بت پرستوں کی نئی نسلیں (1)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
————————————
پہلا باب : خون پسینے سے پھول اور مٹی تک
فضا سے زمین کی طرف دیکھیں تو یہ خطۂ ارض ایک ایسی پینٹنگ کی صورت نظر آتا ہے، جس میں بہت سا سبزہ ہو، جگہ جگہ شوخ رنگ سجے ہوں اور جا بہ جا، چھوٹے چھوٹے مستطیل شکل کے سفید ٹکڑے جڑے ہوں۔
زمین پر اتریں تو یہ سبزہ در اصل سدا بہار درخت اور جھاڑیاں نما پودے ہیں۔ شوخ و شنگ رنگوں میں طرح طرح کے پھول ہیں اور مستطیل شکل کے سفید ٹکڑے درحقیقت سنگ سفید میں لپٹی ہوئی قبریں ہیں۔
”ملکوں کا قبرستان“ کے نام سے مشہور، یہ اس علاقے کا سب سے بڑا اور صرف ”ملک خاندان“ کے لیے مخصوص گورستان ہے۔
؎ لوح مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا
ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا
(ظہیر کاشمیری)
یہاں کی قبروں کی شان و شوکت غماز ہے اس امر کی، کہ یہاں اپنے اپنے زمانے کے نجانے کیسے کیسے رعب و دبدبے، شان و شکوہ اور جاہ و جلال والے لوگ ابدی نیند کی نذر ہوچکے ہیں۔ سنگ سفید کی شاندار قبریں اور سرہانے پر آراستہ و پیراستہ کتبے۔ ہر قبر کے آس پاس خوشنما پھولدار جھاڑیاں۔ اور ان پر سایہ کیے ہوئے بے شمار سرسبز درخت۔ قبرستان کے بیچ و بیچ بہتی ہوئیں کئی جوئے آب۔ مطلب پانی کی بھی فراوانی۔ چھوٹے چھوٹے کچے راستوں کے سوا باقی سب گھاس کے تختے۔
اگر کوئی یہاں موجود ہو اور تھوڑی دیر کے لیے ان قبروں کو بھول جائے۔ تو یہ ایک ایسا باغ ہے جس کی سیر سے کبھی جی نہ بھرے۔ البتہ یہاں ایک بات بہت عجیب ہے، جسے سب سے پہلے یہاں آنے والی ایک خاتون رپورٹر نے نوٹ کیا تھا۔ خاندان میں اپنے اپنے رتبے کے لحاظ سے ہر مرد کی قبر نہ صرف یہ کہ قیمتی پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے، بلکہ اس کے سرہانے پراس کا کتبہ بھی مع اس کے لمبے چوڑے القابات کے مضبوط دیوار میں نمایاں انداز سے نصب کیا گیا ہے۔
لیکن آپ پورا قبرستان گھوم لیجئیے، آپ کو خواتین کی ایسی قبریں جو پتھر سے تعمیر کی گئی ہوں اور ان کے سرہانے کتبے بھی نصب ہوں، چار پانچ سے زیادہ نہیں ملیں گی۔ تحقیق کرنے پر یہ عقدہ کھلا کہ یہ خواتین اپنے خاوندوں سے بعد میں، اور ایسے وقت میں فوت ہوئیں جب ان کے بیٹے جوان ہو چکے تھے۔ ورنہ عام طور پر خواتین یا بچیوں کی قبریں نہ صرف یہ کہ کچی رکھی گئی ہیں، بلکہ ان پر پھولدار جھاڑیاں لگا کر آہستہ آہستہ ان کے نشانات بھی مٹا نے کی ایک دانستہ کوشش کی گئی ہے۔ اس وقت پورے قبرستان میں صرف ایک ہی عورت کی قبر پوری شان و شوکت سے ایک مزار کی شکل جیسی موجود ہے، اور وہ ہے ”مائی جینا“ کی قبر۔ مائی جینا اس خاندان کی سب سے پرانی اور معتبر دائی تھی۔
قطع نظر اس معاملے کے، سارا قبرستان ایک شاندار گلستان کا پرتو لئے ہوئے ہے۔ کئی مالی اور دوسرے کاریگر ہمہ وقت اس قبرستان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ سب انتظام وا انصرام کے اخراجات اٹھاتا ہے اکیلا جہاں داد۔ یہ ملک جہاں داد کون ہے؟ جاننے کے لیے ہمیں اس ”ملک خاندان“ کی کہانی کا بنیاد سے آغاز کرنا پڑے گا۔
