

اس ٹیکسی کے بیس کلومیٹر کے سفر نے رینا کی زندگی کے سفر کا رخ موڑ دیا۔ پھر روز بس اسٹاپ پہ بات چیت ہوتی اور وہ دونوں بس میں ساتھ ساتھ بیٹھنے لگے۔ اور پھر ان کی زندگی میں کافی ہاؤس، ریسٹورنٹ، ویک اینڈ میں ملنا بھی آہستہ آہستہ شامل ہوتا گیا۔

پہلی بار رینا کو محسوس ہوا کہ اس کی زندگی اس کے اختیار میں نہیں تھی بلکہ وہ وقت کے دھارے میں بہتی جا رہی تھی، جذبات سے بھرپور زندگی جو اسے زمین سے اٹھا کر کسی اور سیارے میں پہنچا دیتی تھی اور واپس اسے زمین پہ آنے کے لئے کتنی جد و جہد کرنا پڑتی! اسے کبھی کبھار خود پہ غصہ آتا لیکن اب وہ تو مبوتے کی نرم اور سریلی باتوں کی عادی ہو چکی تھی، اس کی گہری سوچ سے متاثر ہو چکی تھی، اس کے ساتھ شب و روز گزارنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔

اس کے منظم دن رات اب ہر ترتیب اور وقت کی پابندیوں سے آزاد تھے اور وہ مبوتے کی محبت کی غلام بن گئی تھی۔ سلسلے اور بڑھے تو وعدوں تک بات پہنچ گئی۔ شادی جس کو پہلے ایک بندھن سمجھتی تھی اب وہ خود اس دن کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔ پھر وہ سوچتی۔

’کیا میں اس طرح کے بندھن کو نبھانے کے قابل بھی ہوں کہ نہیں! کیا میں ہمیشہ کے لئے کسی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتی ہوں؟‘

جب بھی اس کے منہ سے انجانے میں ایسی کوئی بات نکل آتی تو مبوتے ہنس کر اسے یقین دلا دیتا کہ کیوں نہیں۔

کبھی کبھار وہ اکیلے میں اس دن کو کوستی جب بس نہیں آئی تھی تو انہوں نے ٹیکسی شیئر کی تھی۔ اس سے پہلا ایسا دن اس کی زندگی میں نہیں آیا تھا جس نے اس کی زندگی کے نظام کو تہس نہس کر دیا تھا۔

شادی سے عین تین مہینے پہلے ایک اور ایسا ہی تہس نہس کرنے والا دن رینا کی زندگی میں چور دروازے سے داخل ہوا جب اس کو اسپتال سے فون آیا کہ مبوتے بری طرح زخمی ہو گیا تھا اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ سانسوں نے مبوتے کا ساتھ نہیں چھوڑا لیکن وہ جوان مرد اب کومے میں جا چکا تھا۔ اسی طرح دو مہینے گزر گئے اب رینا کی زندگی میں پھر ایک بھیانک نظم آ گیا تھا، روز فیکٹری سے وہ اسپتال جاتی، دو گھنٹے گزارتی، مبوتے سے یک طرفہ باتیں کرتی، اخبار پڑھ کر سناتی پھر دیر گئے گھر پہنچتی۔

لیکن آج کا دن سب دنوں سے مختلف تھا، اس کا ملک میں کام کرنے کے پرمٹ کی میعاد ختم ہو رہی تھی اور اس کی توسیع کی درخواست مسترد ہو گئی تھی۔ رینا سوچتے سوچتے پاگل ہو رہی تھی۔ ’کیا میں مبوتے کو اسی حالت میں چھوڑ کر واپس چلی جاؤں، اس کو ہمیشہ کے لئے بھول جاؤں۔ ‘

رینا کے پاس مبوتے کے لئے ایک ہی صورت تھی کہ وہ کسی شہری سے شادی کر لے۔ کاغذی شادی؟ تو کیا وہ مبوتے کی مدد اور خیال رکھنے کے لئے کسی اور شہری سے شادی کر لے! کیا کوئی اور اس طرح کی عورت کے ساتھ رہ سکتا ہے!

