خدا کا قانون آج بھی وہی ہے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جب معاشرہ اخلاقی اقدار سے روگرداں ہو جائے تو دنیا کا کوئی بھی نظام وہاں بہتر نتائج نہیں دے سکتا۔ یہ اخلاقی اقدار ہی ہیں جو کسی بھی معاشرے میں انسانی حقوق کی محافظ ہوتی ہیں۔ جب افراد اخلاقی قیود سے آزاد ہونے میں ہی لذت محسوس کریں تو معاشرہ ایک ایسی لاعلاج بیماری کا شکار ہو جاتا ہے کہ جو بھی علاج تجویز ہو افاقہ نہیں ہوتا بلکہ ہرنیا علاج مزید تکالیف کا باعث بنتا ہے۔
پارلیمانی نظام ہو یا صدارتی نظام، فوجی آمریت ہو یا جمہوریت، شہنشاہت ہو یا خلافت کوئی بھی نظام حکومت اپنا لیا جائے، اخلاقی پستیوں کا شکار معاشرہ ذلت و رسوائی کے بھنور سے نکل نہیں سکتا۔ اس کے برعکس وہ معاشرہ جو اجتماعی طور پر طے کردہ اخلاقی ضوابط پر کار بند رہتا ہے ہر نظام وہاں امن اور آشتی کا نظام ہوتا ہے۔
برطانیہ میں پارلیمانی نظام اتنا ہی مفید ہے جتنا امریکہ میں صدارتی نظام۔ اور چین کمیونزم کے سائے تلے بھی حیران کن رفتار سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ اگر ہمیں بحیثیت مسلمان نظام خلافت ہی دنیا کا بہترین نظام حکومت نظر آتا ہے تو ہمارے پیش نظر خلافت ابوبکر و عمر ہیں کہ جب معاشرہ اخلاقی پاکیزگی کی انتہاؤں کو چھو رہا تھا۔ ورنہ بعد ازاں جب مسلمان معاشرہ بھی اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہوا تو نام نہاد خلافتیں بھی ظلم و جبر کی داستانیں رقم کرتی رہیں۔
اگر عقل کے در وا کیے جائیں تو اس اصول کو سمجھنے میں ذرا بھی دشواری پیش نہیں آتی۔ معاشرہ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب کوئی نظام کسی معاشرے میں نافذالعمل ہوتا ہے تو اس کی کامیابی کا انحصار اس افرادی قوت پر ہوتا ہے جو اس نظام کو عملاً نافذ کرتی ہے۔ ایک بیمار اور اخلاقی پستی کا شکار معاشرہ باصلاحیت، دیانت دار اور محنتی افراد کی وہ مطلوبہ تعداد پیدا ہی نہیں کر سکتا جو کسی نظام کو اس کی مثبت تشریح پر نافذ کر سکے۔ بلکہ ایسی صورتحال میں افراد نظام کی کمزوریوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اور یوں وہ نظام جتنا بھی اعلیٰ کیوں نہ ہو عملاً ظلم و جبر کا نظام بن جاتا ہے۔
اس کے برعکس صحت مند اور با اخلاق معاشرے میں افراد کی اکثریت کی تمام تر صلاحیتوں اور کاوشوں کا رخ معاشرے کی اجتماعی ترقی و فلاح کی جانب ہوتا ہے۔ اور یوں افراد کی دیانت داری، محنت اور لگن اس معاشرے میں نافذ العمل نظام کو کامیابی سے ہمکنار کر دیتی ہے۔ با کردار اور باصلاحیت افراد اپنے نظام میں موجود تمام تر خامیوں کو بتدریج دور کر لیتے ہیں اور نظام ایک ارتقائی عمل سے گزر کر اپنی بہترین شکل اختیار کر لیتا ہے۔
جب اللہ کے آخری پیغمبرﷺ نے کلمہ توحید کی بنیاد پر افراد کی کردار سازی کا عمل شروع کیا تو سرداران قریش نے انہیں اس کام سے باز رکھنے کے لیے وہ تمام ترغیبات دیں جو کسی بھی انسان کی کمزوری ہو سکتی ہیں۔ ان میں سرداری کی پیشکش بھی شامل تھی۔ آج کی دانش تو اقتدار کی پیش کش قبول کر کے اسلامی نظام نافذ کرنے کو بہتر جانتی لیکن اللہ کے آخری نبیﷺ نے اقتدار میں آ کر نظام بدلنے کی بجائے افراد کو بدلنے کی روش کو اپنایا۔ اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ عرب کے صحرا میں لوگوں کو بلا بلا کر کلمہ حق سنانے والا یہ اکیلا شخص ایک دن دنیا ہی بدل ڈالے گا۔
