سنگاپور اور پاکستان میں فرق: دودھ کا ایک گلاس
ہم میں سے ہر ایک اس لمحے سے ڈرتا ہے جب وہ اپنے بچے کے بارے میں ڈاکٹر یا سکول سے یہ سنے گا کہ ”اب تو کچھ نہیں ہو سکتا، ہاں اگر آپ ایک دو برس پہلے آ جاتے تو ہم بتا سکتے تھے کہ آپ کیا کریں تو آپ کے بچے کی جسمانی و ذہنی صورت بہتر ہو گی۔ ویسی نہیں جیسی کہ آج ہے“ ۔ خوف کے اس لمحے سے بچنے کے لئے وہ بات آج ہم پہلے سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم بچوں کی مضبوط ذہنی و جسمانی بنیاد اور خاندان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ بننے والے اس کام کا ذکر کرنے سے پہلے کشور محبوبانی کا تذکرہ ضروری ہے۔
کشور محبوبانی، برصغیر کی آزادی کے وقت سندھ سے ہجرت کر کے ہندوستان اور وہاں سے سنگاپور چلے جانے والے ایک خاندان کے فرزند ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات یعنی انٹر نیشنل ڈپلومیسی میں ایک بڑا نام ہیں۔ تینتیس برس سنگاپور کے لئے مختلف ممالک میں یہ خدمات سر انجام دے چکے اور دو مرتبہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے صدر رہ چکے ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب ترقی کی تمام شاہراہوں پر یورپی و امریکی تسلط کو تسلیم کیا جاتا تھا، ایشیا کا مقام ثابت کرنے کے چیمپئن ہیں اور ہارورڈ جیسی یونیورسٹیوں میں خطاب کے لئے بار بار بلائے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی ترقی میں ایشیائی ممالک کے کردار پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ستمبر 2005 میں انہیں دنیا کے سو ذہین ترین افراد میں شمار کیا گیا اور 2009 میں ان پچاس افراد میں جو مستقبل کے عالمی معاشی نظام کا رخ متعین کریں گے۔
کشور محبوبانی اپنے بچپن میں پاکستان کے چالیس فیصد بچوں کی طرح تھے۔ یعنی کمزور، اور غذائی کمی کا شکار۔ ان کی خوش قسمتی کہ جب چھ برس کی عمر میں وہ سکول گئے (سنگاپور اس وقت ابھی ایک غریب اور ترقی پذیر ملک تھا) تو کمرہ جماعت میں بھیجنے سے پہلے ایک مشین پر ان کا وزن کیا گیا۔ وزن ان کی عمر کے حساب سے کم نکلا۔ سکول والوں نے پڑھائی سے پہلے کشور کو اس کمرے میں بھیج دیا جہاں تمام کمزور بچوں کو دودھ پلایا جاتا تھا۔ کشور کا نام غذا فراہم کرنے کے پروگرام میں شامل کر لیا گیا۔ یوں روزانہ پہلے انہیں دودھ پلایا جاتا اور پھر پڑھنے والے کمرے میں بھیجا جاتا۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہا، جب تک کشور کا وزن ایک نارمل بچے کے برابر نہیں ہو گیا۔
بظاہر ایک عام سا نظر آنے والا یہ اقدام دو فائدے رکھتا ہے۔ اول یہ جسم کو صحت مند بناتا ہے جو کہ ذہن کی طاقت کے لئے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بچے کو گھر اور گھر سے باہر، دونوں طرح کے ماحول میں نفسیاتی سپورٹ فراہم کرتا ہے، پیار محبت کی فضا قائم رکھتا ہے۔ یوں ابتدائی سالوں میں دماغ کے اندر خلیے (نیورون) اچھی غذا کے زیر اثر نہ صرف اپنی جسامت میں بڑھتے ہیں بلکہ ”کوئی ہمارا خیال کر رہا ہے“ کے مثبت ماحول کے زیر اثر اپنے اندر ایک پازیٹو انرجی محسوس کرتے ہیں جو کہ ذہانت کی بنیاد بنتی ہے۔ زندگی میں کوئی بڑا کام کرنے کی عمارت میں پہلی اینٹ کا کام کرتی ہے۔
سو قاری محترم: اگر آپ کسی چھوٹے یعنی سکول جانے کی عمر سے پہلے، یا سکول جانے والے بچے (اور خاص طور پر بچی) کے والدین ہیں، تو سب سے پہلے یہ ضرور جانیے کہ آپ کا بچہ یا بچی اپنی عمر کے حساب سے صحیح وزن رکھتے ہیں یا نہیں۔ صرف اندازے پر نہ جائیے کہ بچوں کے وزن اور قامت کے بارے میں اندازہ عموماً غلط بھی ہو جاتا ہے۔ مشین پر وزن کیجئے اور بچے کے ڈاکٹر سے یہ ضرور دریافت کیجئے کہ عمر اور وزن کے چارٹ کے حساب سے بچے کا وزن مناسب ہے یا نہیں۔