یہ بہت پرانا قصہ ہے۔ قلعہ روہتاس اور قلعہ روات کے وسیع و عریض علاقہ میں ”ملک خاندان“ کے کچھ سرکردہ زمیندار لوگ رہائش پذیر تھے۔ ناہموار سطح اور زمینیں بارانی مگر زرخیز تھیں۔ خاص طور پر مکئی کی فصل تو جیسے ان کے گھر بھر دیتی تھی۔ البتہ انہی میں کچھ خاندان دوسروں کی نسبت کافی غریب تھے۔ وجہ، وہ چھوٹی چھوٹی اور کٹی پھٹی زمینوں کے مالک تھے۔ سخت محنت کے باوجود بھی روٹی روزی سے تنگ ہی رہتے تھے۔ خاندانی ناموں کی وجہ سے کہیں مزدوریاں بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ایسے ہی ایک خاندان کا نوجوان ملک فتح داد بھی تھا۔ اچھے ڈیل ڈول کا مالک مگر خیالات ذرا باغیانہ۔ آس پاس کے امیر رشتہ داروں کا رعب داب برداشت کرنا اسے سخت ناگوار گزرتا تھا۔
آخر تنگ آ کر وہ انگریز کی فوج میں سپاہی بھرتی ہو گیا۔ دلیر تھا اور کچھ کر گزرنے کے جذبہ سے بھی سرشار۔ نوکری کے دوران، جب بھی کوئی ایسا موقع آتا وہ خطرات سے کھیلنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا۔ یوں بہادری کے کارنامے انجام دینے پر اسے کئی تمغے مل چکے تھے۔ اسی دوران میں اس نے اپنے ہی جیسے رشتہ داروں میں شادی بھی کر لی تھی۔ پھر 1870 ء میں ایک خاص معرکہ کے دوران اس نے اپنی جان پر کھیل کر اپنے انگریز افسر کی جان بچائی، تو اسے ایک بڑے اعزاز سے نوازا گیا۔ کچھ مالی انعام اکرام کے ساتھ ساتھ ہی اسے پچاس مربع اراضی بھی انعام میں دی گئی۔ زمین پوٹھوہار سے دور، میدانی علاقہ میں تھی۔ بنجر اور غیر آباد بھی۔ مگر پچاس مربع زمین اور پھر اس اکیلے کی ملکیت۔ آس پاس کے تمام خاندانوں میں اس کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
سپاہی کی سروس ہی کتنی ہوتی ہے۔ جلد ہی اسے ایک مختصر پنشن کے ساتھ ریٹائر کر دیا گیا۔ ریٹائر ہونے کے بعد فتح داد نے اس زمین کو آباد کرنا شروع کیا۔ اس رقبہ کے عین درمیان میں اپنے لئے ایک مکان بنایا۔ آس پاس کے لوگوں میں سے جو بے کار تھے مگر تھوڑا بہت بھی کھیتی باڑی جانتے تھے، انہیں بھی مزارعہ کے طور پر وہاں لے آیا۔ جنہوں نے اس کے مکان کے ساتھ اپنی جھونپڑیاں بنا لیں اور وہیں رہنے لگے۔ ملک فتح داد نے اپنی جمع پونجی اور انعام میں ملنے والی رقم سے چند کنویں کھدوائے اور کاشت شروع کردی۔ پہلی فصل کے کٹنے پر وہ اپنی بیوی اور دونوں بیٹوں (الٰہ داد اور مولا داد) کو بھی وہاں لے آیا۔ چند سال بعد ، جب اس علاقے کے پاس سے ایک نہر گزرنے لگی، تو وہ اپنے تمام فوجی اعزازات لے کر تحصیل دار کے دفترمیں پیش ہو گیا۔ جہاں سے ضروری کاغذی کارروائی کے بعد اسے نہری پانی کا پروانہ بھی جاری کر دیا گیا۔
نہری پانی ملنے سے اسے کے کھیتوں کی پیداوار بڑھی۔ مزارعین میں بھی اضافہ ہوا، اور سات آٹھ سال میں ہی اس کے گھر کے آس پاس ایک چھوٹا سا گاؤں آباد ہو گیا۔ فتح داد نے اس کا نام ”ملک پور“ تجویز کیا، جو سب کو پسند آیا۔ اسی دوران میں وہ دو بیٹیوں کا بھی باپ بن چکا تھا۔ پھر اس کے بیٹے بھی اس کا ہاتھ بٹانے لگے اور ملک فتح داد کو ملنے والی پچاس مربع بنجر اور غیر آباد اراضی لہلہاتے کھیتوں میں بدل گئی۔ اور اس کا شمار علاقہ کے بڑے زمینداروں میں ہونے لگا۔
جوان ہونے پر اس نے دونوں بیٹیوں کی شادیاں اپنے رشتہ داروں میں طے کر دیں۔ البتہ اب اس کے دل میں اس خیال نے بھی گھر کر لیا تھا کہ اس کی یہ شان و شوکت، عزت سب اس پچاس مربع زمین کی بدولت ہے۔ اگر فوراً ً زمین کی تقسیم کا آغاز ہو گیا تو اس کا رعب و دبدبہ بھی ملیا میٹ ہونا شروع ہو جائے گی۔ لہٰذا نہایت شان و شوکت سے ہونے والی شادیوں میں، اس نے اپنی بیٹیوں کو بہت سا جہیز تو دیا مگر ان سے لکھوا لیا کہ باپ کی جائیداد میں سے وہ اب اور کچھ نہیں مانگیں گی۔ اور پھر اس کی ہر نسل میں، بیٹیوں کے لیے یہی طریقہ رواج پا گیا۔
