غربت اور امید


ٹھنڈے یخ پانی سے منہ دھوتے ہوئے اسے بائیں بازو میں شدید درد محسوس ہوا، ایسا کہ ہڈی کو چیرا جا رہا ہوں۔ اس سال شدید سردی پڑھ رہی ہے اور لکڑیاں بھی ختم ہونے کو ہیں۔ درد نے اس کو منجمد کر کے رکھا ہوا تھا۔ کام کی سختی اور مسلسل پریشانیوں سے کھنڈر بن رہا تھا۔ اس احساس اور دکھ کی لہروں کو اپنے اندر سرایت کرتے ہوئے محسوس کرتا تھا۔ گزشتہ دن کام نہیں ملا اور آج کا پتا نہیں۔ اسی خیال میں الجھا ہوا تھا کہ آواز آئی آٹا، کھانے کا تیل اور شکر بھی ختم ہو چکی ہے۔

کئی روز سے لگی بارش آج تھم چکی تھی۔ بادلوں کے حصار کو توڑ تا سورج کبھی راحت تو کبھی تکلیف دے رہا تھا۔ جیسا کہ روح قبض ہو رہی ہو۔ پہاڑوں پر جمی گہری برف اور جسم کو تھرتھرا دینے والی ٹھنڈی ہوائیں، درد اور بے قراری کو بڑھاوا دے رہی تھی۔ ٹہنیوں سے ٹوٹتے زرد پتے۔ زندگی کا سفر ایک دن ختم ہو جائے گا۔ موت حقیقت ہے اور حقیقت سے کیا ڈرنا۔ سرد سی آہ نے اسے جھنجھوڑا۔ وہ واقعی حقیقت کو قبول کر رہا تھا کہ زندگی سے فرار ہونے کی تسلی تھی۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیا کی قلت۔ وسوسے اپنا جال بن ہی رہے تھے تھے کہ برآمدے میں کھیلتے ہوئے بچے کی آواز سن کر دوسرے ہی لمحے میں میں مزید نا امیدی کی ایک لہر جسم میں پھیلی، وحشت زدہ تکلیف اسے روح میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسے اپنے باپ کا دور یاد آیا جب اس کے بچپن میں اس کا باپ بھی ایسے ہی پریشان رہتا تھا۔ پریشانیاں تو نسل در نسل وراثت میں مزدور کا ہی مقدر رہی ہیں۔ مگر باپ اس کو ہمیشہ امید ہی دلاتا رہتا تھا۔ آج وہ بھی باپ تھا۔ اسے یاد آیا کہ کس درد اور کرب سے گزر کر باپ اسے امید دلاتا تھا۔ تسلی دیتا تھا کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ امید رکھو بہتر دن آئیں گیں اور وہ بھی اسی آس پر جیتا رہا کہ ایک نہ ایک دن ضرور حالات بہتر ہو جائیں گے

مگر مسئلہ بھوکا کا ہی نہیں تھا۔ بنیادی ضروریات کا تھا۔ بنیادی ضروریات تو جانوروں کی بھی پوری ہو ہی جاتی ہیں۔ یہاں سوال مسرت اور آزادی کا تھا۔ کب تک مسرت اور آزادی گروی رکھ کر جیئے جائیں گے؟ قید زندگیوں کو کب تک امید کا بے سر راگ سناتے جائیں گے؟ وہ انسان دشمن ہی ہو گا جس نے کہا تھا کہ امید پر دنیا قائم ہے۔ کیا انسانوں نے معاشرے اس لیے بنائے ہیں کہ ہر گزرتے دن بھوک، افلاس اور دکھ بڑھتے ہی جائیں؟ کیا جانوروں

اور انسانوں میں یہی فرق رہ گیا ہے کہ وہ صرف اور صرف کھانے کو ہی جئیں؟

ریاست، ریاست کے کارندے، اشرافیہ امیر و غریب سب کے سب امید کے نشے میں ناچتے نظر آرہے ہیں۔ امیدوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ہاں۔ بھرے پیٹ اور خالی پیٹ امیدوں میں فرق ہوتا ہے۔ بھرے پیٹ اور خالی پیٹ دعاؤں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ بھرے پیٹ کے لئے آزمائش اور خالی پیٹ آزمائش۔ وہ خیالوں میں میں محو سفر اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے بولا۔ آزمائش ہے کہ مسلسل عذاب۔ مزدور ہی کیوں آزمائش کا شکار ہے؟ اور اگر عذاب ہے تو اے خدا ظالموں کے ہاتھوں سے کیوں؟ منافع خوروں اور ذخیرہ روں کے ہاتھوں کیوں؟ یہ کیسا نظام ہے کہ انسان ہی انسان کو بھوک دے رہا ہے۔ کیا یہ انسانیت کی تذلیل نہیں کہ وہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے دوسروں کی منتیں کرتا پھرے؟ کیا انسان اتنا بھی ابھی حریص اور اور ہوس ہو سکتا ہے کہ وہ بھوک کے بدلے انسانیت کو ہی گروی رکھ لے؟

پہلے تو مزدوروں میں بھی ہمدردی تھی بھائی چارہ تھا۔ مگر اب۔ بھوک شر پھیلا رہی تھی۔ بھوک زمین کو زہر آلود کر رہی تھی۔ درد مسلسل بڑھ رہا تھا۔ اندر میں خلفشار برابر جاری تھا کہ ابھی اس کا جسم پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائے۔ گھٹن بڑھ رہی تھی۔ چہرے کے تاثرات بدل رہے تھے اور وہ گھر والوں سے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ کیسی لاچارگی اور بے بسی تھی۔

ایک اور زرد پتہ زمین پر گرا۔ موت ایک حقیقت ہے اور حقیقت سے کیا ڈرنا۔ موت سے کیا ڈرنا۔ کچھ لوگ موت سے ڈرتے ہیں ہیں شاید وہ کچھ کھونے سے ڈرتے ہیں مگر غریب۔ ان کے پاس تو کھونے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ سوچتے ہوئے وہ گھر سے نکل پڑا۔

Facebook Comments HS