بے وقوف مگر ایماندار کاروباری
چھوٹے بھائی عبداللہ خان کے دانت اور جبڑوں میں درد ہے۔ کل شام گھر والوں نے ہسپتال لے جانے کا بولا تو ”سردی ہے“ کہ کر بات ٹال دی؛ اے ڈی خان کو ڈرایا کہ ”ڈاکٹر جبڑے، گلے اور زبان پر تین انجیکشن لگائے گا اور پھر ہاتھ پاؤں باندھ کر پلاس سے زبردستی دانت نکالے گا“ ۔
ڈر کے مارے اے ڈی خان نے ہسپتال جانے سے انکار کیا اور کچھ دیر بعد سو گیا۔ آدھی رات کو تکلیف زیادہ ہوئی تو روتی آواز میں آپی سے کہنے لگا ”اس درد سے تو اچھا تھا، ہسپتال میں تین ٹیکے لگتے اور پلاس سے دانت ہی نکال لیتا“ ۔
صبح میری تگڑی کلاس کے بعد عبداللہ کو ہاسپٹل لے گئے، کمزور دانت میں سوراخ ہے ؛ پانچ دنوں کی دوائی کے بعد پھر سے چیک اپ کرنا، ڈاکٹر نے کہا۔
کچھ دن قبل ایک کاروباری شخصیت سے ملاقات ہوئی، بندے نے پوچھا ”آپ کتنے فیصد منافع پہ کام کرتے ہیں؟“
ہم نے جواباً عرض کیا، ”یہی کوئی چار یا پانچ فیصد منافع پہ“
بندے نے ہمیں بے وقوف قرار دینے کے بعد ہمارے چودہ طبق روشن کرتے ہوئے بتایا، ”میں تو چالیس فیصد منافع کے بغیر کوئی کاروبار لیتا ہی نہیں ؛ جبکہ میرے کچھ کام پچاس اور ساٹھ فیصد منافع بھی دیتے ہیں“ ۔
ہم چار فیصد کمانے والے اسے تکتے رہے اور تفصیل جانے کے لئے گویا ہوئے ؛
بندے نے بتایا ”میں کاپی مال بیچتا ہوں یعنی مین برانڈ کی نقل سیل کرتا ہوں، اس نے بتایا کہ فرسٹ کاپی تو دکان دار بھی نہیں پہچان سکتا، گاہک تو دور کی بات“
ہم جو بے وقوف قرار دیے گئے تھے، شکر اللہ کا ادا کرتے ہوئے اپنے چار فیصد منافع پہ ہی خوش رہے۔ کم از کم حرام نہیں کما رہے اور نہ ہی جیتے جاگتے انسانوں کو زہر کھلا پلا رہے ہیں۔
اس وقت تقریباً سبھی برانڈڈ اشیاء کی نقل پروڈکشن مارکیٹس میں سیل ہو رہی، جو کہ عام کے پہچان سے دور ہے۔ اکثر دکاندار ہول سیل ڈیلر سے منافع کی لالچ میں آ کر مل جل کر غلط مال بیچ رہے ہیں۔
دو نمبر یعنی برانڈڈ مال کی نقول کا اداروں کو بخوبی علم ہوتا ہے۔ لیکن وہ کمیشن اور اثر و رسوخ کی بنا پر کارروائی سے قاصر ہیں۔ کچھ ناقص مال بنانے والے تو خود انہیں اداروں میں بیٹھے ہوتے ہیں جو ٹی وی اور عوام کے سامنے دعوے کرتے ہیں۔
عام آدمی کی اچھے اور معیاری اشیاء تک کوئی پہنچ نہیں۔ ناقص اشیاء کے استعمال سے لوگوں کی قوت مدافعت انتہائی کمزور ہوتی جا رہی۔ مضر صحت خوراکوں کی وجہ سے بیماریوں کی بھرمار ہیں۔ جبکہ مہنگائی کے دور میں مریض بندہ دھاڑی مزدوری سے بھی گیا اور ہسپتال کے خرچے الگ سے۔
کسی بھی برانڈ مال کی نقل خریدنے والا سستی اشیاء مہنگائی داموں خریدتا ہے۔
انہی ناقص اشیا کے استعمال کی وجہ سر کے بال گرنا، معدے کی بیماری، جوڑوں کا درد، بلڈ پریشر، شوگر اور دیگر بیماریاں ہر دوسرے تیسرے بندے کا مقدر بنی ہیں۔
سیاستدان، بیوروکریٹس، فوج، عدلیہ، نیب، اینٹی کرپشن، کاروباریوں اور دیگر شعبوں نے مل کر ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے۔
عوام اور ملک کے خیرخواہوں سے آگاہی مہم چلانے اور اعلیٰ حکام کو خواب خرگوش سے جگانے کی اپیل ہے۔
ملک میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بحال نہ ہوا تو آنے والی نسل کمزور اور بیماریوں کا شکار رہے گی۔ دوسری جانب سماج دشمن عناصر لوگوں کے خون پسینے کی کمائی نچوڑتے رہیں گے۔