’محبت میں تو سب جائز ہے! میں مبوتے کو اس طرح اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی چاہے اس کی قربت کے لئے اس ملک میں رہنے کے لئے مجھے شادی ہی نہ کرنا پڑے۔ جب مبوتے ٹھیک ہو جائے گا تو میں طلاق لے کر اس سے شادی کر لوں گی۔‘

وہ اگلے کچھ دنوں کے دوران چند مردوں سے ملی۔ سفید فام، سیاہ فام، ایشیائی، کنوارے، طلاق یافتہ، معمولی تعلیم یافتہ، کاروبار میں ناکام اور ان سب کے لئے اس نے خود کو بنایا سنوارا، بندے، نیکلس، ڈیزائنر کپڑے سب خریدے۔ لیکن اسے کوئی عارضی شادی کے لئے پسند نہیں آیا۔ وہ شاید مبوتے کی قربت کے لئے ایک اور مبوتے کو ڈھونڈ رہی تھی!

وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ رینا نے واپسی کی فلائٹ بک کروا لی تھی۔

جب رینا مبوتے سے باتیں کرتی تو مبوتے کی پلکیں ہلنے لگتیں۔ پھر وہ اس کے کان میں جا کر بار بار کہتی۔ ’مبوتے، میرے مبوتے، تم ہوش میں آ جاؤ، اب ہماری شادی ہونے والی ہے۔ ‘

رینا کے جانے میں صرف پانچ دن رہ گئے تھے۔ رینا نے شام میں آ کر دھیرے دھیرے بات کرنا شروع کی تو مبوتے نے آنکھیں کھول دیں اور رینا کو غور سے گھورنے لگ گیا۔ اس نے فوراً زور سے ہاتھ پکڑ کے بار بار دہرایا۔ ’مبوتے میں رینا ہوں رینا، تم مجھے پہچان رہے ہو نا! ‘

بار بار مبوتے کو اپنا نام بتانے پہ اس کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی تو خوشی کے مارے رینا کی چیخ نکل گئی۔ رینا پاگلوں کی طرح اس سے باتیں کر رہی تھی اور مبوتے بعض دفعہ گردن ہلا کر جواب دے دیتا۔ پھر رینا نے کئی بار مبوتے کو بتایا کہ ان دونوں کی شادی ہونے والی ہے تو وہ مسکرا تا رہا۔ اتنے میں نرس آ گئی اور مبوتے کی حالت کا تفصیلی جائزہ شروع ہو گیا۔

اگلے روز رینا کام پہ نہیں گئی۔ وہ وکیل، ڈاکٹر، قاضی سب سے رابطے کر رہی تھی۔

رینا کے جانے میں ایک دن باقی رہ گیا تھا۔ طبی جائزے کے مطابق مبوتے میں اپنے بارے میں گردن ہلا کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت تھی۔

آج رینا خوبصورت گہرے نیلے رنگ کے کپڑوں میں زیب تن، ہلکا ہلکا میک اپ کیے ہوئے صبح دس بجے اسپتال پہنچ گئی۔ مبوتے کے لئے وہ ایک کالی پینٹ اور ہلکے نیلے رنگ کی قمیض ساتھ لائی تھی۔ اس نے مبوتے کے کپڑے تبدیل کیے اور اس سے مسلسل تیز تیز باتیں کرتی رہی۔ مبوتے نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ پورے گیارہ بجے قاضی دو افراد کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ عملے کے تین لوگ شرکت کے لئے آ گئے۔ قاضی نے کوئی دو منٹ کی تقریر کی اور منہ موڑ کر کے مبوتے سے اس کی رضا مندی کے بارے میں پوچھا تو رینا مبوتے کے اور نزدیک آ گئی۔ وہ خلا میں گھور رہا تھا۔ قاضی نے دوبارہ مبوتے سے پوچھا۔ رینا نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ کر دبایا لیکن مبوتے کی آنکھیں اب بھی کھڑکی سے باہر خلا پہ مرکوز تھیں۔ قاضی نے تیسری بار اپنے سوال کو دہرایا۔

مبوتے اب مسکرا کر رینا کو دیکھ رہا تھا لیکن اس کی گردن بالکل ساکت رہی ایک بت کی طرح۔

Facebook Comments HS