وقت آنے پر ملک فتح داد فوت ہو گیا اور ”ملک پور“ کی زمین، دونوں بھائیوں، ملک الٰہ داد اور ملک مولا داد میں برابر، برابر تقسیم ہو گئی۔
ملک الٰہ داد کی ہر نسل کو صرف ایک ہی نرینہ اولاد نصیب ہوتی رہی۔ یوں کئی نسلوں سے گزرنے کے بعد بھی ”ملک پور“ کی آدھی زمینیں اسی طرح ملک جہانداد تک پہنچ گئیں، جیسے کہ وہ اس کے پردادا ملک الٰہ داد کے حصہ میں آئی تھیں۔
ملک مولا داد کی نسلیں بڑھتی رہیں اور ان کی زمینیں تقسیم ہوتے ہوتے اب یہ مقام آ گیا تھا کہ ان میں سے کسی کے پاس بھی دس پندرہ ایکڑ سے زیادہ اراضی نہ رہ گئی تھی۔ جب زمینیں تقسیم ہوئیں تو ملک مولا داد کی نسلوں میں فی کس آمدنی بھی گھٹنے لگی۔ یوں مجبور ہو کر انہوں نے اپنی اولادوں کو پڑھایا اور شہروں میں جا کر نوکریاں کرنے لگے۔ اب ”ملک پور“ میں ملک مولا داد کی نسلوں میں سے کوئی بھی مقیم نہ تھا۔ کچھ نے اپنی زمینیں، ملک جہانداد کے ہاتھ بیچ دیں تھیں اور باقی بھی صرف ٹھیکہ لینے یا مزارعین سے اپنا حصہ وصول کرنے ہی آتے تھے۔
یوں، اس وقت ملک جہانداد ہی ”ملک پور“ کا اصل مالک تھا۔ تقریباً سو سال پہلے ملک فتح داد نے جس گاؤں کی بنیاد رکھی تھی، اب اس کا شمار پرانے اور بڑے دیہاتوں میں ہوتا تھا۔ جہاں مزارعین کے علاوہ کھیت مزدوروں کے بھی اپنے گھر تھے۔ لیکن ایک تو یہ گاؤں، کسی بھی شہر سے بہت دور تھا، دوسرے اس کی قریب ترین پکی سڑک بھی کم از کم چھ کلو میٹر دور تھی۔ تقریباً ً پچیس سال قبل بچھائی جانے والی یہ سڑک بھی کوئی قابل تعریف نہیں تھی۔ لڑکوں کے لیے ایک پرائمری سکول ضرور اس گاؤں میں موجود تھا مگر لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی بندو بست نہیں تھا۔ ملک جہانداد کی کوشش سے بجلی بے شک یہاں پہنچ گئی تھی اور اب اس کے کھیتوں کو کنوؤں کی جگہ ٹیوب ویل سیراب کر رہے تھے۔ نہری پانی اس کے علاوہ تھا۔
ملک جہانداد نے گاؤں والا گھر مزارعین کو دے دیا تھا اور خود گاؤں کے باہر ایک بڑی حویلی تعمیر کر لی تھی۔ اس حویلی کے ساتھ ہی، اس کے منشی چراغ دین کا گھر تھا اور کچھ چھوٹے چھوٹے گھر حویلی کے ساتھ مزید بنائے گئے تھے، جہاں کام کے لیے آنے والے لوگ وقتی طور پر ٹھہر سکتے تھے۔
حویلی عام طور پر ملک جہانداد کے وہاں ہونے پر ہی آباد ہوتی تھی۔ وہ خود اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شہر میں رہتا تھا۔ کبھی کبھی اس کے مہمان چھٹیاں منانے، ہفتہ دس دن کے لیے آ کر اس حویلی میں قیام کرتے۔ اور حویلی کی رونق بڑھ جاتی۔ کبھی کبھار اس کے بیوی بچے بھی دو چار دن کے لیے آ جاتے تھے۔ ایک بڑی گاڑی ملک جہانداد کے اپنے استعمال میں رہتی تھی۔ جسے وہ ”ملک پور“ آنے کے لیے بھی استعمال کرتا تھا۔ گھر والوں کے لیے دو علیحدہ گاڑیاں مع ڈرائیور موجود تھیں۔ ایک جیپ نما مہنگی گاڑی بیٹے کے استعمال کے لیے تھی۔ زمینوں پر ٹریکٹروں اور ٹرالیوں کی کمی نہ تھی۔ بہت سے تانگے ریڑھے اس کے علاوہ تھے، جو ضرورت پڑنے پر ”ملک پور“ کے ہر باسی کو دستیاب ہوتے۔ خواہ اس کا ملک جہانداد کی زمینوں سے تعلق ہو یا نہ ہو۔ وہاں کے سب باسی اس سے خوش تھے کہ وہ ہر موقع پر ان کی مدد کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ یوں اس کی زمینداری خوب پھول پھل رہی تھی۔
