پشاور – تاریخ اور حال


درہ خیبر کے مشرقی سَرے پر واقع برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک پشاور، وسط و جنوبی ایشیاء کی اہم اور قدیم ترین درہ خیبر کے مشرقی سرے پر واقع برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک پشاور، وسط و جنوبی ایشیاء کی اہم اور قدیم ترین گزرگاہوں پر آج بھی شان سے قائم و دائم ہے۔ موجودہ دور کا پشاور شہر کسی نسلی و ثقافتی عجائب گھر سے کم نہیں ہے جہاں اس وقت کئی مختلف زبانوں، قوموں اور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد رہائش پذیر ہیں۔

ماضی میں اس شہر کو کئی ناموں سے پکارا گیا ہے۔ کبھی اسے ”کسپاپوروس“ کہا گیا تو کبھی ”پشکبور“ ، کبھی پارس پور و کشان پور پکارا گیا تو کبھی پرشاپور لکھا گیا۔ انہی ناموں سے بگڑتے بگڑتے یہ موجودہ نام پشاور تک پہنچ گیا جو ایک دور میں پھولوں کا شہر کہلایا جاتا تھا۔

وسطی، جنوبی اور مغربی ایشیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے پشاور صدیوں سے افغانستان، جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اور مشرق وسطی کے درمیان میں ایک مرکز کی حیثیت سے قائم چلا آیا ہے۔

چلیں اس علاقے کے بارے میں اور جانتے ہیں۔

جغرافیہ

خیبر پختونخوا کے تقریباً مرکز میں واقع ضلع پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مہمند، خیبر اور کوہاٹ کے اضلاع سے گھرا ہوا ہے۔ صوبائی صدر مقام کے علاوہ یہ ایک ڈویژن اور ضلعی صدر مقام بھی ہے۔

سطح مرتفع ایران (جس کا ایک حصہ سطح مرتفع بلوچستان بھی ہے ) میں واقع پشاور کے شمالی سرے پر دریائے کابل جبکہ جنوب میں ”دریائے باڑہ“ بہتا ہے۔ پشاور کے میدان میں داخل ہوتے ہی دریائے کابل کئی شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جن میں پشاور کی طرف آنے والی دو بڑی شاخیں ہیں، مشرق کو جانے والی شاخ ادیزئی کہلاتی ہے جو چارسدہ تک جاتی ہے اور شاہ عالم شاخ آگے جا کر دریائے نگومن میں مل جاتی ہے۔ ضلع کا شمالی حصہ زرخیز میدانوں جبکہ جنوبی حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے۔

تاریخ

تاریخ کے مطابق اس علاقے کا عمومی نام ”پرش پورہ“ (انسانوں کا شہر) تھا جو بگڑ کر پشاور بن گیا۔

دوسری صدی عیسوی میں مختصر عرصے کے لیے ”کشان“ نے اس علاقے پر قبضہ کر کے اسے اپنا دارالحکومت بنایا۔ اس کے بعد اس علاقے پر یونانی باختر بادشاہوں نے حکمرانی کی اور پھر پارتھی، ہند پارتھی، ایرانی اور پھر کشان حکمرانوں نے قبضہ کیے رکھا۔

کشان حکمران ”کنشک“ نے اپنا دارالحکومت پشکلاوتی (موجودہ چارسدہ) سے پرش پورہ (موجودہ پشاور) منتقل کر دیا۔ کشان حکمرانوں نے جب بدھ مت قبول کیا تو یہ ان کی سلطنت اور اس شہر کا سرکاری مذہب بھی قرار پایا۔

روایات میں ہے کہ بدھ مت کے پیروکار کنشک نے اس دور کی بلند ترین عمارت بنوائی جو بدھ مت کا ایک متبرک سٹوپا تھا اور جہاں بدھ مت سے متعلق مذہبی تبرکات جمع کیے گئے تھے۔ یہ سٹوپا پرانے پشاور کے گنج دروازے کے ساتھ باہر بنایا گیا تھا جو آج ”کنشک سٹوپا“ کے نام سے مشہور ہے۔

اس کے بعد ہندو شاہی سلطنت کا دور شروع ہوا جس کے راجا جے پال نے کافی عرصے تک اس علاقے کا دفاع کیے رکھا۔

دوسری طرف جب خراسان میں اسلام پھیلنے لگا اور ترک بادشاہ محمود غزنوی برسر اقتدار آیا تو اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے کئی جنگیں لڑیں یہاں تک کہ راجا جے پال کو بھی ایک معرکے میں شکست دے دی۔

اس کے بعد جے پال نے اپنی قوت مجتمع کر کہ غزنی پر ایک اور حملہ کیا لیکن پشاور کے قریب محمود غزنوی سے شکست کھانے کے بعد اس نے خودکشی کر لی۔ اس کے بعد اس کے بیٹے آنند پال نے بھی پشاور پر قبضے کی کئی کوششیں کیں جو کامیاب نہ ہو سکیں۔

اس کے بعد پشاور بہلول لودھی کے زیر سایہ لودھی سلطنت کا حصہ بنا یہاں تک کہ بابر نے وسط ایشیا سے آ کہ مغل حکومت کی بنیاد رکھی۔ مغل سلطنت کے کمانڈر اور پھر صوبہ بہار کے گورنر شیر شاہ سوری نے 1540 میں مغل علاقوں پہ قبضہ کر کہ ”سور“ سلطنت کی بنیاد رکھی اور اس شہر کا سنہری دور شروع ہوا۔

شیر شاہ سوری کے دور میں پشاور کی تعمیر نو کی گئی اور دہلی سے کابل تک جاتی جرنیلی سڑک پشاور سے گزاری گئی۔ ایک بار پھر یہ شہر مغل سلطنت کا حصہ بنا تو شہنشاہ اکبر نے اس شہر کا نام تبدیل کر کہ ”پیشوا“ (یا پیشوا) کر دیا اور یہاں وسیع پیمانے پر باغات لگوائے جس سے یہ ”باغات کا شہر“ مشہور ہو گیا۔ ساتھ ہی اکبر نے اس علاقے میں چھوٹے قلعے بھی بنوائے۔ اٹھارہویں صدی میں ناصر شاہ کے دور حکومت میں مغل سلطنت کے زوال کے بعد پشاور پر ایران نے قبضہ کر لیا۔ پھر یہ درانیوں کے قبضے میں چلا گیا اور پشتون احمد شاہ درانی کی حکمرانی شروع ہوئی۔

1758 کی جنگ پشاور میں پونے سے آئے مراٹھوں نے سکھوں کے ساتھ مل کہ درانیوں کو شکست دی اور اس افغان سرحد تک علاقے کا کنٹرول چھین لیا۔
کچھ عرصے بعد پشتونوں کا ایک بڑا لشکر احمد شاہ درانی کی قیادت میں پشاور کو واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور سکھوں کے قبضے تک یہ درانی سلطنت کا حصہ رہا۔

1818 ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر قبضہ کر کے یہاں کا دورہ کیا اور 1834 ء میں اسے سکھ ریاست میں شامل کر لیا اس کے بعد شہر کا زوال شروع ہو گیا۔

رنجیت سنگھ نے ایک اطالوی ”جنرل پاؤلو ایویٹیبل“ (جسے مقامی ابو تبیلا کے نام سے یاد کرتے ہیں ) کو یہاں کا سربراہ بنا دیا۔ اس جنرل نے کئی لوگوں کو پھانسی پہ چڑھایا اور شہر میں خوف کی فضا قائم کر دی۔ مغلوں کے باغات اور مسجد مہابت خان کو تباہ کر دیا گیا۔ اسی دور میں ہری سنگھ نلوہ نے شہر میں گردوارہ جوگا سنگھ اور گردوارہ بھائی بیبا سنگھ تعمیر کروائے۔

1835 میں افغانستان کے امیر دوست محمد خان نے اس شہر کو فتح کرنا چاہا لیکن اپنے لوگوں کی بے وفائی کی وجہ سے ناکامی کا سامنا ہوا۔ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد سکھ سلطنت کی گرفت پشاور پر کمزور پڑ گئی۔ 1849 میں انگریز سرکار نے سکھوں کو جنگ میں ہرا کر اس علاقہ پر قبضہ کر لیا اور تقسیم ہند تک قابض رہے۔

برطانوی دور اور پشاور کی تعمیر نو

برطانوی راج میں پشاور نے خوب ترقی کی۔ شہر کے غربی کونے پر چھاؤنی بنائی کی گئی جس سے یہ شہر سرحد کے قریب مرکزی علاقہ بن گیا۔ اسلامیہ کالج اور ایڈورڈز کالج کی بنیاد رکھی گئی۔ پشاور کو ریل کے ذریعے لاہور و دہلی سے ملایا گیا۔ ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی پر کننگھم ٹاور بنایا گیا۔ پشاور کے وکٹوریہ ہال (موجودہ عجائب گھر) سمیت شہر میں مختلف مقامات پر چرچ تعمیر کیے گئے۔

کچھ قوانین کی وجہ سے 1930 میں باچا خان نے ہزاروں لوگوں کے مجمع سمیت قصہ خوانی بازار میں انگریز حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کیا جہاں ظالم برٹش انڈین آرمی نے مظاہرین پر فائر کھول دیا۔ سینکڑوں اموات ہوئیں اور کئی زخمی ہوئے، پشاور کا قصہ خوانی بازار لہو سے رنگ دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد آزادی کی جدوجہد اور تیز ہو گئی۔

1947 میں باچا خان اور موہن داس کرم چند گاندھی کی شدید خواہش کے باوجود قائداعظم کی کوششوں سے مقامی سیاست دانوں اور پختون عوام نے پاکستان میں شمولیت کی منظوری دے دی اور پھولوں کا شہر مملکت پاکستان کا حصہ بنا۔

پشاور جو میں نے دیکھا

2018 میں مجھے یہ شہر قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ لاہور کی محبت کا مارا ہوا میں، جو سمجھتا تھا کہ لاہور جیسا آثار قدیمہ و ثقافتوں کا حسین امتزاج کہیں نہیں مل سکتا پشاور کو دیکھ کہ ہکا بکا رہ گیا۔ اس شہر کی فضا میں ایک الک ہی رنگ اور خوشبو ہے۔ پشاور، ہمیں صحیح طریقے سے دکھایا ہی نہیں گیا۔ اس شہر کی کئی قدیم اور تاریخی جگہیں اب بھی گمنام پڑی ہیں۔

بہت سی جگہیں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ختم ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں۔ پھولوں کا یہ شہر اب گرد اور کچرے کا شہر لگتا ہے۔ لیکن اس کے لوگ اب بھی پھولوں کا سا دل رکھتے ہیں اور مہمان نوازی کے تو کیا ہی کہنے۔

چلیں ایک نظر پشاور کے چیدہ چیدہ ورثے پر ڈالتے ہیں۔

پشاور شہر کی سیر کرنی ہو تو سب سے پہلے جی ٹی روڈ کے پاس اندرون شہر میں محلہ باقر شاہ کا رخ کریں یہاں آپ کو مسجد مہابت خان، کننگھم ٹاور، کپور حویلی، سیٹھی محلہ، قصہ خوانی اور گوڑکھتری کمپلیکس پاس پاس ملیں گے جنہیں آپ آسانی سے ایک دن میں دیکھ سکتے ہیں۔

مسجد مہابت خان

تین خوبصورت گنبدوں، دو بڑے و چھ چھوٹے میناروں اور پانچ محرابی دروازوں پر مشتمل مسجد مہابت خان، 1670 میں یہاں کے مغل گورنر مہابت خان نے تعمیر کروائی تھی جو اس وقت شہر کی مشہور ترین اور بڑی مسجد ہے۔

مسجد کا نام مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور میں لاہور کے گورنر نواب دادن خان کے پوتے اور مغل گورنر پشاور نواب مہابت خان کے نام پر رکھا گیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پشاور پہ سکھوں کے قبضے کے دوران اس مسجد کے میناروں کو پھانسی گھاٹ کے طور پہ بھی استعمال کیا گیا تھا (جس کی حتمی طور پہ تصدیق نہیں کی جا سکی) پھر برطانوی دور میں اسے مسلمانوں کو واپس کر دیا گیا۔

اندرون شہر کے تنگ بازاروں میں واقع اس مسجد کا صحن کافی بڑا ہے جس کے بیچوں بیچ وضو کے لیے نیلی ٹائل والا ایک بڑا تالاب موجود ہے۔ مسجد کی دیواروں پر کیے جانے والے نقش و نگار مغلیہ دور کے فن تعمیر کی عکاسی کرتے جبکہ مرکزی ہال میں بھی گل بوٹے اور خطاطی کا خوبصورت کام دیکھنے کو ملتا ہے۔ مسجد کا ایک دروازہ اندرون شہر جبکہ دوسرا شمالی جانب کھلتا ہے۔

Facebook Comments HS