یہ چارٹ پرائیویٹ اور سرکاری، دونوں طرح کے کلینک یا ہسپتال پر موجود ہوتا ہے اور مناسب وقفوں پر بچے کا وزن کرنا اور اس چارٹ سے موازنہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ وزن کرنا اور ڈاکٹر یا نرس سے چارٹ کے بارے اصرار کرنا ایک طرح سے اضافی کام لگتا ہے، لیکن یقین کیجئے کہ یہ والدین کا انتہائی اہم فرض اور بچے سے پیار کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے۔
وزن کی جانچ کر لینے کے بعد اگلا قدم عمر کے حساب سے بچے کی خوراک کا خیال رکھنا اور اس کی پرورش میں پیار محبت کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔ اگر بچے یا بچی کی صحت اور وزن اچھے اور عمر کے حساب سے مناسب ہیں تو اس کی وہی خوراک جاری رکھئے۔ اگر کم وزن دیکھنے میں آئے تو عمر کے حساب سے، اور مشورہ کے مطابق خوراک میں تبدیلی کیجئے۔ دونوں طرح کے کام کرتے ہوئے بچے کو یہ احساس دلائیے کہ اس کے گرد موجود لوگ اسے پیار کرنے والے اور اس کا خیال کرنے والے ہیں۔ اپنے تاثرات میں عجلت یا جھنجھلاہٹ نہ آنے دیجیئے۔ اس سے آپ کی تمام محنت اور وہ خرچہ جو آپ نے کیا، وہ ضائع ہو جائیں گے۔
اگر آپ کے گھر میں ایسے بچے موجود نہیں ہیں تو ارد گرد یعنی خاندان میں ہو سکتے ہیں۔ آپ کے گھر یا دفتر میں کام کرنے والے ملازمین کے بچے ہو سکتے ہیں۔ آپ کی ذرا سی توجہ ایسے ایک بھی بچے کی نشاندہی کر دے جسے غذائی سپورٹ کی ضرورت ہے، تو یہ کافی ہے۔ صرف ایک بچہ جس کی پھلنے پھولنے کی عمر کے دوران اس کی خوراک اور گھرانے کی توجہ کا بندو بست ہو سکے، چاہے وہ گھر کے ملازم کا بچہ ہو جو روزانہ آپ کے گھر سے دودھ کا ایک گلاس پی سکے، تو یہ بھی بہت ہے۔
تقریروں اور تحریروں میں جب ہم سنتے ہیں کہ چالیس فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں تو یہ مسئلہ بس ایک عدد بن کر رہ جاتا ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھنے سے یہ مسئلہ ایک انسان کی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے کئی بچے ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ کام کرنے والے بچوں کی صورت میں، کام کرنے والی ملازمہ کی گود سے جھانکتی کمزور سی بچی کی صورت میں۔ غذائی کمی کا شکار بچے کی پسلیاں اگر آپ ایک دفعہ بھی دیکھ لیں تو کبھی بھولتی نہیں۔ ایسے بچوں کے لئے ہمارا چھوٹا سا لیکن مسلسل کیا ہوا ایک کام ان کی زندگی بنا سکتا ہے۔ ہمارا مستقبل سنوار سکتا ہے۔ اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو ہماری اگلی نسلیں بھی تقریروں میں چالیس یا پچاس فیصد کا نمبر سن رہی ہوں گی اور کشور محبوبانی جیسے لوگ سندھ چھوڑ کر سنگا پور کی ترقی کی نشانی بنتے رہیں گے۔
سنگا پور جو انیس سو پچاس کی دہائی میں پاکستان جیسا غریب ملک تھا، آج دنیا کے ترقی یافتہ اور خوشحال ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔ بچوں کی شرح اموات صفر کے قریب ہے اور یہاں کے مرد و عورت کی اوسط عمر چوراسی سال۔ دنیا میں تیز ترین سپیڈ والا انٹرنیٹ یہاں ہے اور کرپشن کی کم ترین شرح۔ تعلیم، صحت کی سہولیات اور معیار زندگی میں سنگا پور دنیا میں اعلیٰ ترین مقام رکھتا ہے اور انفرادی و اجتماعی خوشحالی میں ہمیشہ پہلے پانچ ملکوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ یقیناً صحیح سمت میں اٹھائے گئے چھوٹے چھوٹے قدم جنہیں استقامت سے جاری رکھا جائے، افراد ہی نہیں اقوام کی تقدیر بھی بدل دیتے ہیں۔


