آج کا نوجوان مذہب بیزار کیوں ہے؟
آج کل کا نوجوان جہاں کئی معاشرتی و سماجی اور اخلاقی مسائل کا شکار ہے، وہی ایک بہت بڑا مسئلہ مذہب بیزاری کا بھی ہے۔ تقریباً ہر دوسرا نوجوان مذہب بیزار ہے اور اس مذہب بیزاری کو وہ چیخ چیخ کر سوشل میڈیا اور اپنے دوستوں کے ساتھ کی گئی بیٹھکوں میں بیٹھ کر ذکر کرتا رہتا ہے۔ پھر اس کی مذہب بیزاری یہاں نہیں رکتی بلکہ ساتھ بیٹھے دوست بھی ایک وقت آتا ہے کہ وہ بھی اس گفتگو میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اور اپنی مذہب بیزاری کو بھی کھل کر بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ سرکل بڑھتا چلا جاتا ہے۔
دور بیٹھے بزرگ ان کی گفتگو سن کر استغفار پڑھ لیتے ہیں۔ یا پھر کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بزرگ وہاں سے اٹھ کر ان کی سرزنش کرنے آ جاتا ہے اور واپس چلے جانے پر ان نوجوانوں کے لئے تمسخر کا باعث بنتا ہے۔ لیکن کسی نے بھی ان سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کہ آخر ان کی اس مذہب بیزاری کے پیچھے ان نوجوانوں کی منطق کیا ہے؟ کن وجوہات کے بنا پر یہ نوجوان مذہب سے اس قدر بیزار ہیں؟ کسی نے بھی ان کی سرزنش کرنے کے بجائے اس موضوع پر بحث و مباحثہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ کسی نے بھی ان سے مکالمہ کر کے عقلی دلائل سے انھیں قائل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور نہ ہی انھیں اس قابل سمجھا کہ ان سے اس متعلق بھی کوئی بات کی جائے۔ آپ اور میں اسے کمیونیکیشن گیپ یا پھر جنریشن گیپ کہہ کر آگے نکل سکتے ہیں مگر یہ یہاں معاملہ ذرا زیادہ سنجیدہ نوعیت کا ہے۔
اس سے پہلے کہ میں اس موضوع پر اپنی ناقص رائے پیش کروں، میں نے ایسے دوستوں سے جو لکھ بھی رہے ہیں اور منطق کے تحت بات کرنے والے ہیں، ان سے یہی سوال پوچھا کہ ”آج کا نوجوان مذہب سے کیوں بیزار ہے؟“ تو درج ذیل جواب موصول ہوئیں۔
”سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر نوجوان مذہب سے بیزار نہیں ہے، بلکہ چیدہ چیدہ لوگ (جو میری نظر میں عقل و شعور رکھتے ہیں ) ہی مذہب سے بیزار ہو کر یا تو ملحد ہو چکے ہیں یا پھر عنقریب ہو جائیں گے۔ جب ہماری سوچ کے نئے دریچے کھلتے ہیں تو ہمیں ان سوالات کے جواب چاہیے ہوتے ہیں جن پر مذہب میں مکمل خاموشی ہے مثال کے طور پر خدا اس دنیا کو بنانے سے پہلے کیا کر رہا تھا؟ یا یہ کہ جب خدا کے بس میں ہے کہ وہ تمام انسانوں سے بہتر اعمال سرانجام دلوا سکتا ہے تو وہ کیوں ایسا کر رہا ہے کہ بہت سارے لوگ“ راہ راست ”پر نہیں اور یہ طے ہے کہ مرنے کے بعد وہ جہنم کی آگ میں جلیں گے۔“
اس رائے سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ جو لوگ سوال و جواب کرتے ہیں اور عقل و شعور رکھتے ہیں، وہ مذہب سے بیزار ہیں۔ جن سوالوں پر مذہب میں مکمل خاموشی ہے وہی سوال آگے چل کر لوگوں کو ملحد ہونے پر اکسا رہے ہیں۔ پھر ایک بہت بڑی بحث ”خدا کے وجود“ کے حوالے سے نوجوانوں کے اذہان میں کئی سوال پیدا کرتی ہے۔
ایک دوسرے نوجوان کی اسی موضوع پر رائے دیکھیے۔
”نوجوانوں کی مذہب سے دوری کی سب سے بڑی وجہ علماء ہیں جو انھیں مذہب سے بیزار کرتے ہیں۔ اپنی لا علمی چھپانے کے لیے جب کوئی عالم دین کسی نوجوان کے سوال کا جواب دینے کی بجائے اسے خاموش کروا دیتا ہے تو نوجوان یہی سمجھتا ہے کہ ان باتوں کا جواب مذہب کے پاس ہی نہیں۔ دوسرا علما مذہب اور سائنسی علم کو ساتھ لے کے نہیں چلتے الٹا روگردانی کرتے ہیں کہ سائنس ہے ہی غلط اور اگر غلطی سے کوئی سائنسی ایجاد ان کی سمجھ میں آ جائے تو کہتے ہیں یہ ہمیں پہلے ہی پتا ہے تو نوجوان یہی سوچے گا نا اگر آپ کو پتا تھا تو آپ نے کیوں نہیں ایجاد کی۔“