آئیے جس کو ہم اسوۃ حسنہ کہتے ہیں اس پر غور تو کریں کہ وہ کیا طرز عمل تھا جو ایک عظیم انقلاب پر منتج ہوا۔ مکہ کے 13 نبوی سال آپ نے لوگوں پر فردا فردا محنت کی۔ ان کے کردار کو توحید کے سانچے میں ڈھالا اور اس سے نمودار ہوئے ابوبکرٖ و عمر اور عثمان و علی۔ ایمان کی روشنی نے افراد کو کردار کی بلندیوں تک پہنچایا اور پھر جب بلند کردار لوگوں پر مشتمل اس گروہ کو زمین ملی تو ایک ایسا فلاحی نظام ریاست وجود میں آیا جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔
لیکن آج نبیﷺ کے نام لیواؤں کو آپ ﷺ کا یہ طرز عمل نظر نہیں آتا اور نہ خدا کا یہ قانون ہی سمجھ آتا ہے کہ جب لوگ اپنے رب کے احکامات سے روگردانی کریں تو ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہوتی ہے۔ افسوس کے آج کا مذہبی رہنما ہو یا سیاسی قائد سب کی نظریں ایوان اقتدار پر جمی ہیں۔ نا اہل حکمرانوں اور ناقص نظام کے سوا انہیں کچھ بھی قابل اصلاح نظر نہیں آتا۔ حکمران بدلو۔ نظام بدلو۔ بس انہیں مقبول نعروں میں پوری قوم الجھ کر رہ گئی ہے۔
کوئی نہیں جو افراد کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے اور انہیں ان کے فرائض سے آگاہ کرے۔ کوئی نہیں جو معاشرے کی رگوں میں لہو کی طرح دوڑتی بد دیانتی، بے حیائی اور خود غرضی کی جانب اشارہ تک کرتا ہو۔ کوئی نہیں جو اقتدار کی راہداریوں سے نظریں ہٹا کر نیچے دیکھے جہاں مزدور، چپراسی اور افسر سب بددیانتی اور بد عنوانی کا شکار نظر آتے ہیں۔ کوئی ہے جو ان کو کلمہ حق سنائے۔
کوئی ہے جو گراں قیمت وصول کر کے گلے سڑے پھل اور سبزیاں بیچنے والے خوانچہ فروش کی بھی اصلاح کرے۔ کوئی ہے جو پوری تنخواہ لے کر دفتری اوقات کو ذاتی اشغال میں ضائع کرنے والے کلرک اور افسر کو بھی دیانتداری کا درس دے۔ کوئی ہے جو پوری اجرت لے کر کام چوری کرنے والے مزدور کو اور سائلین کو جھڑکنے والے چپراسی کو اخلاق کا سبق دے۔ کوئی ہے جو عوام کی تربیت کرے اور معاشرے کی کوکھ سے بلند کردار افراد پیدا کرے۔ افسوس کہ کوئی نہیں۔ کیونکہ اس کار خیر کی ابتدا اپنی ذات سے کرنا پڑتی ہے۔ اپنے سینے میں ایمان کی شمع جلانا پڑتی ہے۔
لیکن اگر ہمیں رسوائیوں کے گرداب سے نکلنا ہے اور اگر ہم نے عزت و وقار سے جینا ہے تو ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ اس شیطان مردود کو پہلے اپنے اندر سے نکالنا ہو گا جو ہمیں صرف حکمران طبقے میں ہی نظر آتا ہے۔ ہمیں فردا فردا سب کو اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور پھر صاف ستھرے شفاف اور اعلیٰ کردار کی لو سے پھوٹنے والی روشنی کو رفتہ رفتہ اپنے اطراف میں پھیلانا ہو گا۔ بے شک ابتدا میں نتائج کے لحاظ سے یہ ایک سست اور صبر آزما عمل ہے۔ لیکن استقامت کا دامن مضبوطی سے تھام لیا جائے تو اللہ کا قانون آج بھی وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے تھا


مناسب الفاظ اور بلند خیال سے مزین دل کو چھوتی ہوئی تحریر جو ہمارے بیمار معاشرے کی بیماری کی صحیح تشخیص کرنے کے ساتھ شافی علاج بھی تجویز کرتی ہے۔
!Well Done