عمران خان کی سیاست اور قینچی
اس تحریر میں چار شخصیات کا ذکر متوقع ہے یعنی ساحر لدھیانوی، سعادت حسن منٹو، رچرڈ گرے اور عمران خان۔ ان چاروں شخصیات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں پایا جاتا، ۔ ایک شاعر دوسرا باغی افسانہ نگار تیسرا ہالی ووڈ کا مشہور اداکار اور چوتھا سیاست دان اور یہ یہ چاروں مختلف ادوار و حالات میں پیدا ہوئے۔ تعلق بنانے سے بنتا ہے اور جوڑنے سے جوڑتا ہے اور ہم جس عہد میں زندہ ہیں اس میں تو تعلق بنانا اور جوڑنا کوئی دقت کی بات نہیں ہے۔
آپ فوٹو شاپ کے چند ٹولز استعمال کریں۔ یہ دیکھیں! ملکہ اردن کا تعلق ڈائنا سور کے ساتھ جوڑ گیا یا پھر اگر آپ وی لوگر ہیں تو ذرا سی لب کشائی جو دروغ گوئی سے بھرپور ہو۔ چند گھنٹوں میں اپنے ہمسائے کا تعلق انسانی خون پینے جیسے مکروہ فعل سے جوڑ کر اس بے چارے کی زندگی اجیرن کر سکتا ہے۔ غرض تعلق کے ہیر بھیر کا ہی دور دورہ ہے۔ تعلق کا الٹ پلٹ کیسے کیسے تماشائے دکھاتا ہے۔ یہ بحث پھر سہی۔ سردست ہم ساحر لدھیانوی کے ایک شعر کی طرف توجہ مبذول کرتے ہیں۔
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
ممکن ہے ساحر صاحب کے سامنے کوئی خوبصورت موڑ ہو لیکن افسوس ہمارے فسانے میں ایک تیز رفتار ٹرین ریل سے اتر جاتی ہے اور اس ٹرین کا ڈرائیور غائب ہے اور تمام بریکیں بھی ناکارہ ہو چکی ہیں تو پھر اس بھیانک صورت حال میں یہ بدقسمت ٹرین اپنے مقررہ خوبصورت موڑ یعنی اسٹیشن پر کس طرح پہنچ سکتی ہے؟ پچھتر سالوں سے زہریلی جڑی بوٹیوں اور ایک ساعت میں دلوں کو منجمد کر دینے والے بھیانک سانپوں کے مرکب سے جو مشروب تیار کیا گیا ہے۔
اب اس کے لب جام ہونے کی گھڑی ہے۔ پیاس بھی انتہا کو چھو رہی ہے اور پیمانے بھی زہریلے جام سے لبریز ہو چکے ہیں۔ خوبصورت موڑ کو بھول جائیں کہ شب مرگ و الم میں خوبصورت موڑ کے گیت گنگنانا جچتا نہیں ہے۔ اس شب پر آشوب میں ایک قیامت خیز بہت بھاری بری خبر کا انتظار کریں کہ کب جلتے ہوئے جنگل میں آخری شجر بھسم ہو کر گرتا ہے۔
پاکستان کے جن خیر خواہوں نے ملک کو ڈی ریل کیا اب وہ خوبصورت موڑ تلاش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے سینے کو جن مہم گردوں نے زہر میں بجھے ہوئے تیروں کا تختہ مشق بنا کر رکھا اب وہ تریاق زہر کی جستجو میں ہیں۔ ہائے افسوس! بادشاہ گروں نے سگریٹ کے ایک کش کا لطف اٹھانے کی خاطر سارے جنگل کو آگ لگا دی اور اب آشیانہ بچانے کا دجل کرتے ہیں
مقام نزاع پر گاڈ فادرز کا سیاست سے عدم مداخلت کے عہد و پیماں باندھ کر خوبصورت موڑ تلاش کرنا اسی طرح ہی ہے جیسے ایک جاہل نیم حکیم عطائی مریض کو تختے پر لیٹا کر اس غریب کے دل پھیپھڑے جگر گردے نکال کر پھینک دیتا ہے اور پھر بڑے سکون سے ہاتھ جھاڑ کر مریض کے عزیزوں سے کہتا ہے کہ اپنے مریض کو خود سنبھالیں۔ میں اس کے علاج سے عدم مداخلت کا اعلان کرتا ہوں۔ پے درپے اندرونی حملوں نے عدالتی، معاشی، سماجی Organs کے بخرے اڑا دیے اور اب کٹے پھٹے لاشے کے سرہانے کھڑے حیران ہوتے ہو کہ مریض سانس کیوں نہیں لے رہا۔