اس رائے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی مذہب بیزاری کی ایک بہت بڑی وجہ علماء کی لا علمی ہے۔ جو نوجوانوں کے سوالات کے جوابات مکمل طور سے نہیں دے پاتے۔ اور ادھر ہی سوالوں سے ٹال مٹول کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسری وجہ علماء کا نوجوانوں کو سائنس سے متنفر کرانا بھی مذہب بیزاری کی ایک وجہ بن جاتی ہے۔ کیوں کہ ہر نوجوان جدید سائنس کا قائل اور مداح ہوتا ہے اور پھر سائنس کے پاس جوابات بھی ٹھوس ہوتے ہیں۔ سائنس کو ہر وقت مذہب سے نتھی کرنا یا پھر سائنس پر مذہب کو فوقیت دینا بھی ایک نوجوان کی مذہب بیزاری کی وجہ ہے۔
”آج کا نوجوان مذہب سے بیزار کیوں ہے؟ اس کی وجوہات ذاتی بھی ہو سکتی ہیں اور معاشرتی بھی۔ کچھ لوگ بہت متجسس ہوتے ہیں اور ہر چیز کا سراغ لگانے کی دوڑ میں جب خدا پہ سوال اٹھاتے ہیں تو انہیں نتیجہ خیز جواب نہیں ملتا (جس کا نتیجہ خیز جواب ممکن بھی نہیں ) ۔
علاوہ ازیں معاشرتی وجوہات میں سب سے پہلی وجہ معاشرے میں گھٹن اور لوگوں کے مزاج میں موجود کٹر پن ہے جو کہ نوجوان کو معنویت سے دور لے جاتا ہے۔ مزید برآں مذہبی واقعات میں فکشن کا استعمال و مذہبی فسادات اور گھر والوں سے برے تعلقات بھی دہریت کی وجہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ فطری ٹریجیڈیز بھی نوجوان کو مذہب بیزار بنا دیتی ہیں، مثلاً کسی پیارے کی وفات یا کوئی حادثہ وغیرہ۔ ”
اس رائے کے مطابق اہم اہم دو تین وجوہات دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک تو کچھ باشعور لوگوں کے کسی چیز کے بارے میں کھوج لگانا یا پھر اس پر سوال کرنا۔ دوسری وجہ جو سامنے آ رہی ہے وہ لوگوں کا روایتی پن اور کٹر پن ہے۔ جب جوانوں کی زندگیوں کو مذہب کی آڑ میں اس قدر مشکل بنایا دیا جاتا ہے یا پھر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہی نوجوان آگے چل ایک باغی کے طور پر سامنے آتے ہیں اور پھر مذہب بیزاری کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر تیسری وجہ کئی واقعات کو منطق کے بغیر بیان کرنا بھی ہے۔ آج کل کے اس دور میں جب ایک نوجوان ایک واقعے کو منطقی اعتبار سے بالکل خالی پاتا ہے تو وہ مجبوراً کئی باتیں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ مذہب بیزاری کی صورت میں نکلتا ہے۔
اب اگر بیان کردہ تمام وجوہات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر آج کا نوجوان مذہب بیزار ہے تو اس میں سراسر سارا قصور ان بزرگان دین پر جاتا ہے جو کہ اپنی لاعلمی کو نوجوان کے اذہان سے چھپانا چاہتے ہیں اور کئی اسلامی واقعات کو بغیر ان کی جانچ پڑتال کے آگے چلا دیتے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہب اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ جیسے یہ کوئی جلاد ہے جو غلطی ہوتے ساتھ ہی سر قلم کر دے گا۔
ساتھ ہی ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آج کے نوجوان کے مسائل پرانے کئی نسلوں کے نوجوانوں سے الگ ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے مذہب کو ایک مکمل ضابطہ حیات دکھانا ہو گا مگر ساتھ ہی ساتھ تمام چیزوں کو منطقی اعتبار سے بھی دکھانا ہو گا۔ پھر نوجوان کے لئے اس قدر گنجائش بھی ہو کہ وہ اس فضا میں ایک کھلی اور ٹھنڈی سانس بھی لے سکے۔


