چوہدری نثار علی خان سے ”آف دی ریکارڈ“ ملاقات (غیر سنسر شدہ)
پچھلے دنوں سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی طرف سے شاہین خان کے ڈیرہ ’گولڑہ ہاؤس ”میں ملاقات کا بلاوا آیا تو ہم ان سے 50 کلومیٹر کی مسافت طے کر کے پہنچ گئے۔ چوہدری نثار علی خان جنہوں نے پچھلے پانچ سال چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے اخبار نویسوں سے چھپتے چھپاتے پھرتے ہیں۔ کسی سماجی و سیاسی تقریبات میں شرکت نہیں کرتے لہذا ان کی طرف سے ملاقات کی دعوت نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ گوشہ گمنامی میں زندگی گزارنے والے اس سیاست دان کا شمار اب بھی ملک کے“ باخبر ”سیاست دانوں میں ہوتا ہے اگرچہ انہوں نے اقتدار کے ایوانوں سے منہ موڑ رکھا ہے لیکن چکری میں پوری دنیا سے الگ تھلگ بلند و بالا چوبارہ پر رونقیں لگا رکھی ہیں۔ اسلام آباد سے 70 کلومیٹر دور جہاں وہ ہر روز اپنے حلقہ ہائے نیابت کے ووٹرز سے“ سیاسی بیٹھک ”لگاتے ہیں وہاں وہ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی ہر سرگرمی سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ وہ پچھلے پانچ سال سے محض اس لئے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں کہ سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس لئے وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان بند گلی میں جا چکا ہے۔ پاکستان کو اپنی سیاسی تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ سب بند گلی میں کھڑے ہیں۔ کسی کو اس سے نکلنے کی راہ دکھائی نہیں دیتی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان دوراہے پر کھڑا ہے کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے 5 سال قبل جس انٹرنل ہیمورج (Internal hemorrhage) کے خدشے کا اظہار کیا تھا آج اس سے ہمارا ملک دو چار ہو چکا ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے اپنی سیاسی سرگرمیاں حلقہ ہائے انتخاب تک محدود کر رکھی ہیں۔ وہ کسی کے ہاں چائے کی پیالی پینے کے روادار ہیں اور نہ ہی اپنی سیاسی مصروفیات کی کوریج کروا رہے ہیں اور خاموشی سے اپنی انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے لیکن وہ اپنے دوست صحافیوں کی پانچ رکنی کور کمیٹی سے شاہین خان مرحوم کی رہائش گاہ پر“ ہائی ٹی ”پر ملاقات کرتے ہیں۔ ملاقات کے آغاز میں ہی چوہدری نثار علی خان اپنی گفتگو“ آف دی ریکارڈ ”رکھنے کی فرمائش کر دیتے ہیں اس لئے ہم بھی ان کی کسی گفتگو کو اپنی سٹوری کا حصہ نہیں بناتے البتہ ان سے ہونے والی گفتگو سے میں نے جو اخذ کیا ہے اس کو اپنی زبان میں بیان کر نے کی جسارت کرتا رہتا ہوں۔ لہذا یہ انٹرویو ہے اور نہ ہی ان کی پریس ٹاک بلکہ یہ سب کچھ میں اڑھائی گھنٹے کی ملاقات میں جو کچھ اخذ کیا پیش خدمت ہے۔
میں نے چوہدری نثار علی خان کی اہم قومی ایشوز پر رائے کو“ آف دی ریکارڈ ”ہی رہنے دیا ہے لیکن اس ملاقات کے حوالے سے کچھ دلچسپ باتوں کو قلمبند کر رہا ہوں جن کا آف دی ریکارڈ گفتگو سے تعلق نہیں۔ چوہدری نثار علی خان کے مخالفین کی یہ رائے ہے ان کی مسلم لیگ (ن) سے راہیں جدا ہونے کے بعد طویل خاموشی سے ان کا سیاسی کیرئیر ختم ہو گیا ہے لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ چوہدری نثار علی خان اب بھی کسی سیاست دان کے مقابلے میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی وہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر تھی۔ میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ چوہدری نثار علی خان کسی بازار سے پیدل گزریں تو ان سے مصافحہ کرنے اور سلفیاں بنانے والوں کا تا نتا بندھ جائے گا، پورا بازار بند ہو جائے گا۔ چوہدری نثار علی خان کے ایک شیدائی دوست محمد کا کہنا ہے چوہدری نثار علی خان اور دیگر سیاست دانوں میں فرق ہے کہ وہ آج بھی کسی جلسہ گاہ میں جائیں تو ہجوم ان کے گرد اکٹھا ہو جاتا ہے۔ یہ کشش بہت کم لوگوں کو حاصل ہے۔ چوہدری نثار علی خان چالیس سالہ سیاسی زندگی میں اپنا بینک بیلنس اور جائیداد بڑھانے کی بجائے دیانت داری کی وجہ سے عوام میں قدر منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ انہیں میدان سیاست میں جو عزت و وقار حاصل ہوا ہے بہت کم سیاست دانوں کو نصیب ہوا ہے۔