تیل بھی تم نے ڈالا اور آگ بھی تم نے لگائی۔ جب بستی خاکستر ہو گٰی تو گلزار و زعفران کے خواب دیکھتے ہو۔
مملکت کے دیوتاؤں نے پاکستان کے ساتھ رئیس سیاح کی مانند سلوک روا رکھا۔ جس طرح ایک سیاح اجنبی ملک میں سیر سپاٹے کے لیے جاتا ہے۔ وہ پر لطف مقامات ٹٹولتا ہے، اس کے شب و روز عشرت کدوں میں بسر ہوتے ہیں۔ وہ دلکش مناظر کو دیکھ کر آنکھیں خیرہ کرتا ہے۔ پھر پرتعیش ٹور مکمل کر کے سیاح اپنے وطن لوٹ جاتا ہے۔ اس سیاح کو دوران سیر سپاٹا اس حقیقت سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ پر لذت جگہوں سے دور ظلمت کے اندھیرے کتنے گہرے ہیں اور ان صد سالہ تاریکیوں میں عوام کس طور جی رہے ہیں۔ سیاح تو بس خوشگوار لمحات گزارنے آتا ہے۔
پاکستان کے آئن سٹائنوں نے بھی نظام حکومت کو سیاحتی مقام مان کر چلایا۔ طاقت و اقتدار کے حوض میں غسل کیا۔ اختیارات کو لونڈی کی طرح استعمال کرتے رہے اور جب جام و سرور کی محفلیں برخاست ہو گئیں تو پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر سیٹی بجاتے ہوئے ملک سے چلے گئے۔ یہ ہے کل تاریخ پاکستان کی۔
بات تعلق گری کی چل نکلی ہے تو ذرا باریک بینی سے معلوم ہوتا ہے کہ سعادت حسن منٹو اور عمران خان کے درمیان بھی مماثلت ہے۔ منٹو نے کہا تھا کہ میرا کام جنازہ پڑھانا نہیں ہے۔ میں تو محض مردے پر سے چادر کھینچ لیتا ہوں تاکہ لوگوں کا مزہ کرکرا ہو جائے۔ عمران خان نے نہ صرف مردے پر سے چادر کھینچی بلکہ اس مردے کے گلے سڑے پھیپھڑے، سیاہ دل اور سرطان زدہ جگر بھی میز پر سجا کر رکھ دیے کہ اے لوگو! دیکھو یہ ہے سلطنت کا اندرونی و بیرونی نظام۔
نماز جنازہ پڑھا کر اس تعفن زدہ مردے کو دفن کرنا۔ عمران خان کی استعداد و طاقت سے باہر ہے۔ عمران کے متوالے عجیب آس لگائے بیٹھے تھے کہ ہمارا کپتان تن تنہا ہی مردے کو کندھوں پر لادے شمشان گھاٹ پہنچے گا اور پھر خود ہی چیتا جلانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرے گا اور اس طرح ملک کا گندا نظام جل کر بھسم ہو جائے گا۔ اس کے بعد عمران خان مردے کی راکھ کو گنگا جل بہا کر ایک نیا نظام قائم کرے گا جس میں امن و شانتی و انصاف کا بول بالا ہو گا۔
جان نثار جس کو ملک کا نجات دہندہ سمجھتے رہے۔ وہ محض ایک ایسا اہلکار نکلا جو تختہ دار کے پاس کھڑا مجمع کے سامنے پھانسی کے مجرم کے جرائم پڑھ کر سناتا ہے۔ عمران خان نے غیرارادی طور پر نظام کی غلاظتوں اور اس کے پیچھے پردہ نشینوں کو عوام کے سامنے عیاں کر دیا۔ یہ شخص قینچی کی مانند ہے جس نے پردے چاک کر دیے ہیں۔ اس قینچی کا کمال دیکھیں کہ پردہ نشین خود غیر مناسیب آڈیوز اور ویڈیوز کا ذخیرہ لے کر سامنے آ گئے۔ اس ”ٹوٹا لیکس“ کا قسط وار سلسلہ قینچی کو ایکسپوز کرنے سے زیادہ اداروں کو برہنہ کر رہا ہے۔ با اثر لوگوں کی خفیہ طور پر ویڈیوز بنانا پھر با وقت ضرورت بلیک میل کر کے اپنی مرضی کروانا۔ اکیسویں صدی میں یہ ”ٹوٹا نظام“ پاکستان میں ہی کھلم کھلا چل سکتا ہے۔
