وزیرخزانہ کا ”ارشاد گرانی“ یا ”مژدۂ جاں فضا“
مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیرخزانہ نے ایک بار پھر وہ ”مژدۂ جان فضا“ سنایا ہے کہ ہماری جان فضا میں پرواز کر رہی ہے۔ یعنی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ خبر، مژدۂ جانفزا تو کسی طور نہیں قرار دی جا سکتی!
ہم اس سے قبل ایندھن کی گرانی کے حوالے سے ”ہم سب“ پر ہی ایک مضمون بہ عنوان ”ایندھنی سبیلیں اور فی سبیل اللہ سواریاں“ رقم کر کے دل کے پھپھولے پھوڑ چکے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ راقم الحروف کی رقم کردہ حروف کی کوئی قیمت نہیں تھی سو ہماری بات کسی نے بھی نہیں سنی۔ ہماری خامہ فرسائی کی کوئی رسائی یا شنوائی نہیں ہوئی اور یہ ضائع ہو گئی اور اس واقعہ کے بعد بھی ایندھن کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ ہو چکا ہے اور موجودہ اضافے سمیت کم ازکم دو بار تو یہ اضافہ بہت ہی ”بڑے پیمانے“ پر ہوا۔
ہمیں تو پانی کا گلاس تک نصیب نہیں لیکن واٹر مافیا کو ٹینکر بھر بلکہ ٹینکروں بھر پانی دستیاب ہے اور ”ہر آتی جاتی سرکار ہے کہ چھوٹے یا بڑے پیمانے ہاتھ میں لیے قیمتیں چڑھائے جاتی ہے!“
مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے تازہ ترین ”مژدۂ جاں فضا“ کچھ یوں سنایا ہے کہ، ”پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 35 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور نئی قیمتیں فوری طور پر ملک بھر میں (عوام کی جان کی) لاگو ہوں گی۔“ موصوف نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ ”ہم نے گزشتہ چار ماہ میں ایک مرتبہ بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔“
وزیر با تدبیر کا یہ جواز نو اعجاز سن کر ہمیں ایک لطیفہ یاد آ گیا جو کہ ہم کچھ ترمیم اور اضافہ کے ساتھ پیش کر رہے ہیں :
”ایک دولتمند اور تنہا خاتون کو ہمیشہ چوری کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ چنانچہ وہ کسی پیر صاحب کی پاس گئیں اور درخواست کی کہ،“ مجھے کوئی ایسی تدبیر بتائیں کے میرے گھر کبھی چوری نہ ہو! ”پیر صاحب نے انہیں ایک تعویذ دیا کہ اسے اپنی چٹیا میں باندھ لیں۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ جب بھی کوئی چور گھر میں داخل ہو گا تو یہ“ کون ہے بھئی؟ ”کی صدا لگانے لگے گا۔ وہ خاتون خوش خوش وہ تعویذ گھر لے گئیں اور اب وہ اطمینان سے سونے لگیں۔
تاہم ایک بار بدقسمتی سے ان کے گھر ایک چور آہی گیا۔ بدقسمتی خاتون کی یا چور کی اس کا فیصلہ قارئین قصہ کے آخر میں کریں تو زیادہ مناسب رہے گا۔ جیسے ہی چور گھر میں داخل ہوا تو تعویذ نے فوراً کام کرنا شروع کر دیا اور نسوانی صدا آئی،“ کون ہے بھئی؟ ”چور مبہوت ہو کر رک گیا اور جب حواس بحال ہوئے تو فرار کا سوچا لیکن دوبارہ وہی صدا سنائی دی تو چونکا اور چوکنا ہو گیا کہ صدا دینے والی سامنے کیوں نہیں آ رہی اور پھر اسے بھارتی سیریل سی آئی ڈی کے اے سی پی پرادیومن (شیوا جی ستم) کی طرح فوراً ہی اندازہ ہو گیا کہ“ کچھ تو گڑبڑ ہے ”اور جلد ہی اس نے اس صدا کے مخرج کو بھی پا لیا اور خاتون کی چٹیا میں بندھے تعویذ پر اپنی پگڑی ڈال دی تو وہ صدا گھٹ کر رہ گئی۔ اس کے بعد چور نے اپنی کارروائی ڈالی اور جو بھی ہاتھ لگا سمیٹ کر ایک گٹھری بنائی اور روانگی کے لیے جیسے ہی پگڑی اٹھائی تو اچانک ہی چٹیا سے بندھے تعویذ سے کسی صدا کے بجائے ایک بلند آہنگ کریہہ چیخ سنائی دی،“ کون ہے بھئی؟ ”چیخ سن کر چور کے اوسان خطا ہو گئے اور سامان ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ جب کہ خاتون بھی جاگ گئیں۔ تاہم اخباری زبان میں ناکام چور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا!
ہم اور آپ بہرحال سوئے ہی رہیں گے!