چوہدری نثار علی خان کا ہدف ان کا حلقہ ہائے انتخاب ہے وہ اپنی تمام تر توجہ حلقہ کے عوام پر دے رہے ہیں“ بریگیڈیئر فتح علی خان حویلی ”کے دروازے عام لوگوں کے لئے کھول دیے ہیں ان کی یادداشت کمال کی ہے۔ نئی نسل کو ان کے آبا و اجداد کا ذکر کر کے اسے گرویدہ بنانا کوئی ان سے سیکھے۔ چوہدری نثار علی خان نے بھی ملکی بدلتی سیاسی صورت حال کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا ہے۔ وہ بظاہر موروثی سیاست کی مخالفت کرتے ہیں وہ اپنی زندگی میں ریٹائرمنٹ کا نام نہیں لیتے یہی وجہ وہ اپنے ہونہار صاحبزادے چوہدری تیمور علی خان کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جب چوہدری نثار علی خان نے بندہ ناچیز، طاہر خلیل، عامر الیاس رانا، طارق محمود سمیر اور میزبان حسن ایوب سے چوہدری تیمور علی خان کے ملکی سیاست میں حصہ لینے کے بارے میں رائے لی تو سب نے ان کے سیاست میں حصہ لینے کے حق میں رائے دی۔
چوہدری تیمور علی خان نے امریکی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے سیاسیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ وہی یونیورسٹی ہے جس میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تعلیم حاصل کی تھی۔ امریکہ میں اپنی پر کشش ملازمت چھوڑ چھاڑ کر پاکستان واپس آ گئے ہیں۔ اپنے والد کے سیاسی معاون کے طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ سردست چوہدری نثار علی خان کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ لندن مقیم مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے چوہدری نثار علی خان کے لئے اپنے دروازے بند کر لئے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے بھی پھر مڑ کر اس طرف نہیں دیکھا۔ اب تو مسلم لیگ میں“ سیاسی بونے ”بھی نہیں چاہتے کہ چوہدری نثار علی خان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہو۔ میری نواز شریف سے دو بار چوہدری نثار علی خان کی واپسی بارے بات چیت ہوئی تو ان کی گفتگو سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ شاید چوہدری نثار علی خان کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ چوہدری نثار علی خان بھی کبھی مسلم لیگ (ن) میں واپسی پر کوئی بات نہیں کرتے۔ وہ نواز شریف سے اصل جھگڑے کی وجہ تو بتاتے ہیں لیکن واپسی پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں۔
کچھ عرصہ قبل ایک مسلم لیگی لیڈر نے نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان اختلاف کی دو وجوہات بتائیں ایک یہ کہ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کی جا رہی تھی تو گھر کا دروازہ اندر سے چوہدری نثار علی خان نے کھولا۔ دوسرا یہ کہ چوہدری نثار علی خان نے مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) میں کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ چوہدری نثار علی خان کے پاس ایک بہت بڑی شخصیت پیغام لے گئی لیکن انہوں نے خود مسلم لیگ (ن) میں واپس آنے سے انکار کر دیا۔ میری مسلم لیگی رہنماؤں سے گپ شپ کے دوران شہباز شریف بھی آ گئے تو انہوں نے استفسار کیا کہ کس معاملہ پر بات ہو رہی ہے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ چوہدری نثار علی خان کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی موضوع گفتگو ہے تو مسکرا کر چل دیے۔ تاہم اس موقع پر خواجہ آصف نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ“ اس محفل میں چوہدری نثار علی خان کی واپسی کو موضوع گفتگو نہ بنایا جائے تو میں نے ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ کل تک تو آپ اور چوہدری نثار علی خان پہروں بند کمرے میں ”پیار و محبت“ کی باتیں کرتے تھے آج ان کی واپسی پر اس قدر کیوں چیں بجبیں ہیں۔ جس کے بعد ہماری یہ محفل کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہو گئی (جاری ہے)