وہ بڑا جہاں دیدہ آدمی تھا۔ حالانکہ اس کی درسی تعلیم میٹرک سے زیادہ نہیں تھی مگر زندگی کے بارے میں اس کا علم کافی وسیع تھا۔ اس میں بڑے زمینداروں یا جاگیر داروں والی صرف ایک خامی تھی، اور وہ تھی جنسی بھوک۔ تمام تر دستیابی کے باوجود، وہ اس معاملے میں بھی اور کسی بھی طرح کی زیادتی یا زبردستی سے کوسوں دور رہتا تھا۔ پھر اس کی ضرورت بھی نہیں تھی کہ وہاں کے باسیوں کی مجبوریاں، خواہشیں یا لالچ ہی اس کا ہر کام آسان کر دیتے تھے۔
وہ اپنے منشی چراغ دین کے ساتھ اس وقت کھیتوں میں نکل جاتا جب وہاں عورتیں اور لڑکیاں کسی کام میں مصروف ہوتیں۔ وہ ان کے قریب جاتا، سب کا فرداً فرداً حال چال پوچھتا، دو چار ہمدردی کے بول بولتا اور اسی دوران میں ان کا جائزہ بھی لے لیتا۔ جن لڑکیوں کی نئی نئی شادیاں ہوئی ہوتیں، ان پر خاص توجہ دیتا۔ پھر اسے جو بھی عورتیں پسند آتیں، منشی کو اشارہ کر دیتا۔ منشی چراغ دین اپنے طریقے سے ان کے نام یاد کر لیتا۔ بعد میں منشی ان عورتوں یا لڑکیوں کو حویلی میں کام کرنے کی دعوت دیتا۔
(یہ تو وہاں مشہور ہی تھا کہ حویلی میں کام کرنے کا معقول معاوضہ ملتا ہے اور ساتھ میں اچھا کھانا بھی) لیکن پھر بھی، جو عورتیں یہ دعوت قبول نہ کرتیں، ان سے انکار کی وجہ بھی نہ پوچھی جاتی۔ کیونکہ دعوت قبول کرنے والیوں کی تعداد بھی کافی ہوتی تھی۔ جب وہ عورتیں کام پر آ جاتیں، تو ملک جہانداد کام کے دوران ہی اندازہ لگا لیتا کہ کہاں پیش رفت کی جانی چاہیے اور کہاں نہیں۔ اور ملک جہانداد کا خیال اکثر و بیشتر درست ہی ثابت ہوتا۔
لیکن اگر کبھی اس کے سوال پر رد عمل منفی صورت میں سامنے آتا تو وہ بات کو باوقار سے مذاق میں ٹال دیتا۔ عورت سے حویلی کے کسی اور حصے میں چند دن کام لے کر اور معقول معاوضہ دے کر اسے فارغ کر دیا جاتا۔ راضی ہو جانے والی عورتوں سے مطلوبہ کام لینے کے بعد انہیں ایک خوشنما رقم سے نوازا جاتا، جسے یہ عورتیں سب سے چھپا کر رکھتیں۔ یہاں تک کہ ان کے خاوند یا گھر کے دوسرے افراد بھی بے خبر ہی رہتے۔ اس طرح کے مشورے بھی در اصل انہیں ملک جہانداد سے ہی ملتے تھے کہ رازداری میں ہی سب کا بھلا تھا۔ کام کے بعد ، ان کا نام ایک خاص لسٹ میں شامل کر لیا جاتا۔
البتہ حویلی میں وہ دوسری عورتوں کی طرح ہی کام کرتی رہتیں۔ انہیں، ان کے معاوضے کے علاوہ کوئی ایسی رعایت نہیں دی جاتی تھی، جس کی وجہ سے وہ حویلی میں کام کرنے والی دوسری عورتوں سے مختلف نظر آ سکیں۔ اس لسٹ میں شامل عورتوں میں سے کئی ایک، دو چار بار آنے کے بعد انکار کر دیتیں، جبکہ باقیوں کو بلاوے کا انتظار رہتا۔ یوں ملک جہانداد کی حکمت عملی سے بغیر کسی ظلم، زیادتی یا زبردستی کے، اس کی جنسی بھوک کی تشفی ہوتی رہتی۔ اور اس پر بد نامی کے چھینٹے بھی نہ پڑتے۔
منشی چراغ دین، بے شک اس معاملے میں اپنا پورا کردار ادا کرتا تھا، لیکن ان عورتوں کو ان کی خاص خدمت کے عوض انعام، ملک جہاندداد خود اپنے ہاتھوں سے دیتا تھا۔ یہاں تک کہ منشی چراغ دین کو صحیح طور پر خبر بھی نہیں ہو پاتی تھی کہ تین چار عورتیں جو اس وقت حویلی میں کام کر رہی تھیں، ان میں سے کون اور کس وقت ملک جہانداد کی خلوت میں گئی تھی یا یہ کہ اسے کیا حاصل ہوا تھا؟ وہ خود بھی اتنا سمجھدار تھا کہ ملک جہانداد سے کبھی کوئی فالتو سوال نہ کرتا۔ ویسے بھی وہ ملک کی زمینوں کا منتظم تھا۔ روپیہ پیسہ تو سارا اس کے ہاتھ سے ہی گزرتا تھا۔ مناسب سے زیادہ تنخواہ کے علاوہ اسے اتنی سہولتیں حاصل تھیں کہ وہ کسی بے ایمانی یا بدتمیزی کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔
ملک جہانداد کو اپنی انتظامی قابلیت کا مکمل ادراک تھا۔ پھر ”ملک پور“ اور آس پاس کے علاقوں میں اس کی شہرت اور حیثیت ایسی تھی کہ اگر وہ وہاں سے الیکشن لڑتا تو کم از کم صوبائی اسمبلی کی نشست ضرور جیت جاتا۔ مگر اس نے کبھی ایسی کوشش نہ کی۔ وہ اس کام کے لیے اپنے اکلوتے بیٹے ملک فضل داد کو تیار کر رہا تھا۔ جو اس وقت بی اے کے آخری سال میں تھا۔ ملک جہانداد چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا وکالت پاس کر کے سیاست میں آ جائے۔ اسی لیے جونہی فضل داد نے نوجوانی میں قدم رکھا تو باپ نے اسے ہر معاملے میں رازدار بنا لیا۔ ہر وہ کام جس کے بارے میں باپ کو خطرہ تھا کہ بیٹا اس سے چھپ کر ، کر سکتا ہے، اس نے اپنے ہاتھوں سے کروایا۔
عورتوں کے معاملے کو تو وہ خود بھی کوئی عیب نہیں سمجھتا تھا، سو وقت آنے پر اس نے خود انتظامات کر کے بیٹے کو بھی فیضیاب ہونے دیا لیکن ساتھ ساتھ اس کو یہ بھی باور کرا دیا کہ اس معاملے میں کوئی زبردستی یا زیادتی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس طرح نفرتیں پیدا ہوتی ہیں جو آسانی سے دشمنیوں میں بدل سکتی ہیں۔ پھر ہم خوامخواہ میں دشمن کیوں پیدا کریں، جبکہ آس پاس کے لوگ اپنی ضرورتوں اور خواہشات کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کہ کسی زبردستی یا زیادتی کی حاجت ہی نہیں۔
محبت وغیرہ کو تو وہ مانتا ہی نہیں تھا۔ اس کا تو کہنا تھا کہ ”محبت“ صرف ایک فراڈ ہے جسے مرد اپنی جنسی خواہش کی تسکین کے لیے ذریعہ بناتا ہے اور عورت جب کسی مرد کو شادی کے لیے پھانسنا چاہتی ہے تو اسے جال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ جنسی ضرورتوں کے لیے سب عورتیں ایک ہی طرح کی ہوتی ہیں، تو کسی ایک عورت کو اپنی کمزوری کیوں بننے دیا جائے؟ البتہ یہ ضروری ہے کہ جنسی عمل کے لیے ہر طرح کی احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
ورنہ حرامی بچے پیدا ہونے لگیں گے۔ ایسے ہی وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ مذہبی اور معاشرتی رسوم و قیود کا خیال رکھنا اور ملکی قوانین کا احترام کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ مزارعین اور کھیت مزدوروں کی محنت سے ہی ہماری زمینیں ہمیں دولت اور عزت بخشتی ہیں۔ اس لیے ان کا خوش رہنا ہماری بہت بڑی ضرورت ہے اور ایسا کرنا نہ تو کوئی بہت بڑا ہنر ہے نہ کوئی مشکل کام۔ ضرورت صرف اپنی ہوس اور طمع کو قابو میں رکھنے کی ہے۔
اپنے جوان بیٹے کو اس نے باور کرا دیا تھا ”جوا کھیلنے کی ضرورت تمہیں اس لیے نہیں کہ روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں۔ پھر بھی تم اس آمدنی میں اضافہ کرنا چاہو تو اپنی کاشتکاری کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرو۔ آمدنی بڑھتی جائے گی اور ملکی سطح پر تمہاری عزت بھی“ ۔
