عمران خان کو واپس لانے کے لیے پرانا کھیل پرانے کھلاڑی


مورخہ 29 نومبر 2022 ء بروز منگل ایک عظیم سپہ سالار نے پاکستان کی فوج کی کمان اپنے ہی ادارہ میں اپنے ماتحت ایک عظیم سپہ سالار کے ہاتھ سونپی اور فرمایا کہ میں اب اپنی باقی ماندہ زندگی گمنامی میں گزاروں گا لیکن ادارہ کے ساتھ روحانی تعلق قائم رہے گا۔ کچھ لوگ بے حد خوش ہیں کچھ لوگ بے حد مایوس ہیں سمجھ سے بالاتر ہے کہ عوام الناس اب بھی کھیل سمجھ نہیں پا رہے جو 16 اکتوبر 1951 ء سے کھیلا جا رہا ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ کھیل قائداعظم کی رحلت سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا، خیر تاریخ اور موجودہ معروضی حالات فی الحال لب کشائی کا موقع نہیں دے رہے۔

پہلے یہ کھیل خفیہ تھا 2017 ء سے یہ کھیل و پتلی تماشا سرعام برپا کیا گیا ہے یہی وجہ ہے جو مقتدر حلقوں کی درسگاہوں کے تعلیم یافتہ تھے جب ان کے ساتھ معاملات ایک تعیناتی سے بگڑے تو جو اپنے ہاتھوں سے پال پوس کر بڑے کیے گئے تھے انہی مالکان کے خلاف ہو گئے۔ نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے ہمارا معاشرہ تقطیب کا اتنا شکار ہو گیا ہے کہ اب سوال سیدھا ہے آپ یا حق کے ساتھ یا پھر آپ باطل کے ساتھ ہیں۔ ممکن ہے آپ لولی لنگڑی جمہوریت کے ساتھ ہوں یا جمہوری سوچ و فکر رکھتے ہوں مگر اس بات کی آپ کو معاشرہ اب اجازت نہیں دے رہا۔

عمران خان نامی منصوبہ جس کی بنیاد 1996 ء میں بذریعہ جنرل حمید گل رکھی گئی تھی اس تقرری کے بعد اس منصوبہ کا اختتام ہے یا آغاز کہنا قبل از وقت ہے، اس بات کا تعین تو اگلے عام انتخابات میں عوام ہی کریں گے جن کے لئے عمومی ہوا جناب عمران خان صاحب کے حق میں ہے۔ ہمارے ہاں ایک غلط العام کہاوت مشہور ہے کہ کبڑے کو لات راس آ گئی، خان صاحب کو جو لات اپریل 2022 ء میں پڑی ہے وہ بھی راس آ گئی ہے۔ لیکن سیاسی دانشور لوگ کہتے ہیں کہ حکومت کسی بھی ملک میں بنانی ہو یا کرنی ہو مقتدرہ کے ساتھ مفاہمت کے بغیر نہیں بنائی جا سکتی ہے۔

اس لئے عوامی ہوا جیسی مرضی ہو جب تک آپ کے سر پر مقتدرہ کا دست شفقت نا ہو آپ حکومت نامی دہلیز عبور نہیں کر پاتے اگر کر بھی لیں تو آپ کو بیساکھیوں کا وہ سہارا دیا جاتا ہے جن کو بوقت ضرورت ہٹا لیا جاتا ہے۔ نہیں یقین تو 2001 ء سے اب تک آنے والی تمام حکومتوں کا حال دیکھ لیں۔ اگر بیساکھیوں سے مطلوبہ نتائج نا حاصل ہو سکیں تو عدلیہ کا وقار حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لے لیتا ہے، اور چوہدری ثاقب نثار و آصف سعید کھوسہ جیسے انصاف کے علمبردار انصاف کا علم ہاتھ میں لئے آپ کی حکومت کو عملی طور پر مفلوج کر دیتے ہیں اور باقی قصر یو ٹیوب و سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مکمل کر لی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں مقبولیت اور قبولیت میں فرق م ہے اور یہ م مقتدر فراہم کرتی ہے، بقول سہیل وڑائچ۔

میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ خان صاحب کو نکالا ہی دوبارہ لانے کے لئے گیا تھا یہ سب اسی کہانی کا حصہ ہے جسے 1996 ء سے تحریر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقصد ایک ہی ہے کہ ہم (مقتدرہ) کلی طور پر خود مختار ہوں کیونکہ سیاسی جماعتوں نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعہ ہمیں کلی طور پر خودمختار رہنے نہیں دیا ہے۔ خان صاحب وہ پودا ہے جسے حمید گل مرحوم کی سربراہی میں پہلے زمین میں بویا گیا اس کی اصل آبیاری شجاع احمد پاشا، ظہیر الاسلام، اور فیض حمید نے کی ہے اس لئے جس منصوبہ پر اتنے سال محنت کی گئی ہو اسے ایسے زمیں بوس نہیں ہونے دیا جا سکتا ہے۔

دروغ بر گردن راوی جس درخت کو انسان نے خود لگایا ہو، انسان اس کی چھاؤں میں ضرور بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر منصوبہ بندی کے باوجود خان صاحب کا بال بھی بیکا نہیں ہو رہا ہے، آڈیو لیکس، توشہ خانہ، ٹیریان کا مبینہ کیس ہو، فرح گوگی، عثمان بزدار و دیگر کوئی بھی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا اور نا ہی سرے چڑھ رہا ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک کارروائی مقتدرہ نے مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی، جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) ، جمعیت علمائے پاکستان ( نورانی) و دیگر کے ساتھ یا دوسرے الفاظ میں پی ڈی ایم کے ساتھ کی ہے کہ معیشت کے تمام مشکل فیصلہ ان سے سیاسی تاوان کی صورت میں سود سمیت کروائے ہیں، اور اب عمران خان کی طرح گرفتاریوں کے چھوٹے کام بھی انھی کے سپرد کر دیے ہیں۔

میرا اب بھی سوال وہی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں جو مصنوعی جمہوریت کی دعویدار ہیں آخر کب تاریخ سے یہ سبق حاصل کریں گے، یہ کب اپنی جماعتوں میں جمہوریت کے حقیقی فروغ کے لئے جمہوری اقدار کے قواعد و ضوابط پر کاربند ہوں گے۔ حال ہی میں دیکھ لیں کوئی سیاسی جماعت بلدیاتی نظام کو حقیقی معنی میں استوار نہیں کرنا چاہتی، نا اپنی سیاسی جماعتوں میں کبھی انتخابات کروانا چاہتی ہیں موروثیت کا بول بالا ہے، نظام اپنے طور پر کوئی اچھی متبادل قیادت پیدا ہی نہیں کر پا رہا کیونکہ جمہوری نرسری (بلدیاتی نظام) پر ہر جمہوری حکومت نے قدغن لگائی ہے، نیز طاقت کا ارتکاز جاری و ساری ہے۔

معیشت کے متعلق صرف اتنی لب کشائی کروں گا کہ سیاسی استحکام، معاشی استحکام کی بنیاد ہوتا ہے ورنہ ہمارے دیوالیہ ہونے والے دائروں کا سفر کبھی ختم نہیں ہو گا، اور شاید حاکم بدہن ہم کسی روز دیوالیہ کر ہی جائیں لیکن اشرافیہ کا کچھ نہیں بگڑنا کیونکہ اکثریت کے پاس بیرون ملک کی بیمہ پالیسی ہے۔ اشرافیہ میں سرفہرست مقتدرہ، جج، بیوروکریسی ہیں سیاست دان اور علمائے کرام فہرست میں سب سے آخر پر ہیں۔

Facebook Comments HS