بھٹکتی روحیں
وہ آج کئی سالوں بعد میرے سامنے تھی، بالکل ویسی جیسی آخری بار میں نے اسے دیکھا تھا۔ وہ ہی رنگ و روپ جس کا ایک عالم دیوانہ تھا البتہ آج اس کے حسین چہرے پر وہ شوخی ناپید تھی جو اس کی شخصیت کا خاصہ ہوا کرتی تھی بلکہ آج شوخی کی جگہ ایک عجیب سا حزن و ملال اس کے چہرہ پر چھایا ہوا تھا۔ میں نے محسوس کیا گزرے کئی برسوں نے اس پر کوئی خاص اثر نہ چھوڑا تھا ما سوائے اس کے کہ وہ پہلے سے کچھ فربہی مائل ہو گئی تھی مگر اس کی آنکھوں کی چمک ماند نہ پڑی تھی ان میں آج بھی زندگی جھلک رہی تھی۔ اس لمحہ کچھ سوچتی ہوئی وہ مجھے مضطرب سی دکھائی دی شاید آج بھی میری محبت اس کے من مندر پر براجمان تھی اور میری یاد نے اس کے دل کو بے چین کر رکھا تھا۔ اس احساس نے مجھے ایک کمینی سی خوشی سے دوچار کر دیا ایسے میں میرا دل چاہا میں فوراً اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاؤں اور پوچھوں
کیا تم میرے ہجر کے دکھ میں مبتلا ہو؟
میں جاننا چاہتا تھا وہ کیا جواب دیتی ہے، میں جاننا چاہتا تھا اتنے لمبے جدائی کے سال جو ہم دونوں کے درمیان ریت کی مانند پھسل گئے آیا وہ اس سب کے باوجود مجھے آج بھی پہچانتی ہے یا نہیں؟ میں اس سے اپنے گزرے ماہ و سال کا حساب بھی چاہتا تھا۔ میں آج بھی اس کی محبت کا طلبگار تھا اور اس سے اظہار محبت چاہتا تھا۔ محبت کا جواب محبت سے حاصل کرنے کی جستجو نے مجھے دو قدم آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا لیکن اس سے قبل کہ میں اس کے سامنے پہنچ جاتا بالکل اچانک ہی کہیں سے ایک سوٹڈ بوٹڈ سا شخص آیا اور کرسی کھینچ کر عین اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
میں جو اپنی محبت کے چہرے پر گم شدہ ماہ و سال تلاش رہا تھا اس اجنبی شخص کی اچانک آمد نے مجھے بے قرار کر دیا اور میں ایک دم ہی بے چین ہو گیا۔ اس لمحہ میں نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھی اس حسینہ نازنین پر ڈالی جس کے خوب صورت لب اس پل کسی گلاب کی پنکھڑی کی مانند کھلے ہوئے تھے تب مجھے احساس ہوا وہ پہلے سے زیادہ تر و تازہ دکھائی دینے لگی تھی۔ میرے قدم اپنی جگہ تھم گئے میں مایوس ہونے لگا جب میں نے بے اختیار اس کی لمبی، مخروطی انگلیوں والے ہاتھوں پر ایک نگاہ ڈالی جو آج بھی کسی انگوٹھی سے بے نیاز تھے جس کا مطلب یہ ہوا وہ بھی میری طرح تنہا تھی اس خیال کے آتے ہی میری مایوسی راحت میں تبدیل ہو گئی۔
اب میں منتظر تھا کب وہ شخص رخصت ہو اور میں ایک دم، اچانک اپنی محبت کے سامنے جا کھڑا ہوں، میں اس لمحہ اس کی وہ بے قراری دیکھنا چاہتا تھا جو مجھے دیکھتے ہی اس کے وجود پر چھا جاتی۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا جب ایک دم وہ ہنسی اس کی کھنک دار ہنسی کی آواز آج بھی ویسی ہی تھی دل میں اتر جانے والی اور یہ ہی وہ پل تھا جب اس کی مست نگاہ میرے وجود پر پڑی اور وہ ہنستے ہنستے رک گئی یقیناً اس نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ اب میں اپنی جگہ ساکت تھا صرف میرے دل کی دھڑکن تھی جو مجھے سنائی دے رہی تھی اور میں یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا جو میری جانب دیکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے اپنا پرس اٹھا کر سامنے بیٹھے شخص کو خدا حافظ کہا اور تیزی سے چلتی میری جانب بڑھی۔ آج محبت کے وجود پر میرا یقین پختہ ہونے والا تھا میں اپنی آنکھوں میں محبت کی جوت جگائے اس لمحہ کا منتظر تھا جب وہ روتے ہوئے میرے سینے سے ان لگے گی اور کہے گی
”دنیا کی اس بھیڑ میں تم کہاں گم ہو گئے تھے؟ مجھے تمھاری یاد نے دیوانہ کر دیا اچھا ہوا جو تم واپس آ گئے ورنہ میں مر جاتی“
میں اسے چھونا چاہتا تھا، محسوس کرنا چاہتا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر اس کے ہونٹوں کا نرم احساس مجھے اپنے لبوں پر محسوس ہوا اور میں ایک دم چونک گیا جب وہ برق رفتاری سے چلتی میرے وجود سے ان ٹکرائی اس سے قبل کہ میں اسے تھامتا وہ میرے اندر سے گزر کر دوسری جانب نکل گئی۔ اس کی قربت کے احساس کا ایک لمحہ بھی میں نے محسوس نہ کیا اس وقت مجھے لگا میں ایک غیر مرئی وجود ہوں اس سوچ کے ساتھ میں اپنی جگہ ہکا بکا کھڑا اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا جو اپنا قیمتی فون کان سے لگائے آہستہ آہستہ ہوٹل کے بیرونی دروازہ کی سمت بڑھ رہی تھی جس کے ساتھ ہی میرے اور اس کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا تھا اس پل میں اسے آواز دے کر روکنا چاہتا تھا مگر میری آواز ہوٹل میں گونج کر رہ گئی اور کسی نے اس پر توجہ نہ دی تب مجھ پر یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ میرا وجود اس دنیا کی بے ثباتی میں کہیں گم ہو چکا ہے، اب میرے پاس صرف روح تھی ایک ایسی روح جو محبت کی تلاش میں بھٹک رہی تھی مگر شاید کسی روح کا مقدر محبت نہ تھی محبت تو بنی ہی جسم کی خواہش کے لئے ہے اس سوچ نے میرے دماغ کو سن کر دیا
آہ! میری روح جو جانے کب سے محبت کی تلاش میں بھٹک رہی تھی آج بھی اپنی جگہ تشنہ کھڑی سسک رہی تھی مگر روح کے آنسو کوئی نہیں دیکھتا اور میرے بے آواز آنسو کوئی بھی نشان چھوڑے بنا ٹھنڈے فرش پر بہتے جا رہے تھے۔


