پشاور میں خود کش بم دھماکہ: صلیبیں میرے دریچے میں
پولیس لائنز پشاور میں خود کش بم دھماکے میں 100 سے زیادہ شہادتوں اور 150 سے زائد افراد کے زخمی ہونے سے وطن عزیز ایک دفعہ پھر لرز اٹھا۔ قومی میڈیا پر ایک بار پھر سے حکومتی و ریاستی حلقوں، سینئر تجزیہ کاران کی رٹی رٹائی باتوں اور سیاسی الزام تراشیوں ایک بازار گرم ہو گیا۔ ہم گزشتہ 20 برس سے اسی قسم کی فضول باتیں ہی سن رہے ہیں۔ ایک عام انسان کی زندگی میں 20 سال خاصہ بڑا عرصہ ہوا کرتا ہے۔ اس گزرے ہوئے عرصہ میں دہشت گردی کے خلاف ایک بہت بڑی جنگ بھی لڑی گئی جس میں بڑے بڑے نام امریکہ، نیٹو، ایساف اور نان نیٹو اتحادی جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔
کھرب ہاء ڈالر، لاکھوں عوام کا جسمانی قتل یا شہادت اور تا عمر معذوری، لامحدود دوسرے مادی وسائل کو جھونک دینے باوجود نتیجہ یہ ہے کہ وطن عزیز ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ جنگ کے ضمنی یا دیگر فکری معاملات و خیالات مثال کے طور پر دہشت گردوں سے شدت کی جنگ، مذاکرات سے مسئلہ کا حل، اسلام سے خروج کے فتوے، امن کے لیے دہشت گردوں کی منت سماجت وغیرہ، غرض کہ ہر قسم کے تجربے کر کے بھی دیکھ لیے گئے مگر نتیجہ صفر بٹہ صفر۔
ہمارے کچھ سنجیدہ احباب کا حتمی خیال ہے کہ امریکہ اینڈ کمپنی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہار چکی ہے۔ بحیثیت سیاست کے ادنیٰ طالب علم ہمارا نقطہ نظر ہے کہ مذکورہ جنگ سرے سے لڑی ہی نہیں گئی اور نا ہی جنگ کے متبادلات پر بھی کوئی سنجیدہ کاوش کی گئی یا ہو سکی۔ یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جنگ ابھی جاری ہے۔
سیکھنے کے لیے یا تجربات سے نتائج اخذ کرنے کے لیے 20 سال کا عرصہ خاصا مناسب ہوتا ہے۔ ماضی قریب کی آخری کامیاب جنگ نازی ازم کے خلاف لڑی گئی۔ 80 برس بیت جانے کے باوجود آج تک کسی فرد یا گروہ کو ہٹلر یا میسولینی کے نقش قدم پر پیرا ہونے کی جرات نہیں ہوئی۔ نوآبادیاتی نظام کے خلاف اور دور غلامی کے خلاف بھی کامیاب جنگیں لڑی گئیں۔ ویتنام کی سامراجی قبضہ کے خلاف کامیاب جنگ کو بھی زیر مطالعہ رکھا جا سکتا ہے۔
مختلف اوقات، مقاصد، فریقین اور مختلف جغرافیائی حالات میں لڑی جانے والی ان کامیاب جنگوں میں بیشمار عوامل اور ان کی اثر پذیری کو دیکھا اور جانچا جا سکتا ہے۔ ہمارے مطابق ان تمام جنگوں میں کامیابی کے عوامل میں صرف دو کو قرار دیا جا سکتا ہے محدود پیمانے کی ہتھیار بند لڑائی اور دوسرے نمبر پر عوامی نظریاتی پذیرائی یا ذہنی clarity۔ اسی لیے اکثر کہا جاتا ہے کہ عوام کی مدد کے بغیر دنیا کی کوئی بھی فوج جنگ لڑ ہی نہیں سکتی جیتنا تو دور کی بات ہے۔
دہشت گردی خلاف جنگ جو بیس سال لڑی گئی اس میں فرنٹ ریاستوں کے طور پر امریکہ اور پاکستان کو قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ دوسرے فریق کے طور پر چند ہزار یا چند لاکھ دہشت گردوں کے مختلف گروہ جن میں مختلف قومیتوں کے لوگ دنیا بھر سے شریک عمل اور ان کا جنگی ٹھکانہ یا مورچہ افغانستان بنا۔
اگر تو یہ جنگ ناکام تھی تو امریکہ کی ناکامی کے عوامل مختلف ہیں اور پاکستان کی ناکامی کے اسباب کچھ اور ہیں۔
