دانشوری کیا ہے
دانشوری کیا ہے؟ علم، حلم، حکمت اور تدبیر کے سنگم پر دانشوری جنم لیتی ہے۔ کسی بھی انسان میں جب یہ چار صفات اکٹھی ہوجاتی ہیں تو اسے دانشور کہا جا سکتا ہے۔ فہم، ادراک، شعور، شناخت اور تخلیق دانشوری کے ثمرات و نتائج ہیں۔ دانش وری اور دانش ورزی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ دونوں لنگوٹیے یار ہیں۔ دانشوری اگر کسب فیض ہے تو دانش ورزی اسی فیض کو عام کرنا ہے۔ دانشوری فکر میں پنپتی ہے اور سخن میں چھلکتی ہے۔
دانشورانہ بات زوائد سے پاک ہوتی ہے۔ متقن اور مدبرانہ ہوتی ہے۔ عقل کو اپیل کرتی ہے۔ جذبات کو مثبت انداز میں اجاگر کرتی ہے۔ منفی جذبات کو کم کرتی ہے۔ لہذا منفی گری کے پرچارک دانشور نہیں ہوتے۔ شہرت تو حاصل کر لیتے ہیں۔ ابتدائی/سادہ/پسماندہ معاشروں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہاں شہرت حاصل کرنے کے منفی ہتھکنڈے مثبت چیزوں سے زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ لہذا شہرت اور مقبولیت ان معاشروں میں منفی ذہنیت کے حامل لوگوں کا مقدر بنتی ہے۔
اور یوں اس سماج کی بدبختی اور مصائب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ منفی ذہنیت اور انتقادی ذہنیت میں فرق ہے۔ تنقید یا نقادی کا مسئلہ خلوص اور حقائق کی شناخت سے جڑا ہے۔ نقادانہ ذہنیت در حقیقت واقعیت کو پرکھنے اور اس کی جانچ پڑتال کے لیے ضروری ہے۔ «کونوا نقاد الکلام» کا دستور اہل بیت (ع ) سے بھی منقول ہے۔ کلام کو اندیشہ کی بھٹی میں پختہ کرنا خود دانشوری کے شرائط میں سے ہے۔ موقعیت کے مطابق استوار اور درست موقف اختیار کرنا اسی دانشوری کا تقاضا ہے۔
دانشوری صرف انتزاعی نہیں ہوتی، بلکہ عمل، تدبیر اور سیاست سے مربوط ہے۔ ایک ایسی تشخیص ہے جو اندیشہ اور عمل کے مقام پر اشیاء کو اپنا مقام دینا جانتی ہے۔ دانشوری کمالات ہی نہیں بلکہ نقائص کے ادراک کا نام بھی ہے۔ یوں دانشور ہمیشہ خود احتسابی کے کرب مسلسل سے گزر کر ارتقائے مسلسل کی جانب گامزن رہتا ہے۔ دانشور سماج سے لاپروا نہیں ہو سکتا۔ دانشور کی پوری کوشش بنی نوع انسان اور اپنے معاشرے کے درد کو سمجھ کر اس کا علاج کرنا ہے۔
دانشوری سماجی، سیاسی اور معاشی دکھوں، مصائب و مشکلات کی تشخیص اور ان کے علاج کے لیے نسخہ پیچی کرنے میں گہرے ادراک پر مبنی ہوتی ہے۔ خطابت عام طور پر جذبات کو بھڑکاتی ہے، یہ بیان کی طاقت سے مربوط ہے۔ لیکن دانشوری کی اصل طاقت تفکر سے ہے۔ خطابت سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، ہاں اس کی اپنی کار آمدیت کا انکار نہیں ہے۔


