پشاور امن مارچ


یاد رہے کہ 30 جنوری بروز سوموار خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی پولیس لائن مسجد، ظہر کے نماز کے دوران خودکش دھماکے سے لرز اٹھی۔ اس حادثے کے نتیجے میں 101 افراد شہید ہوئے جبکہ 150 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ اس حادثے کے بعد یک دم پشاور سمیت پورے خطے میں ایک بار پھر دہشت گردی کی بو آنے لگی، تو امن پرستوں اور قوم پرستوں کی ملی بھگت سے یہ طے ہوا کہ پشاور امن مارچ کے نام سے ایک مارچ منعقد ہو گا جو کہ آج مورخہ 4 فروری 2023 بروز ہفتہ کامیابی کے ساتھ پائیں تکمیل تک پہنچا۔

اس مارچ کی قیادت پشتون تحفظ موومنٹ کے بانی منظور احمد پشتین نے کی۔ جن کے ہمراہ اے این پی کے سینئر رہنما میاں افتخار حسین اور باقی پختونخوا کے سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ سیاست کے علاوہ ہر شعبے سے منسلک افراد نے مارچ میں حاضری لگوائی اور پورے دنیا کو پیغام دیا کہ ہم امن پر ایمان رکھنے والے لوگ ہیں، مارچ کا آغاز پشاور کے فیز تری پل سے ہوا جو کہ ایک قافلے کے شکل میں آتے ہوئے پشاور پریس کلب کے سامنے بیٹھ گئے اور امن کے حوالے سے زبردست نعرے بازی بھی دیکھنے کو ملی۔

اور نعروں کے ساتھ ساتھ ریاست سے بھی جائز مطالبات سامنے آئے کہ ہم تھک چکے ہیں اب ہم مزید لاشیں نہیں اٹھا سکتے، خدارا ہم پر رحم کریں اور اسٹیٹ پالیسیوں کی خاطر پشتون قوم کی خون ریزی بند کی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پشتون قوم نے کبھی اپنے امن اور آزادی پر سمجھوتا نہیں کیا اور باچا خان بابا کے فلسفے عدم تشدد کو اپنایا اور ہمیشہ دشمنوں اور دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

Facebook Comments HS