امریکہ چونکہ کہ جنگ ختم کر کے، یوریا بستر لپیٹ کر اور شاید توبہ تائب ہو کر واپس اپنے جزیرے پر جا چکا لیکن پاکستان ابھی تک اس جنگ کی لپیٹ میں ہے اس لیے ہم اپنا کالم کا فوکس پاکستان پر ہی رکھیں گے۔
پاکستان کو اس جنگ میں کودنا چاہیے تھا یا نہیں اس وقت یہ سوال فضول ہو چکا اب تو جنگ گلے پڑ چکی اور اس وقت پاکستان کے پاس جنگ جیتنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جنگ جیتنے کے محرکات میں ہم نے اپنے کالم میں پہلے طے یا فرض کر لیا کہ محدود ہتھیار بند لڑائی اور مرکوز نظریاتی سوچ ہی فتح کی ضامن ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ 20 سالوں میں کیا پاکستان کی فوج نے لڑائی کی یا نہیں کی تو جواب یہی ہے کی اور ٹھیک کی بیشمار کاوشیں، قربانیاں اور شہادتیں۔ یہاں اگلا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ پھر کمی کہاں رہی۔ عرض ہے کہ لڑنے والی کل فورس یعنی ریاست ہی فکری اعتبار سے دو یا زیادہ حصوں تقسیم رہی اور ابھی تک تقسیم ہے۔ ریاستی سوچ طے ہی نہ کر سکی کہ طالبان دوست ہیں یا دشمن۔ بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ غلامی کتے سے بد تر اور ذہنی و فکری الجھاؤ (Confusion) غلامی سے بھی بدتر۔
عوامی سوچ اور موقف کا عالم یہ ہے کہ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے دہشت گردی کے خلاف کبھی کوئی واضح یا دو ٹوک موقف نہیں رکھا۔ بڑی مذہبی سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کی شہادتوں اور ان کے لیڈران پر خود کش حملوں کے بعد بھی ان کی قیادت نے کوئی فیصلہ کن موقف یا فتوی نہیں دیا۔ سیاسی پارٹیوں کی ذہنی پسماندگی کی حالت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکمرانی میں(2008۔ 2013) سوات کے مسئلہ پر قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر سوات کو طالبان کے حوالے کر دیا البتہ متحدہ قومی مومنٹ نے قرارداد کی زبانی کلامی مخالفت ضرور کی۔ اس کے بعد سوات کے عوام کی گردنیں کٹنی شروع ہوئیں پھر تقریباً 2 ماہ بعد فوج نے سوات میں آپریشن کر کے طالبان کو وہاں سے بے دخل کیا۔
بعض نام نہاد ترقی پسند راہنما بھی فوجی آپریشن کی مخالفت کر کے بالواسطہ طور پر طالبان کی مدد کرتے رہے۔ طالب علم کے طور پر ہم ہمیشہ ان سے یہ سوال کرتے رہے کہ آخر اسلحے اور خود کش جیکٹوں سے لیس جتھے جو عوام کے قتل عام میں بھی ملوث ہیں ان کا فوجی آپریشن کے علاوہ حل کیا ہے۔ جواب میں ہمیں صرف خاموشی یا فضول سی باتیں ہی سننے کو ملیں۔
ایک محب وطن اور عوام دوست شہری ہونے کی ناتے آج ہم یہ اخذ کرنے پر مجبور ہیں کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کا ہو یا پولیس لائنز پشاور ہو یا ”گڑی ہیں کتنی ہی صلیبیں میرے دریچے میں۔“ پر تمام خاموش زبانیں اور فکری Confusion پھیلانے والی زبانیں اتنی ہی مجرم ہیں جتنا کہ یہ دہشت گرد۔
فیصلہ کن جنگیں ہمیشہ عوام ہی لڑا کرتے ہیں اور اللہ تعالی کا خاص کرم ہے کے ان دہشت گردوں کو دنیا میں کہیں بھی عوامی پذیرائی نہیں مل سکی۔


