جب قہقہہ گُھٹ جاتا ہے
کیا دن تھے نہ سردی کا پتا چلتا تھا نہ گرمی کا بس ہم تھے اور بچپن۔ کھیل کود ہنسی مذاق عروج پر تھا۔ ہنستے تو کھلکھلا کر ۔ اپنی چار سالہ بیٹی کے قہقہے سن کر اپنے بچپن کا وقت یاد آ گیا۔
ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں روح اور جسم میں فاصلہ بڑھنے لگتا ہے بچپن سے نوجوانی تک زندگی کی تلخیاں جسم کو چھو کر گزرتی تھی۔ پھر نا جانے کب وہ تلخیاں روح کو زخمی کرنے لگتی ہیں اور پھر وہ قہقہے جو ہم بے ساختہ اپنی روح تک کو شریک کر کے لگایا کرتے تھے، کھوکھلے ہونے لگتے ہیں۔ ان قہقہوں کا کھوکھلا پن صاف پتا دیتا ہے کہ روح اور جسم میں فاصلہ پیدا ہو رہا ہے۔
آسان نہیں تھا دے درپے حادثات کو برداشت کرنا۔
چار سالہ عنابیہ اب اسکول جانے لائق ہو گئی تھی، بہت شوق تھا اسے اسکول جانے کا جب وہ ڈیڑھ سال کی ہوئی تو کھلونوں کو چھوڑ کر کتابوں سے کھیلتی تھی۔ دادی کے سرہانے سے ناول اٹھا کر چھوٹے چھوٹے قدم لئے ان کے ہی بستر کے نیچے لیٹ کر ورق تکتی رہتی۔ ہم ڈھونڈتے رہتے پتا چلتا کتاب ہاتھ میں لیے سو چکی ہیں وہیں۔
اس شوق کو دیکھ کر سوچا تو یہی تھا کسی بڑے اسکول میں داخل کراؤں گی۔ لیکن قسمت کا پہلا جھٹکا میرا منتظر تھا۔ عنابیہ باپ کے سائے سے محروم ہو چکی تھی ایک اندھی گولی ہماری دنیا اندھیر کر کے چلی گئی۔ بوڑھی ماں اپنی پوتی اور بہو کی بے بسی پہ روتی یا جوان بیٹے کے مرنے پر ۔ اور میں، میں نے ابھی شادی کی خوشیاں دیکھی ہی کہاں تھیں بچی کی پیدائش اس کی پرورش میں ہی وقت گزر گیا تھا شوہر کے ساتھ نہ کہیں گھومنے نکلی نہ تنہا شب و روز گزرے بس رات کے اندھیرے کا ساتھ وہ بھی اتنا مختصر یہ شادی کیسی شادی تھی یہ تو ایک پل پہ سے گزرنا ہوا ماں باپ کے گھر کا سکھ چین پار کر کے آئی اور کھائی میں گود گئی۔
عنابیہ کی دادی نے بہت ڈھارس دلائی، عنابیہ کا واسطہ دیا اس کے مستقبل کے واسطے دیے۔ تب کہیں جا کر غم کے پہاڑ کا بوجھ اٹھا پائی۔ جانے بیوگی کا غم بڑا تھا یا اس سے بڑھ کر بیٹی کی یتیمی کا غم بس ایک دھچکا تھا جو دل کو بہت زور سے لگا تھا۔
زندگی رکتی نہیں نا ضروریات زندگی کم ہوتی ہیں اور نہ ہی زندگی کو کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق پڑتا ہے اسے جینے کے لئے آپ کو چلتے رہنا ہے سو میں نے بھی کمر کس لی۔ کئی مہینوں تک جو منہ بھی نہ دھو پاتی تھی اب تیار ہو کر جانا پڑتا تھا، ریسیپشنسٹ کی نوکری تھی بن ٹھن کر نہ بیٹھتی تو نوکری ہاتھ سے نکل جاتی۔ پبلک ڈیلنگ مذاق تو نہیں تھی چہرے پہ مسکراہٹ سجائے شام ہوتے ہی گھر بھاگنے کی فکر سوار ہوجاتی دو بسیں بدل کر گھر پہنچتی تو عنابیہ اور اس کی دادی میری منتظر ہوتی۔
وقت کچھ اور آگے کھسکا اور عنابیہ اسکول جانے لائق ہو گئیں۔
دادی کے ساتھ جا کر اسکول کا بستہ یونیفارم سب شوق سے خریدا جوتے موزے سب ہی کچھ شاپر میں موجود تھا۔ دادی نے ابھی دروازے کے باہر رکشے سے قدم نیچے رکھے ہی تھے کہ تیز موٹر سائیکل کی ٹکر سے اوندھے منہ گری اور پھر اٹھ نہ سکی۔
عنابیہ کی چیخ و پکار پر میں نے دوڑ کر دروازہ کھولا سامنے کا منظر دیکھ کر جیسے میں کسی اندھے کنویں میں گرتی چلی گئی۔ جب ہوش آیا تو سب قبرستان جا چکے تھے عنابیہ سہمی میرے سرہانے بیٹھی تھی۔ مجھے سکتہ طاری تھا۔ سکتہ ٹوٹ گیا پر سکوت قائم رہا۔
ماں باپ کے کرنے کے کچھ کام اگر وقت پر نہ کیے جائیں توان کا خمیازہ ساری عمر بھرنا پڑتا ہے۔
میں بھی اپنے ماں باپ کی خدمت گار بنا دی گئی تھیں بڑے بہن بھائیوں کی شادی وقت پر ہو گئی میں بڑھاپے کی اولاد تھی سو بوڑھے ماں باپ کی خدمت میرے ذمہ تھی دونوں کے گزرنے کے بعد بہن بھائیوں نے میری شادی کا فرض قرض سمجھ کر اتار ہی دیا اور ایسے منہ پھیرا جیسے بھکاری کو بھیک دے کر پھیرا جاتا ہے۔
اس بات کا اس قدر دکھ نہیں تھا مجھے۔ شادی ہوئی تو سب خوشیاں اپنے گھر سے جوڑ لی لیکن شاید دکھوں کو بہت جلد ہی میرا گھر مل گیا تھا پے در پے آتے چلے جا رہے تھے۔
آج عنابیہ کے کھلکھلاتے قہقہے سنے تو خیال آیا میری ہنسی کہاں کھو گئی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے وقت چہرے پہ تلخی رکھنا ضرورت ہے ورنہ دنیا آسانی سے نگل لیتی ہے۔ گھر آؤ تو معاش کی فکر سوار رہتی ہے۔ محرومیاں، تلخیاں اور حسرتیں وقت کے ساتھ ساتھ روح میں قید ہوتی رہیں اور عنابیہ پروان چڑھتی رہی اعلی تعلیم حاصل تو کی لیکن ایک عام سے اسکول سے آج اپنی گریجویشن مکمل کر کے ڈگری لہراتی ہنستی کھلکھلاتی، خوشی اور زندگی سے بھرپور قہقہے لگاتی گھر میں داخل ہوئی تو میں نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا اور اپنے سینے سے دبوچ لیا اس کی ہنسی کوئی سن نہ لے میری بچی کو نظر نہ لگے۔ میں اسے زمانے کے ہر دکھ سے بچانا چاہتی ہوں میں نہیں چاہتی کہ اس کے قہقہے کھوکھلے ہوجائیں۔ وہ اپنی زندگی کسی کی خدمت میں نہیں گزارے گی وہ اپنی زندگی خود جیئے گی جب چاہے گی تب شادی کرے گی۔
میں جوان بیوہ تھی۔ میں اس کے قہقہوں کو گھٹنے نہیں دوں گی۔ میری گھٹن میرے ساتھ ختم ہوگی۔ عنابیہ اپنی زندگی جیئے گی۔


