سوشل میڈیا’ سے باہر بھی موجود رہیں!


’سوشل میڈیا‘ یا ’سماجی ذرائع ابلاغ‘ پر مسلسل فعال رہنے، کچھ نہ کچھ لکھنے، دوسروں کی تحریریں پسند کرنے، ان پر تبصرے کرنے، انھیں بانٹنے اور اپنی سوچ کے مطابق کسی نقطۂ نظر پیش کرنے کا ہم پر یہ اثر ہوتا ہے کہ ہم خود کو بہت اہم سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس کائنات کی حرکت ہمارے لکھنے، پڑھنے اور متحرک رہنے سے ہے۔ یہ اثر اتنا خفیف ہے کہ ہمیں اس کی خبر تک نہیں ہوتی اور ہم بس اپنی دھن میں ہی رہتے ہیں، لیکن یہ اثر بہت گہرائی تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس قدر گہرا کہ اس کی وجہ سے آپ کو کسی بھی وقت دھچکا لگ سکتا ہے۔

یہ باریک اثر آپ کو اس وقت بہتر انداز میں سمجھ آئے گا جب کبھی آپ اچانک اس سے دور چلے جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ کسی اور کی تحریر کو پڑھنے، اسے مشتہر کرنے اور پسند کرنے کے بہ جائے ہم اپنی تحریر کو پڑھتے ہیں اور اس سمت میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ کیا یہ سب لکھنے کی ضرورت تھی؟ ایسا سوچنا خود کو نظم و نسق کی اس بھٹی میں جھونکنا نہیں ہوتا، جہاں ہماری باطنی فطرت ختم ہوتی چلی جائے اور ہم سب کچھ میکانکی طور پر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

جس طرح برگر کے پیاز اور ٹماٹر کے سلائس کے سائز کے بارے میں منطق اور توازن کی بات کی جاتی ہے، ایسا ہی کچھ کرنا شروع کر دیں۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں اس چیز کا وہم ہمارے اندر نہ پیدا ہونے لگے اور اس وہم کی موٹی تہہ اس طرح جمنے لگے کہ ہم اپنے سامنے کسی اور کو دیکھنا اور سمجھنا ضروری نہ سمجھیں۔

دانستہ یا نادانستہ، یہاں لکھتے ہوئے ہم اپنی ایک ایسی تصویر بنا رہے ہوتے ہیں، جس کا بنیادی احساس یہ ہے کہ ہم سب سے بہتر، سلجھے ہوئے اور بہترین انسان ہیں۔ یہ رویہ دنیا کے لیے نہیں ہمارے لیے مہلک اور جان لیوا ہے۔

مطلب ہم خود کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں اور اس کا براہ راست اثر ہماری حقیقی زندگی پر پڑتا ہے۔ حقیقی زندگی میں ہم ہر قسم کی کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ موجود رہتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ضروری ہے کہ ہم بیچ، بیچ میں اس ’آن لائن‘ دنیا سے ’غائب‘ ہو کر اور اس سے باہر نکل کر بھی سوچیں اور اس بے ساختگی کے دامن کو تھامے رہیں، جس کے ایک بار چلے جانے سے سب کچھ منتشر اور درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اپنے آپ کو معمولی سمجھ کر خود کو بچائے رکھنے سے بڑھ کر کوئی اہم کام نہیں ہو سکتا۔ باقی کلکس، ہٹس، لائکس، شیئرز، وائرل، ٹرولز۔ ان سب کی ایک منصوبہ بند معاشیات اور حکمت عملی ہے۔ اس لیے ہمیں اسے کبھی ہوا میں اڑا کر ٹھوس مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah