آ جائیں، یوٹیوب کے بغیر بھی سوشل میڈیا سے کمائیں
دنیا بھر میں ڈیجیٹل ایپس نے روزگار کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے، لیکن پاکستان میں نوجوان ابھی تک سوشل میڈیا کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنا سکے، اتنی ایپس آ گئی ہیں جن کے ذریعے نوجوان ماہانہ پیسے ایسے لے رہے ہیں جیسے تنخواہ لے رہے ہوں۔ ایسی ایپس آئی ہیں جو نقد ادائیگی بھی کرتی ہیں، دیکھا جا سکتا ہے کہ فیس بک پوری دنیا میں آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اور اب یہ فائدہ پاکستان میں بھی ملنا شروع ہو گیا ہے، اب تو فیس بک کے علاوہ ایسی ایپس بھی آ گئی ہیں جو آپ کو وہ ماہانہ سیلری دیں گی
ویسے نوجوانوں نے اب تو سارا دارو مدار یوٹیوب کو ہی سمجھ رکھا ہے، لیکن اب یو ٹیوب سے زیادہ فائدہ دینے والی ایپس بھی موجود ہیں، ویسے یوٹیوب پر آپ کو کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑتا ہے، آپ کو تخلیقی ویڈیوز دینی پڑتی ہیں، اور کافی محنت کے بعد لوگو آپ کو دیکھنا شروع کریں گے، اس وقت پاکستان خصوصاً سندھ کے نوجوانوں میں صرف یہ تاثر ہے کہ لوگ صرف یوٹیوب سے کما سکتے ہیں یہ حقیقت ہے کے یوٹیوب سے لاکھوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں، لیکن اس کے پیچھے تخلیقی ویڈیوز بنانے کا فن ہو، اس کے بہت سے مطالبات ہیں، جیسے کہ 4 ہزار گھنٹے کی ٹائمنگ اور 1 ہزار سبسکرائب ایک سال کے اندر مکمل کریں، تب بھی آپ کی کمائی اس وقت ہوگی جب آپ کو زیادہ سے زیادہ واچ کیا جائے، اکثر یہاں ایسا ہوتا ہے کے نوجوان ایک دوسرے کو منتیں کر کے یوٹیوب چینلز کو سبسکرائب کر رہے ہیں یا کروا رہے ہیں، ، لیکن اگر آپ کے پاس ڈیجیٹل تخلیقی صلاحیت ہے تو تب ہی آپ کو کچھ نہ کچھ ملے گا، لیکن 4 ہزار کلاک ٹائمنگ اور ایک ہزار سبسکرائبر تب ہوں گے جب آپ کے پاس تخلیقی صلاحیت ہو، اور یہ زبردستی سبسکرائب تو لے جاتے ہیں لیکن مستقل طور پر ان کو وہ لوگ نہیں دیکھتے جنہوں نے ذاتی طور پر منسلک ہونے کی وجہ سے سبسکرائب کیا ہو۔
لیکن مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں، بات آتی یہ پیسہ کمانے کی تو ضروری نہیں کہ بس یو ٹیوب سے ہی کمایا جائے، اب ڈجیٹل میڈیا سے کمانے کے لئے تخلیقی مہارتیں ضروری نہیں، یوٹیوب کو چھوڑ کر اور بھی ایسی ایپلی کیشنز ہیں جن کو استعمال کر کے نوجوان ڈالر کما سکتے ہیں۔
یہاں میں ہر ایک ایپ کا ذکر نہیں کر سکتا لیکن مثال کے طور پر میں ایک یا دو ایپس کا ذکر کروں گا (poppo) ) لائیو سٹریم ویڈیو پر آئی ڈی بنا کر روزانہ دو سے تین ڈالر کما سکتے ہیں۔
خاص طور پر یہ ایپ خواتین کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، جو خواتین باہر کام نہیں کر سکتیں وہ اس ایپ سے آسانی سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، جو خواتین اس ایپ کو استعمال کرتی ہیں وہ دو یا تین موبائل فونز سے الگ الگ آئی ڈی بنا کر زیادہ پیسے کما سکتی ہیں، اسی طرح دفتری کام کے دوران، نوجوان اس ایپ کو سائیڈ پر چلا سکتے ہیں، پوپو پر آپ کو لائیو ایک گھنٹا بیٹھنے سے بھی پیسے بنیں گے،
اس ایپ کو کیسے استعمال کیا جائے آپ یوٹیوب پر سرچ کر کے وہاں سے ڈائریکشن حاصل کر سکتے ہیں مزید آپ جب اپنا اکاؤنٹ اس ایپ پر بنائیں گے وہاں پھلے سے ہی موجود دوست آپ کی رہنمائی کریں گے مطلب دو تین دنوں میں آپ کو سب کچھ معلوم پڑ جائے گا، اسی طرح ایک اور ایپ (ishow) ہے جہاں 2 گھنٹے لائیو بیٹھنے سے آپ کو بغیر کچھ بولے ایک ڈالر مل جائے گا، کم سے کم 10 ڈالر اکٹھا کرنے سے وہ آپ چینج کروا سکتے ہیں، ان ایپس سے ہی اپ کو منی چینجر مل جائیں گے، اور آپ کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی بجائے ایزی پیسا یا جیز کیش کے ذریعے ایک منٹ میں رقم مل جائے گی۔ اس طرح ایک اور ایپ بھی یہ (sanck) یہاں سے بھی آپ کما سکتے ہیں،
اس کے علاوہ اور بھی بہت سی ایپس ہیں جن کے استعمال سے کمائی جا سکتی ہے۔ ان ایپس سے واقف اکثر نوجوان بیک وقت تین یا چار موبائل فون استعمال کر کے 5 سے 10 یا اس سے بھی زیادہ ڈالر کما سکتے ہیں۔
ان ایپس کو یوٹیوب کی طرح مونوٹائز کرنے کی ضرورت نہیں، کسی کو سبسکرائب کرنے کے لیے کہنے کی ضرورت نہیں، جو دوست ان ایپس سے کمانا چاہتے ہیں وہ مزید ہدایات کے لیے یوٹیوب پر سرچ کر سکتے ہیں، جس دن آپ جوائن کریں گے، آپ کو پیسے ملنا شروع ہو جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے، یہاں سے آپ ایک آئی ڈی سے روزانہ 2 سے 3 ڈالر کما سکتے ہیں، ساتھ ہی آپ بیک وقت دو یا تین موبائل استعمال کر کے 5 سے 10 ڈالر بھی باآسانی کما سکتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ وقت ضائع کرنے کے بجائے بے روزگاری سے بچیں۔ اور آج سے ہی ان ایپس کو جوائن کر لیں۔




