نازک دور اور ہمارا ملک


بہت سے انسانوں کا ایک ایسا جملہ ہوتا ہے جسے وہ بار بار دہراتے ہیں ہر گفتگو میں دہراتے ہیں، بنا کسی وجہ کے بغیر کسی ربط کے، یوں وہ جملہ اس شخص کا تکیہ کلام کہلایا جاتا ہے یعنی جس کلام پر مسلسل تکیہ کیا جا رہا ہو۔ یعنی ایک شخص کی جانب سے بار بار دہرانے والے الفاظ تکیہ کلام کہلایا جاتا ہے۔ ویسے تکیہ کلام عام طور پر کسی شخص کے جملے کو کہتے ہیں مگر اس دنیا میں ہمارا شاید واحد ملک ایسا ہے جس کے پچھلے کئی دہائیوں سے ایک ایسا تکیہ کلام ہے جو بار بار سنائی دیتا ہے۔

جی ہاں پاکستان کے حوالے سے بہت سے ایسے جملے ہیں جو کئی دہائیوں سے بولے جاتے ہیں جو پاکستان کا تکیہ کلام بن چکا ہے۔ یقیناً آپ نے بھی اس طرح کے کئی جملے سن لئے ہوں گے اور اتنی بار سن لئے ہیں کہ اب وہ جملے سننے سے پہلے ہی ان سنے کر دیے جاتے ہیں۔ ان جملوں میں سے ایک جملہ ہے ”ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے“ یہ وہ جملہ ہے جو کم و بیش پانچ دہائیوں سے تواتر کے ساتھ بولا جا رہا ہے۔ اور عجب بات ہے نزاکت کا یہ سلسلہ کئی نسلوں کے سامنے جاری رہا مگر یہ دور نہ ہوا۔

اچھا ویسے عجب بات ہے، ملک انتہائی نازک دور سے مسلسل گزر رہا ہے۔ ملک گزر تا ہی جا رہا ہے مگر آگے پیچھے نہیں ہوتا بلکہ نہ اس کا سفر اچھے پہ ختم ہو رہا ہے اور نہ برے پر ۔ یہ جملہ بولنے والے یعنی جن بڑوں کے منہ سے یہ جملہ نکلتا ہے حقیقت میں وہ ہی لوگ اس ملک کو نازک دور پر لے آئے ہیں اور انھی کی مسلسل گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے یہ ملک اس دور نازک سے گزر رہا ہے، عجب سفر ہے جو مسلسل ہے اور منزل فقط تباہی ہے۔ اس سفر کا ایندھن فراہم کرنے والے وہ چند سو لوگ ہیں جو پاکستان کو اپنے مفاد کے خاطر مسلسل پستی کے جانب دھکیل رہے ہیں اور دکھاوے میں فقط بکواس ہے۔

کبھی یہ ملک آئینی طور پر نازک دور سے گزر رہا ہوتا ہے، کبھی یہ ملک دفاعی طور نازک دور سے گزر رہا ہوتا ہے، کبھی ہمارا ملک دہشت گردی کے نازک دور سے گزر رہا ہوتا ہے کبھی یہ ملک معاشی طور پر نازک دور سے گزرتا ہے، کبھی یہ ملکی سیاسی طور پر نازک دور سے گزر رہا ہوتا ہے اور ہاں اخلاقی طور پر ہمارا ملک تو مسلسل نازک دور سے گزر رہا ہے بلکہ اخلاقی دور سے گزر کر بد اخلاقی کے دور میں بھرپور انداز میں داخل ہو چکا ہے۔

اس جملے کی تکرار کرنے والوں نے کبھی اس کی وجوہات نہ بتائی اور اگر کسی نے ہمت بھی کی تو بہت ساری باتیں چھپا گیا کیونکہ یہ جملے بولنے والے اکثر بڑے لوگ اس سلسلہ نزاکت میں بھرپور طور پر پیش پیش رہے ہیں اور سچ بولیں گے تو خود پر ہی جائے گا، سیاسی اشرافیہ کی سیاست، اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی پروجیکٹ، بیوروکریسی کی چالاکیاں، بزنس مینز کی ہوشیاریاں، اور عوام کی مکاریوں کے سلسلے نے اس ملک کو نازک دور میں داخل کیا ہے اور اور اب تک کوئی بھی سدھرنے کا نام نہیں لے رہا۔ دیکھتے ہیں آخر کب ہم اس نازک دور سے باہر نکلیں گے۔

Facebook Comments HS