حویلی میں لے جا کر باپ نے بیٹے کو شراب بھی پلوائی اور جب نشے میں ہو گیا تو اس کی ویڈیو بنا لی۔ ہوش میں آنے پر اس کو دکھائی اور اسے سمجھایا کہ شراب کا غلام ہونے پر وہ کس طرح دنیا کی نظروں میں ذلیل ہو سکتا ہے، اور بیوی بچوں کی محبت سے محروم بھی۔
یوں اٹھارہ انیس سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے ملک فضل داد نے باپ کی رہنمائی میں اتنی دنیا داری سیکھ لی تھی، جتنی وہ خود اکیلا شاید تیس سال کی عمر تک بھی نہ سیکھ پاتا۔
اب، جب بھی اس کا جی چاہتا وہ باپ کے ساتھ یا اکیلا ہی ”ملک پور“ آ جاتا۔ حویلی کے اس حصے میں ٹھہرتا جو خاص اس کے لیے بنایا گیا تھا۔ وہاں بھی عورتیں اور لڑکیاں کام کرنے آتی تھیں۔ البتہ اس کی فہرست، باپ کی فہرست سے علیحدہ تھی۔ وہ باپ کی ہدایت پر پورا پورا عمل کر رہا تھا۔ اس لیے غلطی کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ لیکن پھر ایک ایسا حادثہ ہو گیا جس کے بارے میں کسی نے بھی پہلے سے سوچا نہیں تھا۔
جوانی کا طوفان نجومیوں کے حساب میں نہیں آتا
دراصل جب ملک جہانداد یا ملک فضل داد حویلی میں موجود نہیں ہوتے تھے تو حویلی کی صفائی ستھرائی کی نگرانی منشی چراغ دین کی بیوی بھاگ بھری کے سپرد ہوتی تھی۔ جو کبھی کبھی اپنی بیٹی ”نور بانو“ کو بھی ساتھ لے جاتی۔ نور بانو، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہوئی پندرہ سولہ سال کی نہایت خوبصورت، ہونہار اور پرجوش لڑکی تھی۔ جو بے شک سکول تو نہ جا سکی تھی، مگر اس نے اپنے باپ سے اردو میں لکھنا پڑھنا کسی حد تک سیکھ لیا تھا اور کچھ ریاضی کی سدھ بدھ بھی حاصل کرلی تھی۔ صفائی ستھرائی اور سجاوٹ کا اسے شوق تھا۔ اسی لیے وہ کبھی کبھی خود بھی ضد کر کے ماں کے ساتھ حویلی آجاتی اور وہاں کام کرنے والی عورتوں کی مدد بھی کرتی رہتی۔
ملک فضل داد اپنے کمروں کی سجاوٹ میں ہونے والی خوشگوار تبدیلی کو کئی دیر سے محسوس کر رہا تھا۔ آخر ایک دن اس نے منشی چراغ دین سے پوچھ ہی لیا کہ یہ کون ہے جو اس کے کمروں کی آرائش کا کام کر رہا ہے؟ منشی نے پہلے تو لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے وہاں کام کرنے والی عورتوں کو ہی اس کا کریڈٹ دیا، لیکن ملک فضل داد کے مسلسل اصرار پر آخر کار اسے بتانا پڑا کہ یہ اس کی بیٹی نور بانو کا شوق ہے۔
یوں نور بانو کی باقاعدہ ڈیوٹی لگ گئی کہ جب بھی فضل داد یہاں آیا کرے تو اس کے کمروں کی زیبائش نور بانو ہی کیا کرے۔ منشی چراغ دین کو چونکہ یقین تھا کہ فضل داد اپنے باپ ملک جہانداد کا تربیت یافتہ ہے، اس لیے وہ کسی زبردستی یا زیادتی کا مرتکب نہ ہو سکے گا، چنانچہ اس نے حامی بھر لی اور نور بانو بھی خوش ہو گئی کہ اس کے ہنر کو سراہا گیا ہے۔
سو، نور بانو کبھی کبھی ملک فضل داد کی موجودگی میں بھی اس کی طرف آنے لگی۔ نوجوان فضل داد، اگرچہ اب تک بہت سی لڑکیوں کی قربت حاصل کر چکا تھا، مگر نور بانو میں اسے کچھ الگ سی کشش، ایک عجیب سی دلکشی محسوس ہوئی۔ اسی احساس نے اسے نور بانو سے گفتگو کرنے پر مجبور کر دیا۔ پہلے تو وہ اس کی صفائی اور سجاوٹ کی تعریف ہی کیا کرتا تھا، پھر کچھ ادھر ادھر کی باتیں بھی ہونے لگیں۔ جلد ہی نور بانو نے اس سے شہر کے بارے میں سوالات کرنے شروع کر دیے اور یوں گفتگو کی حد تک دونوں آپس میں بے جھجک ہو گئے۔ اور دونوں کے درمیان ایک دوستی جیسا ماحول پیدا ہو گیا۔
