جنوری 1649 کی سرد رات میں ٹھٹھرتے جسم نے یہ اعلان کرنا ضروری سمجھا کے اس کے جسم کے کانپنے کی وجہ موت کا ڈر نہیں بلکہ ایسا موسمیاتی اثر کی وجہ سے ہے۔ 30 جنوری کی اس رات کو پھانسی پانے والا وہ شخص برطانیہ کا بادشاہ چارلس اول تھا جس کا جرم صرف ملکی مفاد میں کے گئے اپنے فیصلوں کو پارلیمنٹ کی رائے سے بالاتر سمجھنا اور پارلیمنٹ کو 11 سال تک معطل رکھنا تھا۔ اس کی موت نے برطانیہ اور اس کے زیر سایہ نو آبادیات میں ہمیشہ کے لیے تاج کو پارلیمانی جمہوریت کے زیر سرنگوں کر دیا تھا۔ جمہوریت ایک ایسا نظام حکمرانی ہے جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، احتساب، شفافیت اور انفرادی آزادیوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اصولوں پر استوار ہے۔ چوں کہ عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ہر معاملے میں ہر فرد سے۔ رائے لی جا سکے اس لیے یہ ہی ایک ایسا نظام ہے جس میں صاحب اقتدار ہمیشہ عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلے لیتا ہے۔ یوں ایک جمہوری نظام میں بالواسطہ عوام ہی اصل حکمران ہوتی ہے
انہی خوبیوں کی وجہ سے آنے والے وقت میں برطانیہ سے آزادی لینے کے باوجود ان نو آبادیاتی ممالک نے پرانے شاہی نظام کی بجائے جمہوری نظام کو ہی اپنائے رکھا۔ تاہم بدقسمتی سے بیشتر اسلامی جمہوری ممالک میں جمہوریت ایک مثالی نظام ثابت نہیں ہو سکی۔ یہاں پے یہ نقطہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام کا ابتدائی نظام جمہوری ہی تھا۔ حالانکہ وہ آج کے مروجہ ایک آدمی ایک ووٹ والا نہیں بلکہ سقراط کی سوچ سے قریب تر کہ صرف اس نظام کی بنیاد میں اپنا حصہ ڈالنے والے سرکردہ اور معاملات کو سمجھنے والے اہل افراد ہی اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے زیر اثر اس دور میں غیر جمہوری سوچ جیسا کہ موروثی حاکمیت اور اقربا پروری کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ بادی نظر میں یہی وہ سوچ تھی جو آگے چل کے عقائد کی جنگ اختیار کر گئی اور مسلکی اختلافات ظاہر ہوئے۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی کہ اکثر مسلم ممالک نے جمہوریت کو اپنا تو لیا لیکن وہاں پائیدار جمہوریت کبھی پنپ نہ سکی۔ اسی کی ایک مثال ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کا تاریخی پس منظر بار بار غیر سیاسی مداخلتوں اور بغاوتوں سے نمایاں ہے، جس نے بار بار جمہوری عمل کو متاثر کیا اور جمہوری اداروں کی ترقی میں رکاوٹیں ڈالیں۔ آمرانہ مداخلت نے ملک کے سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح اکثر سیاسی فیصلوں، انتخابات کے نتائج اور سیاسی جوڑ توڑ میں اپنے کردار کی وجہ سے، اسٹیبلشمنٹ ملک میں ایک بڑا سیاسی پاور بروکر بن گئی ہے، جس کا سیاسی، خارجی اور اقتصادی نظام پر خاصا اثر و رسوخ ہے۔ ایک جمہوری ملک ہونے کے باوجود، یہ مداخلت نا صرف جمہوریت کے روح کے خلاف ہے بلکہ اس کے نتائج بھی یہ مملکت برسوں پہلے اپنا آدھا وجود گنوا کر بھگت چکی ہے۔ ایک طرف یہ غیر جمہوری رویے اور دوسری طرف پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر بھی اکثر تنقید کی جاتی ہے کہ ان کا مزاج ان آمرانہ حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔
پاکستان میں آمرانہ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مماثلت کی بات کی جائے تو ایک اہم مماثلت احتساب اور شفافیت کا فقدان ہے۔ ملک میں سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں پر اکثر بدعنوان طریقوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے، جیسے کہ عوامی فنڈز کا غبن، اقربا پروری اور طاقت کا غلط استعمال۔ مزید برآں، ملک میں سیاسی جماعتیں اکثر تمام شہریوں کی بامعنی شرکت اور نمائندگی کی اجازت دینے کے بجائے اقتدار چند افراد کے ہاتھ میں مرکوز کر دیتی ہیں۔ جبکہ جمہوریت کا مطلب تمام شہریوں کو مساوی مواقع اور نمائندگی فراہم کرنا ہے، چاہے ان کی سماجی، اقتصادی یا سیاسی حیثیت کچھ بھی ہو۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا فقدان کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں بار بار سیاسی نظام کو گھر بھیجنے کی وجہ سے کمزور سیاسی ادارے، تعلیمی نظام کا باقی دنیا سے ہم آہنگ نا ہونا اور طاقتور اشرافیہ کا اثر و رسوخ شامل ہیں۔ سیاست میں مذہب اور موروثیت کا کردار بھی ایک بڑا عنصر ہے جو ملک میں جمہوریت کے فقدان کا سبب بنتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ جن پارٹیوں کا منشور ہی موروثیت کے خلاف جدوجہد پر مبنی ہے ان کے یہاں بھی اہم فیصلے پارٹی لیڈر کے قریبی غیر منتخب ساتھیوں کے صوابدید پہ ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت جمہوری ہو یا غیر جمہوری شفافیت کا فقدان، چند افراد میں طاقت کا ارتکاز، حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی مخالفوں پر طاقت کا بے دریغ استعمال، میڈیا پر سینسرشپ اور نا پسندیدہ صحافیوں پر پابندیاں، اور بدعنوانی عمومی طور پر یکساں ہی ہوتی ہیں۔
یہاں ماضی کی مثال سے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کے پاکستان ایسے کثیر نسلی ممالک کی بقا کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کے سب اکائیوں کی آواز سنی جائے اور سب کی اقتدار میں شمولیت ہو۔ اور یہ صرف اک جمہوری نظام میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے جن بڑے چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت ہے وہ صرف یہی نہیں کہ غیر جمہوری مداخلت کا راستہ روکا جائے، یا میڈیا کی سینسرشپ مروجہ عالمی قوانین کہ دائرہ کار کہ اندر ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی پارٹیاں جمہوریت کو راہ نجات سمجھتے ہوئے اپنے اندر بھی جمہوری تبدیلیاں لائیں