شیر شاہ سوری اور قلعہ روہتاس
ایک انسان جس خطے میں رہتا ہے، وہ اس کے گھر کی طرح ہوتا ہے۔ اپنے خطے سے انسان کی وابستگی ایک قدرتی عمل ہے اور اس خطے سے پیار کرنا اس کی سرشت میں شامل ہے۔ جس طرح اپنے گھر کے بارے میں ایک انسان کو مکمل جانکاری ہوتی ہے عین اسی طرح اپنے خطے کے متعلق اور اس کے ماضی کے متعلق آگاہی رکھنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ گاہے ایسی جگہوں پر جایا جائے جہاں پہنچ کر آپ چند ساعتوں میں صدیوں کا سفر طے کرتے ماضی کے دھندلکوں میں کھو جائیں۔
تاریخی مقامات پر گاہے بگاہے جانا اور وہاں کچھ پل گزارنا آپ کو نہ صرف اپنے خطے کی تاریخ سے روشناس کراتا ہے بلکہ آپ کو یہ نادر موقع بھی دیتا ہے کہ آپ روزمرہ کی زندگی کے جھنجھٹوں سے آزاد ہو کر کچھ پل اپنی ذات کے لیے وقف کر سکیں۔
ماضی کے انہی مزاروں میں سے ایک کی زیارت اور واقفیت میرے آج کے سفر کا مقصد تھا۔ جنوری کی وہ ایک ابر آلود صبح تھی جب میں اپنے دوستوں فہد اور کاشف کے ساتھ اسلام آباد سے نکلا اور ہماری منزل تھی جہلم میں واقع قلعہ روہتاس۔ پنجاب کے شمال میں واقع جہلم اس تاریخی جگہ کے قریب واقع ہے جہاں سکندر اعظم اور پوٹھوہار کی دھرتی کے ایک سپوت، راجہ پورس کی افواج کے درمیان مشہور زمانہ جنگ لڑی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جہلم کا یہ خطہ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کو فوجیوں کی بھرتی کے حوالے سے پورے ہندوستان میں مشہور ہوا تھا۔
اسلام آباد سے جہلم کا فاصلہ تقریباً 120 کلو میٹر بنتا ہے۔ جہلم شہر سے پندرہ کلومیٹر پہلے دینہ کا چھوٹا سا شہر آتا ہے۔ وہی، گلزار کا دینہ۔ دینہ شہر سے گزرتے ہی آپ کو داہنے ہاتھ پر قلعہ روہتاس جانے والی سڑک ملے گی۔ اس سڑک پر تقریباً دس کلومیٹر کے بعد آپ اس تاریخی قلعے کے پہلے دروازے سے اندر داخل ہو رہے ہوں گے۔ اگر چہ قلعے کی بلند دیواریں اور فصیلیں آپ کو بہت دور سے نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں مگر پھر بھی قلعے کے اندر داخل ہوتے ہی آپ اپنے آپ کو ایک الگ دنیا میں موجود پاتے ہیں۔ آپ کو محسوس ہونا شروع ہوتا ہے کہ آپ کا رابطہ باہر کی دنیا سے کٹ چکا ہے اور آپ کئی صدیاں پیچھے کا سفر طے کر کے سولہویں صدی میں پہنچ جاتے ہیں جب 1545 میں شیر شاہ سوری نے مغلوں کے وفادار، گکھڑ قبائل پر نظر رکھنے کے لیے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا۔
سردیوں کے ابر آلود دن اپنے اندر ایک عجب اداسی لیے نازل ہوتے ہیں اور ہم ایک ایسی ہی اداس صبح کے دس بجے قلعے کی خالی پارکنگ کے باہر کھڑے تھے۔ کیبن میں بیٹھے شخص نے ہمیں پارکنگ کا ٹکٹ یوں تھمایا جیسے اسے اس بات کا قطعی یقین تھا کہ آج کے دن اس موسم میں اور اتنے سویرے یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ گاڑی سے باہر نکلتے ہی سرد ہواؤں نے ہمارا استقبال کیا۔ قلعے کے اندر داخل ہوتے ہی اس کی ضخامت، بناوٹ اور اس کا دبدبہ مجھ پر اپنا سحر طاری کر چکے تھے اور میں سرد موسم سے بے نیاز قلعے کے در و دیواروں کو محسوس کرتا سولہویں صدی میں پہنچ چکا تھا جب شیر شاہ سوری نے تن تنہا مغلوں کو شکست دی تھی۔
سولہویں صدی ( 1530 ) میں ظہیر الدین بابر کے انتقال کے بعد جب اس کے بیٹے ہمایوں نے تخت سنبھالا تو اس وقت شیر شاہ سوری ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی طاقت میں مسلسل اضافہ کرتا چلا جا رہا تھا اور پھر ایک دن وہ آیا کہ شیر شاہ کی فوج نے ہمایوں کو شکست دے دی اور ہمایوں ہندوستان چھوڑ کر ایران بھاگ گیا۔ 1540 میں شیر شاہ پورے ہندوستان کا حکمران بن چکا تھا۔ 1541 میں شیر شاہ نے قلعہ روہتاس کی تعمیر کا حکم دیا تاکہ کشمیر سے آنے والے راستوں پر نظر رکھی جا سکے۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ مغل اپنی شکست پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
چار کلومیٹر اور 170 ایکڑ پر پھیلے اس وسیع و عریض قلعے کے درو دیوار، اس کی باؤلیاں، تہ خانے اور اس کے برج دیکھتے ہوئے وقت کے بیتنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ اب بارش کی ہلکی پھوار شروع ہو چکی تھی جس کا مطلب تھا کہ واپسی کی راہ لی جائے کیونکہ کاشف اور فہد پہلے ہی واپسی کا بگل بجا چکے تھے۔ میں نے ابھی اپنے بوجھل قدم واپسی کے لیے اٹھائے ہی تھے کہ بارش نے اور ہوا نے رفتار پکڑ لی اور میں نے بھی تیزی سے چلنا شروع کر دیا۔ شدید سردی میں، جب وہاں رکنا بھی محال ہو رہا تھا، تیز قدم اٹھاتے ایک خیال کی بجلی سی ذہن میں کوندی کہ یہ قلعہ کم و بیش پانچ صدیوں سے نجانے کیسے کیسے سخت موسموں کا مقابلہ کرتا آ رہا ہے لیکن اس کے در و دیوار آج بھی اس کے بنانے والوں کے ہنر کی گواہی دیتے ہیں۔
ہماری گاڑی جب قلعے کے خارجی دروازے سے باہر نکلی تو میں نے گاڑی میں بیٹھے ہوئے پیچھے مڑ کر قلعے کی بلند فصیلوں کو دیکھا جو کہ بارش میں دھل کر مزید نکھر چکی تھیں۔ موسم کی خنکی اور ہماری بھوک دونوں بڑھ چکیں تھیں اس لیے واپسی پر دینہ شہر میں ایک ریسٹورنٹ پر مزیدار کھانا نوش فرمایا۔ کھانے کے بعد جب واپسی کا سفر شروع کیا تو قلعے کی دیواروں کا سرمئی رنگ ابھی تک آنکھوں میں تازہ تھا۔ جنوری کی بارش ہو، شیر شاہ سوری کی بنی گرینڈ ٹرنک روڈ ہو اور آپ دوستوں کے ساتھ اس روڈ پر ایک لمبے سفر پر نکلے ہوں تو آپ یقین رکھیں کہ اس سمے میں آپ سے زیادہ خوش بخت اور کوئی ہو نہیں سکتا۔