اب جو فضل داد شہر سے آتا تو نور بانو کے لیے کوئی چھوٹا موٹا تحفہ بھی لے آتا۔ جو وہ تھوڑا بہت انکار کرنے کے بعد شکریے کے ساتھ قبول کر لیتی۔ جلد ہی وہ وقت بھی آ گیا کہ نور بانو اس سے خود فرمائش کر کے اپنے لیے چھوٹی موٹی چیزیں منگوانے لگی۔ فضل داد تو ابھی سمجھ ہی نہ پایا تھا کہ وہ نور بانو کے ساتھ کس رشتے کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن نور بانو کا خیال تھا کہ منشی چراغ دین کی بیٹی ہونے اور فضل داد کے کمروں کی سجاوٹ کا خیال رکھنے کی بنیاد پر اسے یہ حق حاصل ہے کہ ایسی کوئی فرمائش کر سکے۔
گزرتے دنوں کے ساتھ فضل داد کی دیگر کار گزاریاں بھی جا ری رہیں۔ مگر دوسری لڑکیوں کی قربت میں، اس کا یہ احساس دن بدن بڑھتا جا رہا تھا کہ نور بانو میں کوئی ایسی خاص بات ہے جو ان لڑکیوں میں نہیں ہے۔ حالانکہ ان میں سے کئی لڑکیاں خوبصورت بھی تھیں اور ان کے جسم بھی گمراہ کن تھے۔ ان کی آنکھیں بھی وعدے کرتی اور ورغلاتی تھیں۔ مگر نور بانو کو دیکھ کر وہ ایک الگ طرح کی بے چینی محسوس کرنے لگتا۔ ایک ایسا احساس اسے گھیر لیتا جو دوسری لڑکیوں کو دیکھنے سے نہیں ہوتا تھا۔ اسے نور بانو کی طرف پیش قدمی کرتے وقت ایسی جھجک محسوس ہوتی، جسے وہ سمجھ نہیں پاتا تھا۔ اگر وہ کسی بہانے سے اس کا ہاتھ پکڑ بھی لیتا تو وہ ویسے ہی کسی بہانے سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر ، پھر سے کام میں مصروف ہو جاتی۔
اگرچہ اسے محسوس ہوتا تھا کہ نور بانو بھی اسے پسند کرتی ہے مگر وہ کچھ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کیا کرے؟ بے شک ملک جہانداد نے بیٹے کی خاصی تربیت کی تھی لیکن پھر بھی فضل داد کوشش کے باوجود نور بانو سے کوئی ایسا سوال نہ کر سکا جو اس کے مقصد کو آسان بنا دیتا۔
اور پھر ایک دن جب وہ دونوں کمرے میں اکیلے تھے اور باقی سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے، تو فضل داد سے مزید برداشت نہ ہو سکا اور اس نے نور بانو کو بانہوں میں بھر لیا۔ وہ تھوڑا کسمسائی ضرور مگر اس نے خود کو چھڑانے کی بھی کوشش نہیں کی۔ فضل داد نے فورا اًس کے لبوں کا بوسہ لے لیا۔ جس کے بعد وہ مچھلی کی طرح اس کی بانہوں سے پھسلی اور باہر غائب ہو گئی۔
فضل داد کو فکر ہوئی کہ اگر بات منشی چراغ دین تک پہنچی تو بات بگڑ بھی سکتی ہے۔ جبکہ ملک جہانداد نے اسے سختی سے تاکید کر رکھی تھی کہ زبردستی یا زیادتی کسی سے بھی نہیں ہونی چاہیے۔ اور یہاں تو بات منشی چراغ دین کی بیٹی کی تھی۔ منشی چراغ دین جو ملک جہانداد کی غیر موجودگی میں یہاں کا کرتا دھرتا تھا۔ اور ملک جہانداد کا دایاں بازو سمجھا جاتا تھا۔
اس دن کا باقی حصہ اور رات وہاں کاٹنا، فضل داد کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا۔ وہ بڑی کوشش کر کے خود کو کسی کام میں مصروف کرنے کی کوشش کرتا مگر پھر اس کا دھیان نور بانو کی طرف چلا جاتا۔ وہ سوچنے لگتا کہ اگر نور بانو نے شکایت کردی اور منشی چراغ دین یا پھر خود ملک جہانداد نے اس سے پوچھا تو وہ کیا جواب دے گا؟ وہ خود ہی سوال کرتا اور خود ہی ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے لگتا۔ لیکن اس کا کوئی جواب بھی جب اسے تسلی بخش محسوس نہ ہوتا تو اس کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتیں۔