عمران خان کا بنیادی کارنامہ یہی ہے کہ اس نے قینچی بن کر پردہ نشینوں کے پردے چاک کیے، اس سے آگے خان صاحب کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ قینچی سے پردے تو چاک کیے جا سکتے ہیں مگر صرف قینچی کو استعمال میں لاتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے رفو نہیں کیے جا سکتے۔ قینچی سے کپڑے ادھیڑے تو جا سکتے ہیں لیکن گندے کپڑے نہیں دھوئے جا سکتے۔ کیا ہم جڑی بوٹیوں کے ذریعے علاج میں ماہر ایک حکیم کو ہارٹ سرجن کا درجہ دے سکتے ہیں؟
خان صاحب کے معاملے میں بھی ہم نے یہ ٹھوکر کھائی۔ جو طاقتیں پاکستان کو عرصہ دراز سے لوٹ رہی ہیں ان کے جرائم کے سامنے خان صاحب کی شعوری و غیر شعوری خطائیں طفل کی حماقتیں لگتی ہیں۔ ایک جانب وہ گرو ہے جس نے بل واسطہ یا بلا واسطہ پاکستان کو نچوڑ کر اپنی تجوریاں بھری ہیں اور اس استحصالی و سامراجی گرو کے مدمقابل عمران خان کھڑا ہے تو آپ کا دل خان کی حمایت کے لیے بے چین ہو جائے گا اور ہونا بھی چاہیے لیکن اس زبردست عوامی حمایت کے بعد جو مرحلہ آتا ہے اس مقام پر پہنچ کر خان بری طرح ناکام ہو تا ہوا نظر آتا ہے۔
اگر خان دوبارہ اقتدار میں آتا ہے تو پھر سے ریاستی امور کے فیصلے پیر و مرشد کی روحانیات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے، پنجاب پر پھر سے عثمان بزدار جیسا کوئی سقراط مسلط کر دیا جائے گا۔ پھر سے شہزاد اکبر پارٹ ٹو کو سامنے لایا جائے گا اور عوام کو ایک بار پھر احتساب کی رام لیلہ کے پیچھے لگا دیا جائے گا۔ پھر سے خان اپنی ذہانت بھری حماقتوں کا شکار ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کے متوالو! عمران خان کو ایماندار و قابل حکیم رہنے دیں، اس کو ہارٹ سرجن مت بنائیں۔ خان اس نظام کے اندر مخفی نظام کو عیاں کرنے والا غیر شعوری آلہ ہے لیکن اس نظام کا متبادل نہیں ہے۔ خان فقط بیماری کی تفصیلی رپورٹ ہے لیکن ازخود بیماری کا علاج نہیں ہے۔
خان کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد دو قسم کے شدت پسندانہ رویے دیکھنے کو ملتے ہیں ایک گرو یہ شدت پسندانہ رویہ رکھتا ہے کہ خان انسان نہیں اوتار ہے اور کسی بھی طرز کی تنقید و خطا سے ماورا ہے اور جو خان کے لیے غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتا ہے وہ باشعور فرد ہے باقی سب کچرا ہے۔ دوسری طرف کا گرو پاکستان کی تباہی کا سارا ملبہ خان پر ڈال دیتا ہے۔ یہ دونوں رویے بے شعوری و جہالت کی علامتیں ہیں۔
خان کا کوئی محبوب یہ امکان ظاہر کر سکتا ہے کہ کپتان نے عوام کے دماغوں میں اس قدر شعور ٹھونس دیا ہے کہ یا تو ملک میں اب فرانس و ایران وغیرہ کی طرز کا انقلاب برپا ہو گا یا پھر دوسری صورت میں عمران خان الیکشن کے ذریعے اقتدار میں آ کر پاکستانی سکالر عائشہ صدیقہ کی ”کمپنی“ کو بیرکوں تک محدود کرنے کے بعد ملک میں عدل و انصاف قائم کردے گا۔
میرے نزدیک یہ دونوں امکانات خوشی فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں۔