یہاں ہمیں شاہ عبداللطیف بھٹائی کا ایک بیت یاد آ گیا ہے جس کا ترجمہ گوش گزار ہے :
”تن تسبیح، من موتی، دل دنبورہ (تنبورہ) جن کا،
اور نیند عبادت جن کی، ان کو سونا ہی زیبا۔ ”
مزید دلچسپ لیکن دل خراش بات یہ ہے کہ ان کے مطابق، افواہیں تھیں کہ 80 روپے فی لیٹر اضافہ ہو گا (اور راقم الحروف کے خیال میں ان افواہوں کے ساتھ ساتھ شاید غریبوں کے خاتمے کے لیے ) وزیراعظم کے مشورے سے فیصلہ کیا گیا کہ (افواہوں کے تدارک کے لیے ) فوری طور پر 35 روپے اضافے کا اعلان کیا جائے۔ ”
افواہ سازوں کا تو نا معلوم کیا حال ہوا لیکن ہم ان کے اس ”ارشاد گرانی“ پر صرف اف۔ واہ کر کے رہ گئے۔ کہ اب تو کراہنے کی بھی سکت نہیں رہی!
البتہ خان صاحب اور ان کے متفقین کے خیال سے متفق اس خبر کو رجائیت پسندانہ اور مثبت انداز میں لیں تو 35 روپے کے حقیقی اضافے پر ”اف“ اور 45 روپے کی مفروضہ بچت پر ”واہ“ کر سکتے ہیں!
یوں بھی گزشتہ ہفتے پاکستانی روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کمی اور روپے کی ارزانی کے بعد معاشی ماہرین اور تجزیہ نگار ہی نہیں بلکہ ہم جیسے غیر ماہرین، کند ذہن و جاہلین اور عوام کالانعام بھی سمجھ رہے تھے کہ یہ سستا روپیہ عنقریب ہمیں مہنگا پڑنے والا ہے۔ اور یوں حکومت یا حکمرانوں کے ”واقفان ماضی و حال“ گزشتہ دو روز سے پیٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا کر کے اپنے مال میں اضافہ کر کے مزید مالامال ہو گئے ہیں۔ اور اب ٹرانسپورٹرز کی باری ہے کہ وہ بھی حکومت اور واقفان ماضی و حال سے مل کر ”ھل من مزید“ کا نعرہ لگا کر عوام الناس کا ستیا ناس کریں اور ان سے اپنا اپنا حصہ بٹوریں۔
حالانکہ ہم ایک اخبار سے متعلق ہیں، لیکن اس کے باوجود وطن عزیز کے حالات اور واقعات اور ”وزراء اور مشراء“ کے ناموں اور کاموں سے عام طور پر بے خبر رہتے ہیں۔ اخبار سے متعلق ہونے سے خدانخواستہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم صحافی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ آپ ہمیں اخباری کارکن سمجھ لیں، کدال کے بجائے قلم یا پھر کی بورڈ پر انگلیاں چلا کر رزق کمانے والا ایک قلمی مزدور (اور قلمی یوں بھی کہ ہمارے اس پیشے کی کوئی جڑبنیاد نہیں۔
گریجویٹ تو نہیں بس یوں سمجھیے کہ سائنس سے گرے کامرس میں اٹکے اور وہاں سے ملازمت میں لٹکے ) کیوں کہ تازہ ترین قوانین کے مطابق یونیورسٹیز کی طرف سے جرنل ازم کی ڈگری کے اجراء کے بغیر صحافت کا دعویٰ کرنے والوں کو عدالت کی طرف سے ڈگری جاری ہو سکتی ہے! جب کہ ہمارے پاس نہ تو صحافت کی اصلی ڈگری ہے۔ نہ ہی نقلی۔ کہ ہم یہ کہ کر خوش ہو جاتے کہ ڈگری تو ڈگری ہے چاہے اصلی ہو یا نقلی!
تاہم ہمیں عام طور پر صدور اور وزرائے اعظم کے علاوہ اگر کسی وزیر کا نام یاد ہوتا ہے تو وہ زیادہ تر وزیرخزانہ کا۔ جیسے سابقہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل تھے اور موجودہ اسحاق ڈار اور ان سے پہلے عبدالحفیظ شیخ صاحب اور شوکت ترین صاحب کے ادوار میں بھی ہم ”الامان الحفیظ“ ہی پکارتے رہے۔ یہی وہ وزراء ہوتے ہیں جو کہ قیمتوں میں اضافے اور روپے کی ارزانی کے باعث ہم جیسے بے خبروں کی بھی خبر لیتے رہتے ہیں!
اگرچہ سابق و لاحق وزرائے خزانہ نے جن برگزیدہ ہستیوں کے نام اختیار کیے ہوئے ہیں ؛ ان کے قربان جائیے، ان میں سے ایک اسلام کے مطابق اور دوسرے یہودیت کے مطابق اپنی جان قربان کرنے کے تیار ہو گئے تھے مگر یہ اور اس قسم کے دیگر ”حضرات“ تو شاید ہمیں ہی قربان کر کے اپنے اپنے پیش رو پیشہ ور و غیر پیشہ ور سیاستدانوں کی طرح السلام علیکم پاکستان کہ کر دبئی شبئی چلے جائیں گے اور ہم شاید ان کے جان نشینوں اور شہ نشینوں کو بھگتتے پھریں گے؟
ایندھنی سبیلیں اور فی سبیل اللہ سواریاں