خدا خدا کر کے دوسرے دن جب نور بانو کمرے کی صفائی کرنے کے بہانے وہاں پہنچی تو فضل داد کی بھی جان میں جان آئی۔
وہ نور بانو کو دیکھتے ہی بولا ”مجھے لگا کہ شاید تم اب نہیں آؤ گی!“
”کیوں نہیں آؤں گی؟“
”کل جو میں نے۔“ فضل داد نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
نور بانو میز پوش بدلتے ہوئے بولی ”سچ پوچھیے تو آپ بھی مجھے اچھے لگتے ہیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ آپ باتیں کرتے رہیں اور میں سنتی رہوں۔ لیکن کل آپ نے مجھے اچانک دبوچ لیا۔ مجھے لگا جیسے آپ پر کوئی وحشت سوار ہو گئی ہے اور آپ اس وحشت میں نجانے کیا کر بیٹھیں۔ میں بہت ڈر گئی تھی۔ خوفزدہ ہو گئی تھی میں۔ مجھے بھاگ جانے کے سوا کوئی راستہ نظر نہ آیا۔“
”مجھ سے ڈر گئی تم؟“ فضل داد نے حیرت سے اسے دیکھا۔
”تو اور کیا؟ آپ تو مجھے پر یوں جھپٹ پڑے، جیسے کوئی خونخوار جانور اپنے شکار پر جھپٹتا ہے“ ۔ فضل داد کو جواب کے لیے درست الفاظ نہیں مل رہے تھے ”تم مثال کچھ زیادہ ہی خطر ناک نہیں دے رہی ہو؟ میں نے تو تمہیں ایک دوست کی طرح بازوؤں میں تھاما تھا، اور بس“
”دوست کی طرح ایسے اچانک سے تھوڑا ہی کرتا ہے کوئی؟ اور پھر آپ نے صرف۔“
فضل داد اب ذرا سنبھل چکا تھا۔ ”اچھا بھئی آئندہ سے میں اچانک ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ تمہیں پہلے بتا دیا کروں گا۔“
نور بانو کچھ نہیں بولی۔
فضل داد اس کے قریب چلا گیا۔
”اب اگر تم اجازت دو تو میں تمہیں تھوڑا سا پیار کر لوں“
نور بانو نے حیرت بھری آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں۔
فضل داد نے ہاتھ بڑھا کر اسے ساتھ لگا لیا۔
وہ خاموش رہی۔
فضل داد نے بازؤوں کا گھیرا تنگ کیا۔ پھر آہستہ آہستہ ہونٹ نور بانو کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ وہ پھر بھی چپ رہی تو فضل داد نے اسے بھرپور بوسوں کی زد میں لے لیا۔
چند لمحے کسمسانے کے بعد نور بانو نے بھی اپنے بازو فضل داد کے گرد حمائل کیے اور بوسہ بازی میں اس کا ساتھ دینے لگی۔
فضل داد نے سمجھا، کام بن گیا۔ مگر اس کی مزید پیش رفت پر نور بانو نے اس کا ہاتھ روک دیا۔ ”بس! اس سے آگے نہیں“ ۔
فضل داد پوچھنا چاہتا تھا کہ اس سے آگے کیوں نہیں؟ مگر پھر اسے باپ کی نصیحت یاد آ گئی اور اس نے نور بانو کو آہستہ سے پلنگ پر بٹھا دیا۔
”جیسا تم کہو گی نور بانو“
نور بانو سر جھکائے بیٹھی رہی۔
فضل داد بھی جیسے حالات کو کچھ جان گیا تھا۔
”میں تمہاری مرضی کے بغیر تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔“
نور بانو نے اس کی طرف دیکھا ”ورنہ میں یہاں نہیں آؤں گی۔ بلکہ آپ مجھے دیکھ بھی نہیں سکیں گے۔“
اور اٹھ کر جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھی۔
فضل داد: کہاں جا رہی ہو؟
نور بانو: ماں کے پاس
فضل داد: کیوں؟
نور بانو: وہاں کام ہے کچھ
فضل داد:تو یہاں کیا کام کرنے نہیں آئی تھی؟
نور بانو:نہیں
فضل داد: تو پھر کیا کرنے آئی تھی یہاں؟
نور بانو نے آگے بڑھتے ہوئے واپس مڑ کر دیکھا۔ شرارت اس کی آنکھوں سے جیسے چھلک جانے کو تھی ”وہ تو میں صرف آپ کو یہ بتانے آئی تھی کہ میں کل کی وجہ سے ناراض نہیں ہوں۔“ اور باہر نکل گئی۔
(جاری ہے)

