ویلنٹائین ڈے


ویلنٹائین ڈے کی آمد آمد ہے۔ وائے ناکامی کہ ہمارے ہاں بزم آرائیاں مفقود اور معرکہ آرائیاں مقصود ہیں۔ آٹے کی ایک کلومیٹر طویل قطار میں بھگدڑ مچ کر مرنے والوں سے زیادہ اہم معاملہ یہ ہے کہ کون کون سے نر اور مادہ پھولوں کا تبادلہ کر رہے ہیں یا پھر باہمی رضامندی سے ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر چل رہے ہیں۔

مدارس و مساجد میں پیڈوفیلیا کے مشروم کلاؤڈ پر منہ میں گھنگھنیاں بھر لینے والے صاحبان جبہ و دستار الفت و محبت کے کسی بھی مہذب اظہار پر ماہی بے آب ہوئے جاتے ہیں۔ سرمہ زدہ سیاہ آنکھیں، بالشت بھر داڑھی اور اس سے چوتھائی دماغ دم شمشیر کو سینہ شمشیر سے باہر کیے سماج کو یرغمال بنائے پھر رہے ہیں۔ کالے چور کی مکمل آشیرباد لئے کف اگلتی باچھوں اور کریہہ الصوت دھاڑتی چنگھاڑتی زبانوں کو دو بول پریم کے گوارا نہیں۔ جدال و قتال کے ہنگام میں چہاد بالنکاح کرنے کرانے والوں اور اسی ماحول آنکھ کھول کر پروان چڑھنے والوں کی نظر میں پریت کی لو کیسے روشن رہ سکتی ہے؟ جیسے سانپ کی نظر میں دیوا نہیں جل سکتا ویسے ان کے سامنے کوئی پرکاش نہیں چل سکتا۔

دہشت گرد پشاور کے سر بند تھانے کے علاقہ میں رات کی تاریکی میں ڈی ایس پی سمیت تین پولیس کے جوانوں کو تھرمل ویپن سائیٹ سے لاک کر کے گولیوں سے بھون دیتے ہیں اور چودہ فروری کو پولیس کے جوانوں کی ڈیوٹی یہ لگائی جاتی ہے کہ پارکوں اور گھنے درختوں کے نیچے تاکا جھانکی کر کے ان خطرناک مجرموں کو پکڑ کر تھانے میں بند کریں جو ایک دوسرے کی چومی لے رہے ہوں۔ پولیس لائنز پشاور کا وہ پینٹا گون ہے جہاں اڑنے والے پنچھی کے پر بھی سکین کر لئے جاتے ہیں۔ وہاں کی مسجد میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ مجرمان پکڑے نہیں جاتے مگر وکی پیڈیا کو گستاخ قرار دے کر بند کر دیا جاتا ہے۔ کیا کہیں؟ ترجیحات کا فرق ہے۔ مملکت اللہ بخش میں انسانی جان بچانے والی ادویات کی درآمد پر پابندی لگا کر پونے دو سو مرسیڈیز گاڑیاں درآمد کرانا بے حیائی نہیں بلکہ کسی کو پروپوز کرنا بے حیائی ہے۔ مسجد میں ایک پہلو میں قرآن اور دوسرے میں لونڈا بٹھا کر مفتی جفتی فرمائے تو ایک شبد مذمت کا نہ نکلے لیکن اگر دو چاہنے والے ایک ساتھ بیٹھ جائیں تو مرغ قبلہ نما بانگوں پر بانگیں دیتے تڑپتے پھریں۔

سر عام مار دھاڑ اور ہر دوسرے جملے میں دشنام کی آمیزش بے حیائی نہیں بلکہ دو منگیتروں حتی کہ میاں بیوی کا ایک ساتھ بیٹھ کر بھوجن کرنا بے حیائی ہے۔ ماں بہن بیٹی کی تصویر فیس بک پر لگانا بے حیائی ہے جبکہ انجان خواتین کو انباکس میں اعضائے پوشیدہ بھیجنا کوئی بے حیائی نہیں۔ ملاوٹ زدہ خوراک بیچنا درست جبکہ اکثریت سے مختلف جنسی رجحان رکھنا بے حیائی ہے۔ لونڈی رکھنا حلال جبکہ گرل فرینڈ بے حیائی ہے۔

سبحان اللہ۔ کیا معیار ہیں۔ کیا کہنے۔

کسی کی ساڑھی یا بلاؤز کا رنگ کیا ہے؟ کوئی اپنی خواب گاہ میں جنسی عمل کیسے سرانجام دیتا ہے؟ کسی کا مذہب کیا ہے؟ کسی کی نسل، زبان یا خاندانی پس منظر کیا ہے؟ لوگوں کے زیر جاموں میں موجود اعضا کیسے ہیں؟ دو پیار کرنے والے اپنے خرچے پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے ہیں یا لات؟

اگر کسی کو ان سب سوالوں میں دل چسپی ہے تو یقین جانیئے اس کو ہر روز حیا ڈے منانے کی ضرورت ہے بلکہ ساتھ ساتھ حیا کو ہاتھ مارنے کی بھی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS