ڈیجیٹل مردم شماری اور اقلیتی برادری کے تحفظات


وفاقی حکومت کی جانب سے یکم مارچ سے مردم شماری کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے لئے بظاہر تو حکومتی سطح پر تیاریاں کی جا رہی ہیں مگر عملی طور پر سارا عمل ابھی تک مبہم ہے کیونکہ میڈیا کے ذریعے جاری کیے جانے والے اشتہارات میں یہ تو کہا جا رہا ہے کہ اب آپ اپنا شمار خود کروا سکتے ہیں مگر یہ شمار کیسے کرایا جا سکتا ہے وہ کون سی ویب سائٹ یا ایپ ہے جس کے ذریعے یہ کیا جا سکتا ہے اس حوالے سے شہریوں کو کوئی آگہی نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں میں بے چینی اور تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اس ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے سے زیادہ تحفظات اقلیتی برادری کو ہیں، میرا تعلق چونکہ خود اقلیتی برادری سے ہے اس لئے میرے نزدیک یہ تحفظات درست ہیں کیونکہ سال 2017 میں جس طریقے سے مردم شماری کی گئی تھی اس کے نتائج میں جس قدر ابہام تھا کہ اسے اقلیتوں سمیت زیادہ تر کمیونیٹیز، جن میں سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں نے تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔ سال 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی 1998 کی نسبت 3.37 فیصد سے کم ہو کر 2017 میں 3.52 فیصد رہ گئی ہے۔ جبکہ 19 سالوں میں اقلیتوں کی مجموعی آبادی میں 0.21 فیصد کمی دکھائی گئی ہے۔

اس مردم شماری کے نتائج کے مطابق مسیحیوں کی آبادی میں 25.71 فیصد، ہندؤں کی آبادی میں 70.60 فیصد اور شیڈول کاسٹ آباد میں 157.58 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کے برعکس قادیانی /احمدی کیمونٹی کی آبادی میں 35.71 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق دیگر مذہب (پارسی، بدھ مت وغیرہ) کی آبادی میں 60 فیصد کمی ہوئی ہے، 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے یہ وہ نتائج تھے جنہوں نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جاتے جس سے اقلیتی برادری کے تحفظات دور ہوسکتے مگر ایسا نہیں کیا گیا، نہ اس مردم شماری سے قبل اقلیتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور نہ ہی نتائج جاری ہونے کے بعد اعتماد میں لیا گیا تھا اب جبکہ مارچ 2023 میں حکومت کی جان سے ڈیجیٹل طریقے سے مردم شماری کا اعلان کیا گیا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ یہ مردم شماری روایتی طریقے سے ہٹ کر ہوگی، اس کے نتائج میں رد و بدل ممکن نہیں ہو سکے گا مگر 2017 کی مردم شماری کے نتائج دیکھ کر تو ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے سے حکومتی دعوے محض دعوے ہی محسوس ہو رہے ہیں کیونکہ اس مردم شماری سے قبل اقلیتوں کو اعتماد میں لینے کے لئے اگر ان کے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سے مشاورت کی جاتی تھی شاید اقلیتی برادری کے شکوک و شبہات اور تحفظات ختم ہوسکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا ہے۔

حکومت وقت اگر اس ڈیجیٹل مردم شماری کو اقلیتوں کے حوالے سے غیر متنازعہ رکھنا چاہتی ہے تو ابھی بھی وقت ہے، ادارہ شماریات والوں کو چاہیے کہ اقلیتی رہنماؤں سے مشاورت کریں، اقلیتی کی آبادی کے حوالے سے درست اعداد و شمار حاصل کرنے کے لئے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے رضاکاروں کو ٹریننگ دے اور مردم شماری کے لئے جانے والے عملہ کے ساتھ ان رضاکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں تاکہ وہ درست انداز میں اقلیتوں کے حوالے سے اعداد شمار کے اندراج میں ان کی معاونت کرسکیں اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے سے آگہی دینے کے ساتھ ساتھ ان کو افراد کو شمار کے حوالے سے راغب بھی کریں، حکومتی سطح پر اگر یہ اقدامات کر لئے جاتے ہیں اور اقلیتوں کے تحفظات دور کر دیے جاتے ہیں تو پھر شاید مارچ میں ہونے والی مردم شماری کے حوالے سے اقلیتوں کے تحفظات دور ہوسکتے ہیں بصورت دیگر اس ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج بھی 2017 کی مردم شماری کی طرح اقلیتوں کے لئے شکوک و شبہات کا سبب ہو سکتے ہیں

Facebook Comments HS