گھر، فکر اور خواتین

مشرقی خواتین کو بچپن سے ہی گھرداری کی تربیت ایسے دی جاتی ہے جیسے گھر کے کام کاج صرف خواتین کی ذمہ داری ہوں۔ جبکہ بیٹا ہو یا بیٹی گھرداری اور تعلیم دونوں کی تربیت کو اہم جز ہونا چاہیے۔
والدین میں سے اگر کوئی بیمار ہو خاص کر جب والدہ بیمار ہوں تو بیٹی گھر کا کام کاج اور دیکھ بھال کر لیتی ہے مگر جس گھر میں بیٹی نہ ہو اور بیٹا امور خانہ داری سے ناواقف ہو تو والدہ کو آرام اور سکون کا ایک لمحہ نصیب نہیں ہو پاتا۔
جو افراد بچوں کے تعلیمی اخراجات افورڈ نہیں کر پاتے وہ بیٹے کو تعلیم دلوانے کو فوقیت دیتے ہیں کہ بھئی بیٹی کو کیا کرنا پڑھا کر کل کو چولہا چوکھی ہی سنبھالنا ہے۔ شادی کے بعد بعض خواتین اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی ہیں مگر بعض اوقات وہ گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتی ہیں۔
شادی شدہ جوڑے چاہے وہ جوائنٹ فیملی میں ہوں یا سنگل یونٹ سسٹم میں دونوں صورتوں میں اگر عورت پر ہی امور خانہ داری لازم ہو گی تو جوائنٹ فیملی میں کام کا سارا بوجھ اس کے لیے تنہا اٹھانا مشکل ہو گا۔ دوسری جانب سنگل یونٹ سسٹم میں بچوں کی دیکھ بھال کے دوران خاص کر دوران حمل خاتون کو امور خانہ داری میں کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اس دوران گھر میں کام کاج کے لیے کسی ملازمہ کا بندوبست بھی ہو سکتا ہے لیکن ہر کوئی نہ تو ملازم افورڈ کر سکتا ہے اور ملازمہ کی چھٹی کی وجہ سے پریشر اکیلے خاتون خانہ کو ہی اٹھانا پڑے گا۔
بعض خواتین تو اس حد تک گھر کے کاموں سے اکتاہٹ کا شکار ہو جاتی ہیں کہ اس کی کڑواہٹ اپنے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ یا مار پیٹ کر نکالتی ہیں۔ جس سے نہ صرف وہ خود مزید پریشان رہتی ہیں بلکہ بچوں کی ذہنی صحت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔
دور حاضر میں جہاں مرد حضرات فکر معاش میں سرگرداں ہیں خواتین بھی ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ مہنگائی کے طوفان کا تقاضا بھی یہ ہے کہ مرد اور خواتین مل کر معاشی سرگرمیاں سنبھالیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہ جس طرح مرد کو بس دفتری کاموں تک محدود کر دیا گیا ہے اس طرح سے عورت اگر دفتر میں کام کرتی ہے تو اس کو یہاں تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ دفتر جاتے وقت اور دفتر سے آ کر بھی گھر کا کام کاج دیکھ بھال خاتون کو ہی کرنا ہوتی ہے۔
کام کے پریشر کے بعد جس طرح مرد کا جی چاہتا ہے سیر و تفریح کرنے کو اس طرح خاتون کا دل بھی چاہتا ہے کہ اسے گھر کی ذمہ داریوں سے بریک ملے مگر ہفتے میں ایک چھٹی ملنا تو دور بلکہ چھٹی والے دن تو کام مزید بڑھ جاتے ہیں۔ بیماری کی حالت میں بھی ذہن اسی پریشانی میں الجھا رہتا ہے کہ فلاں کام کیسے ہو گا۔
تمام ذمہ داریوں اور امور خانہ داری کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے باوجود خواتین کو سراہا نہیں جاتا اور اکثر یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ تم کرتی ہی کیا ہو؟ باہر کمانے جاؤ تو پتہ چلے۔ جبکہ پروفیشنل خواتین کو پھوہڑ اور غیر ذمہ دار ہونے کا بھی طعنہ ملتا رہتا ہے۔
ان تمام ذمہ داریوں کی تھکاوٹ اور تلخ رویوں کی کڑواہٹ کو برداشت کر کے خواتین ڈپریشن یا انگزائٹی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اپنی ذات کے لیے وقت نکالنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
ان مسائل کا حل بچوں کی منصفانہ تربیت سے ہے۔ بیٹے اور بیٹی دونوں کی تربیت یکساں بنیاد پر کی جائے۔ گھر میں سب افراد مل جل کر کام کریں۔ امور خانہ داری کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر نہ ڈالی جائے۔ اسی طرح خواتین معاشی لحاظ سے مرد کا ساتھ دیں۔ جب دونوں ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کو بانٹیں گے تو ایک دوسرے کی تھکاوٹ کا بھی برابر احساس کریں گے۔
گھریلو کام کاج سے خواتین کو بے شمار جسمانی مسائل کا سامنا بھی رہتا ہے مثلاً تھکاوٹ، اعصابی تناؤ، ہاتھوں یا پاؤں کی جلد کا خراب ہونا وغیرہ۔ گھر کے کاموں سے فراغت کے بعد خاتون خانہ اتنی تھک جاتی ہے کہ ورزش کا تو خیال بھی پاس نہیں پھٹکتا۔ بلکہ کچھ خواتین تو یہ سمجھتی ہیں کہ گھر کے کام کاج ہی ورزش کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ ایسا بالکل نہیں۔ گھر کے کام سے آپ کو فٹیگ یا تھکاوٹ ہوتی ہے جبکہ پر سکون ماحول میں ورزش یا ہلکی پھلکی واک آپ کو نہ صرف جسمانی اعتبار سے تندرست رکھتی ہے بلکہ ذہنی طور سے بھی فریش رکھتی ہے۔
جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ خواتین کی ذہنی صحت بہت اہم ہے اس حوالے سے ان کے آرام کا خیال کرنا، سیر و تفریح کے مواقع فراہم کرنا اور ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر انہیں سراہنا ضروری ہے۔ خواتین کو خود بھی اپنے لیے وقت نکالنا چاہیے اور ان سرگرمیوں کو اپنانا چاہیے جن سے انہیں خوشی ملتی ہے۔ کتاب یا میگزین کا مطالعہ کرنا، عزیز و اقارب کے ساتھ مثبت وقت گزارنا خاص کر اپنے بچوں کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزارنا۔ اپنی جلد اور صفائی کا خیال رکھنا۔ سب سے بڑھ کر خود کو پر سکون رکھنا کیونکہ ایک پر سکون خاتون نہ صرف ایک پر سکون گھر بناتی ہے بلکہ ایک کامیاب نسل کی بنیاد بھی اس کی تربیت پر منحصر ہے۔

