زرعی اصلاحات کی ضرورت
پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی غربت اور گہری ہوتی ہوئی مایوسی کو بھانپتے ہوئے چند سیاسی سیانے نمبر داروں نے نئی پولیٹیکل پارٹی بنانے کے لیے غور و فکر اور بھاگ دوڑ شروع کردی ہے مگر دیکھا جائے تو سبز ہلالی پرچم کے تلے اب تک بے شمار رنگوں اور طرح طرح کے نظریات کی سیاسی پارٹیاں اور حکومتیں آ چکی ہیں۔ مثال کے طور پر شروع شروع میں قرارداد مقاصد کا نظریہ آیا۔ تب کچھ دوسرے لوگوں نے سر اٹھایا اور سرخ انقلاب کی باتیں کرنے لگے۔
پھر بے عزت لوگوں کو عزت دار بنانے کے لیے جمہوریت کا شور مچانے والے لیڈر ایک کونے سے آگے آ گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہتر پاکستان کے لیے طرز حکومت میں تبدیلیاں بھی کی جاتی رہیں یعنی گورنر جنرل کی جگہ صدر کا عہدہ متعارف کروایا گیا۔ پاکستان کی مضبوطی کے لیے ون یونٹ کا اعلان ہوا۔ بعد میں اسے غلط کہہ کر مشرقی اور مغربی پاکستان میں صوبوں کے انتظامی ڈھانچے بنا دیے گئے۔ بڑے سیاست دانوں کی چھوٹی حرکتوں سے ملک اور عوام کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے چار مرتبہ مارشل لاء اپنی بندوق تان کر سامنے آ گیا۔
اس کھیل تماشے میں کبھی صدارتی نظام کی باتیں ہوئیں اور کبھی پارلیمانی نظام کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ کبھی اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے بلدیاتی اور ناظمین کے ادارے بنانے کا حکم دیا گیا اور پھر انہی اداروں کے ناکام ہونے کے بعد مجسٹریٹ اور کمشنر کا نظام لانے کے لیے آرڈر جاری کر دیے گئے۔ گزشتہ 75 برسوں میں ان تمام تجربوں کا مقصد پاکستان کو ایک خودمختار باعزت اور خوشحال ملک بنانا بتایا گیا تاکہ یہاں کے عام لوگ کیڑے مکوڑوں کی بجائے عزت دار انسان کہلائیں۔
اب ہم اگر اس ہسٹری شیٹ کا نتیجہ حاصل کریں تو 75 برس سے پاکستانیوں کے لیے ہلکان ہونے والے ہمارے رنگ برنگے لیڈروں کی کارکردگی چند جملوں میں مکمل ہو سکتی ہے۔ یعنی اتنی پرخلوص کوششوں، تجربوں اور فہم و فراست کے بعد بھی ایک عام پاکستانی ذلتوں کی دلدل سے تو نہ نکل سکا مگر اپنے گھروں سے بے گھر ہو گیا اور خیمہ بستیوں، کچی آبادیوں اور سڑکوں پر آ گیا۔ ایک دن میں دو وقت کی روٹی مانگنے والے لوگ اب دو دن بعد صرف ایک روٹی بھی حاصل نہیں کر سکتے کہ وہ کم از کم زندہ رہ سکیں۔
مائیں جنہوں نے اتنی تکلیف اور اذیت کے بعد بچے جنم دیے تاکہ وہ ان پر اپنی ممتا نچھاور کرسکیں، انہی ماؤں نے مفلسی اور ذلت کے باعث اپنی اولاد کی گردن پر اسی جگہ چھریاں پھیرنی شروع کر دیں جہاں وہ انہیں چوم چوم کر وارے نیارے جایا کرتی تھیں۔ وہ بہن جو اپنے ویروں کی روٹیاں پکاتے نہیں تھکتی تھی، جب اس کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے اور چھوٹے بہن بھائی بھوکے پیاسے بلکنے لگے تو اس کے پاس دو ہی راستے تھے۔ ایک تو یہ کہ وہ اپنے آپ کو کمائی کے لیے پیش کردے یا خنزیر جیسے بدبخت اور ظالم حالات کے مقابلے میں موت کو گلے لگا لے۔
وہ معصوم لڑکی باعزت ٹھہری اور اپنے گلے میں پھندا ڈال کر پاک سرزمین کی مسلمان اور جمہوری حکومتوں سے بہت دور چلی گئی۔ کچھ عرصہ قبل ایک خبر آئی کہ ایک پروفیسر نے اپنی تین بیٹیوں کو ذبح کر دیا۔ ذرا سوچئے! جب یہ بچیاں پیدا ہوئی ہوں گی اور بڑی ہوئی ہوں گی تو اس پروفیسر نے ان کے بارے میں کیسی کیسی دعائیں مانگی ہوں گی؟ ان کے اچھے نصیبوں کے بارے میں کیا کیا منصوبہ بندی کی ہوگی؟ اس نے تو شاید ان کے لیے تین ڈولیوں کا آرڈر بھی دے دیا ہو مگر معاشرتی حالات نے اسے کتنا وحشی بنا دیا۔
وہ اپنی ان پیاریوں سے پیار تو بھول ہی گیا تھا کہ ذبح ہوتے ہوئے ان کے منہ سے نکلتی چیخیں اور کٹی گردنوں سے نکلتی خرخراہٹ بھی نہ سن سکا۔ مندرجہ بالا خبریں گزشتہ 75 برسوں سے منظرعام پر آ رہی ہیں اور آتی ہی جا رہی ہیں۔ ایسے واقعات کو پڑھیں تو انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مجرم یہ ہیں یا وہ لوگ جنہوں نے اس ملک کے کروڑوں بھوکے ننگے، پیاسے، ناتواں اور بے عزت لوگوں کو روٹی اور عزت دینے کی قسمیں کھائی ہیں۔
گزشتہ 75 برسوں میں بے شمار حکومتیں اور حکمران آئے۔ سب نے یہاں کے ننھے فرشتوں کو تعلیم دینے کا وعدہ کیا مگر ان پورے 75 برسوں میں بھیک مانگنے والے، نشہ کرنے والے، ورکشاپوں کے چھوٹے، گندی نالیوں اور کوڑے سے اپنا رزق تلاش کرنے والے، کھاتے پیتے گھرانوں کے گھروں میں جوتیاں، گالیاں کھانے والے اور اب سوسائٹی سے انتقام لینے کے لیے خودکش حملہ آور بننے والے بچوں کی تعداد سکول جانے والے طالب علموں سے ہزاروں گنا زیادہ ہو چکی ہے۔
اس تمام ذلت بھری پاکستانی تاریخ کا ذمے دار کون ہے؟ اگر دیکھا جائے تو دنیا کے ہر حصے میں حکومتیں ہی ملک چلاتی ہیں جن کے اپنے اپنے نظریات ہوتے ہیں اور ان میں سے اکثر اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اسی دعوے پر حکومتیں بدلیں اور نئے نئے نظریات کے تجربات کیے گئے لیکن غور کریں تو ان تمام تجربات اور حکومتوں کی تبدیلی میں ایک فیکٹر ایسا ہے جو مستقل طور پر پاکستان کے ساتھ منحوس سائے کی طرح چمٹا ہوا ہے اور ہر حکومت کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔
یہی پاکستان کے عام لوگوں کو روٹی کھانے اور عزت دار بننے سے روکتا ہے۔ یہی وہ فیکٹر ہے جو پاکستان میں عام لوگوں کی حکمرانی کی بجائے خاندانی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے اور اسی لیے اپنے اردگرد بسنے والے کمزور لوگوں کو ہر طرح کی سہولت، ترقی اور تعلیم سے دور رکھتا ہے۔ پاکستان میں یہ گروہ شروع سے ہی اپنی بقا کے لیے اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کی بجائے پرائے لوگوں کی ایجنٹی کر رہا ہے۔ یہی وہ فیکٹر ہے جسے دنیا بھر میں جن جن ممالک میں ختم کر دیا گیا آج وہ ترقی کے روشن ستارے بن چکے ہیں۔
اس فیکٹر کو فیوڈل یا جاگیردار کہا جاتا ہے۔ 1947 ء سے ہی پاکستان کا انتظام چلانے والی تمام حکومتیں ان فیوڈل یا جاگیرداروں سے بھری پڑی ہیں۔ ذرا سوچئے! جو لوگ دنیا کی ہر سوسائٹی میں خرابی اور بگاڑ کا باعث ہوتے ہیں، جب وہی ہر پاکستانی حکومت کی شہ رگ ہوں تو یہاں کے ننھے فرشتے سکول کیسے جائیں گے؟ مائیں اپنے بھوکے بچوں کو ذبح کرنے کا خیال کیسے چھوڑ دیں گی؟ باپ اپنی بیٹیوں کو مارکر دفنانے کی بجائے دلہن بنانے کا کیسے سوچیں گے؟
بہنیں پھندے سے لٹکنے کی بجائے روٹی بنا کر اپنے ویروں کا انتظار کیسے کریں گی؟ جب تک جاگیردار ہماری ہر بڑی سیاسی جماعت کے ماتھے کا جھومر ہوں گے اس وقت تک پاکستان میں خواہ جو بھی طرز حکومت ہو یہاں عام لوگوں کے لیے غربت اور ذلتوں کے بڑے بڑے بلیک ہول موجود رہیں گے۔ لہٰذا اس کے لیے ہر چھوٹی بڑی سیاسی جماعت کو لینڈ ریفارمز کو سنجیدگی سے اپنے منشور میں پہلے نمبر پر رکھنا ہو گا۔ ورنہ یہاں چاہے جتنی نئی نئی سیاسی پارٹیاں بن جائیں یا بڑے بڑے لیڈر سامنے آجائیں، ننھے ننھے ہاتھ کتابیں کاپیاں نہیں پکڑ سکیں گے، وہ بچپن کی خوشیوں سے کھیلنے کی بجائے بھدے بھدے انسانوں کے گھروں میں خدمتیں کر کے ٹھڈے کھاتے رہیں گے، ورکشاپوں میں کام کر کے پیارے پیارے انسانوں کی بجائے موبل آئل کے کالے کلوٹے بھوت بنتے رہیں گے اور تتلیاں پکڑنے والی لڑکیاں طرح طرح کے پھندوں کی خوراک بنتی رہیں گی۔


