حالات سے تنگ عوام
دن بدن عوام کی حالات زندگی بدتر سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات یہاں تک کہ اپنی بنیادی ضروریات کی پہنچ سے قاصر ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور معصوم لوگوں کے قتل کا باعث بن رہی ہے۔ حالات سے تنگ مزدور طبقہ اس ذلالت کی زندگی سے سکون کی موت کو بہتر اقرار کر رہا ہے۔ روز مرہ کے پیٹ بھرنے کے لیے ایک بنیادی چیز آٹا جس کو حاصل کرنے کے لیے غریب عوام کے بچے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں۔
ان زندگی سے مایوس لوگوں کا کیا قصور ہے؟
کیا ان کا قصور ہے کہ اس دنیا میں آئے یا ان کا قصور غریب کے گھر جنم لینا ہے؟
مہنگائی کے بھرنے کے ساتھ ساتھ چوری، قتل و غارت اور خود کشی جیسے جرائم بھی جنم لے رہیں ہے جس سے معاشرہ تو برباد ہو رہا ہے ساتھ نوجوانوں، بچوں کے مستقبل کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے۔
مہنگائی کا یہ عروج عوام کو بہت سے غلط کاموں میں ملوث کر رہا ہے جس کا نتیجہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔
آخر
ان بچوں کا کیا قصور ہے کہ انہوں نے اپنا بچپن کھو دیا۔ بچپن کی شرارتیں ان کی معصومیت کہاں ہے جس کا حق ان سے چھین لیا گیا۔ جو وقت ان کی تعلیم و تربیت کا ہے اس وقت وہ زندگی کے مسائل سے لڑ رہیں ہیں۔ جتنے مسائل ہیں اتنے وسائل موجود نہیں ہیں مشکل سے دھکے کھا کر پیٹ بھرنے کے لئے آٹا خریدا جا رہا ہے باقی ضروریات تو دم توڑتی جا رہیں ہیں۔ دیکھا جائے تو ہمارا ملک پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود آٹے کے فقدان کا سامنا کر رہا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ایسا کیوں ہے؟
اس کی وجہ حکومت کی نا اہلی ہے یا کوئی اور؟
ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنے مستقبل کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارا مستقبل اور کن حالات زندگی سے گزرنے والا ہے۔ باقی ترقی یافتہ ممالک اپنے بل بوتے پر کہاں سے کہاں پہنچ گے اگر ہم اپنے ہمسائے ملک چین کی بات کریں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح اس نے محنت، قابل ترین افراد کے چناؤ اور عوام دوست پالیسیوں سے خود کو آگے بڑھایا اور اپنے آٹھ سو ملین لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکالا۔ دوسری طرف ہمارے ملک پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں عوام اپنی ضروریات پوری کرنے کے سے تنگ ہے پیٹ کاٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ نوکری کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور حکمرانوں کی تقریریں ایسی ہوتی ہے جس کے سننے کے بعد ایک سبز باغ دکھائی دیتا ہے لیکن ان کا کوئی عملی کام نظر نہیں آتا۔ اگر تقریروں کی بجائے عملی کام پر توجہ دیں تو حالات کے بہتر ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ امید پہ دنیا قائم ہے اسی امید کا سہارا لیتے ہوئے ابھی معصوم مزدور طبقہ باقی ہے۔
امید کرتے ہیں کہ حکومت عوام کی پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کے حالات بہتر کرنے اور غریب عوام سے ان کے جینے کا حق نہ چھیننے کے لیے کوشاں ہو گی۔

