یہ خونریزی کب تک؟
صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں دہشت گردی کے افسوسناک سانحے نے ساری قوم میں دکھ کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ یہ خود کش دھماکہ پولیس لائنز پشاور کی جامع مسجد میں عین نماز ظہر کے وقت ہوا۔ اس سانحے میں 101 معصوم شہری شہید ہو چکے ہیں۔ کم وبیش ڈیڑھ سو شہری زخمی ہیں۔ دھماکے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا تھا۔ یہ اطلاعات سننے کو مل رہی ہیں کہ دھماکے کے متعلق ہونے والی تفتیش میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
جلد دہشت گردوں کا سراغ لگا لیا جائے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس حادثے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ سینٹ اور قومی اسمبلی میں بھی دہشت گردی کی اس واردات پر اظہار خیال ہو رہا ہے۔ مذمت ہو رہی ہے اور اظہار افسوس بھی۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے ضمن میں ایک جامع اور ٹھوس پالیسی وضع ہونی چاہیے۔ ریاست پاکستان پر عزم ہے کہ اس خود کش دھماکے میں شہید ہو جانے والوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ یقیناً یہ سب باتیں اخلاص نیت اور دردمندی سے ہو رہی ہیں۔ چند سال پہلے بھی ہمیں ایسی ہی باتیں سننے کو ملی تھیں۔
اسی شہر پشاور میں آج سے آٹھ سال پہلے یعنی دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا۔ اس میں 140 بے گناہ شہری شہید ہوئے تھے۔ شہید ہونے والوں میں معصوم بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ اس وقت بھی پوری قوم کو بہت دکھ ہوا تھا۔ اس واقعے کے فوراً بعد وزیر اعظم نواز شریف نے ایک آل پارٹیز کانفرنس طلب کی تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس موقع پر مثالی اتحاد دیکھنے کو ملا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب نے چار ماہ پر محیط احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے بھی تلخیوں کو بالائے طاق رکھ کر عمران خان کو فون کیا تھا کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کریں۔ عمران خان سمیت کم وبیش تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ سیاسی اور عسکری قیادت مل بیٹھی۔ نتیجہ اس بیٹھک کا یہ نکلا کہ اتفاق رائے کے ساتھ ایک بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان وضع ہوا۔ مقصد اس پلان کا یہ تھا کہ دہشت گردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اس زمانے میں واقعتاً دہشت گردی کے جن قابو میں آ گیا تھا۔
اس زمانے کی نواز شریف حکومت تین چیزوں پر فخر کیا کرتی تھی (اور اب بھی کرتی ہے ) ۔ ایک یہ کہ انہوں نے تیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر کے ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا۔ دوسرا یہ کہ ان کی حکومت سی۔ پیک کی شکل میں کم وبیش پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں لائی۔ تیسرا اس بات پر فخر کیا جاتا تھا ان کے دور میں آپریشن ضرب عضب ہوا، جس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مسلم لیگ (ن) کے اپنے دور میں بھی سو فیصد عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔
میڈیا کی اصلاح احوال، دینی مدارس کی نگرانی، اور نیکٹا کو فعال کرنے سمیت کچھ معاملات التوا کا شکار رہے۔ اس کے باوجود اس زمانے میں نیشنل ایکشن پلان کا وجود دکھائی دیتا تھا۔ لیکن عمران خان کے دور حکومت میں نیشنل ایکشن پلان پس منظر میں چلا گیا۔ اس پلان پر اس طریقے سے عمل درآمد نہیں ہو سکا جس طرح سے ہونا چاہیے تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردی کا عفریت سر اٹھانے لگا۔
اس سارے منظر نامے میں ایک بات خاص طور پر زیر بحث ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آپریشن ضرب عضب نے واقعتاً دہشت گردی کا نیٹ ورک توڑ کر رکھ دیا تھا۔ دہشت گرد افغانستان میں اپنے ٹھکانوں میں پناہ تلاشنے پر مجبور ہو چلے تھے۔ جب افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہوئی تو اس وقت عمران خان کی حکومت نے تحریک طالبان پاکستان سے مفاہمت کی غرض سے بات چیت کے دروازے کھول دیے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد نہایت سہولت سے پاکستان واپس آنے لگے۔
عمران خان ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں چالیس ہزار پاکستانی طالبان کو پاکستان میں آنے کی اجازت دی۔ ممکن ہے خان صاحب نے یہ سب اخلاص نیت سے کیا ہو۔ مگر اس فیصلے کا پاکستان کو بے حد نقصان ہوا۔ وہ عناصر جو پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہے، انہوں نے ایک مرتبہ پھر ہمارے ملک میں دہشت گردی کی ایک لہر اٹھا دی ہے۔ خیبر پختونخوا ، بلوچستان کے ساتھ ساتھ یہ دوسرے صوبوں میں بھی سر گرم ہو گئے ہیں۔
اب سوال ہوتا ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عمران خان موجودہ حکومت کو اس سب کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ موجودہ حکومت کا موقف ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف اس ساری صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ خیبر پختونخوا جو دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے، وہاں گزشتہ دس سال سے تحریک انصاف حکومت قائم رہی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان حکومت کی طرف سے ہزاروں طالبان کو پاکستان داخلے کی اجازت دینے کی وجہ سے دہشت گردی کا جن بوتل سے باہر آ گیا ہے۔
بلاشبہ ضرور غور و فکر ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کا جن کیونکر بے قابو ہوا۔ اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ کس کس سے کیا کیا غلطیاں ہوئی ہیں۔ تاکہ مستقبل میں اس سب سے سبق سیکھا جا سکے۔ تاہم یہ حساب کتاب بعد میں ہوتا رہے گا۔ فی الحال اس بات پر غور ہونا چاہیے کہ اب دہشت گردی پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس ضمن میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کر لی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ پی۔ ٹی۔ آئی نے پشاور میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔ اسے بد قسمتی ہی کہنا چاہیے کہ ہمارے ہاں سیاسی تفریق کی لکیریں نہایت گہری ہو چکی ہیں۔ سیاسی اختلافات، سیاسی اور ذاتی دشمنی میں ڈھل چکے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ روایت بھی جڑ پکڑ چکی ہے کہ حساس قومی معاملات بھی سیاست بازی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اسے المیہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار قومی معیشت پر بھی سیاست کرتے ہیں۔ تعلیم، صحت اور دیگر قومی معاملات پر بھی یکجا نہیں ہوتے۔ موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ امن و امان کی خاطر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا جائے۔ آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے سے قبل تحریک انصاف کو سوچنا چاہیے کہ کیا یہ سیاست کرنے کا موقع ہے؟
کیا ہم اپنے پیاروں کے خون پر بھی اکٹھے نہیں ہو سکتے؟ لازم ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی اختلافات کو کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھیں۔ ضروری ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں سیاسی اور عسکری قیادت مل بیٹھے۔ ہمارے دانشور، علماء، اساتذہ، صحافی اور پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ قومی یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ سب لوگ مل بیٹھیں گے تب ہی دہشت گردی کے جن کو بوتل میں بند کیا جا سکے گا۔
۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات


