رجیم چینج، خان صاحب اور دیگر کردار! کیا کیا دیکھا اور دکھایا گیا؟


اس فلم کی شروعات ”بیرونی سازش“ سے ہوتی ہے، یہ بتایا جاتا ہے کہ ”امریکہ نے پاکستان کو خط کے ذریعے دھمکی دی ہے“ ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر صاحب اس ڈرامے کے کرداروں کو بڑھاتے گئے، کہانی میں موڑ آتے گئے، کچھ جذباتی لوگ اس فلم کا گرویدہ بنتے چلے گئے، اور ہم دل تھام کے ایک کنارے سے تماشا کرتے رہے، لیکن با شکر خدا کبھی آنکھ بند نہیں کی۔

جونہی وقت گزرتا گیا، میر جعفر اور میر صادق بھی اس فلم کا حصہ بنے۔ ”نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں“ جیسے پرجوش اور غیر معقول نعرے لگنے لگے اور ساتھ ہی ساتھ مسٹر ایکس، مسٹر وائے اور ڈرٹی ہیری کی بھی اینٹری ہوتی گئی۔

کہانی تب اپنے عروج کو پہنچی، جب باجوہ صاحب کے باقی ماندہ دن بطور جنرل کم ہونے لگے اور جونہی جنرل صاحب نے اپنی چھڑی حافظ صاحب کے حوالہ کر دی، تو فرسٹریشن کا شکار اور نام نہاد انقلابی، نڈر و بے باک لوگوں نے کھل کر باجوہ صاحب نام لینا شروع کر دیا، ان کے خلاف ٹرینڈز چلائے گئے اور سارا ملبہ ان پر پھینکا گیا، کیونکہ اب ڈنڈے کا ڈر جو ختم ہو گیا تھا۔

بعد میں محسن نقوی صاحب کو بھی اس ڈرامے کا ایک ڈراؤنا کردار دکھلایا گیا، لیکن ان کا انٹرول اتنا متاثرکن نہیں تھا۔ اور مضحکہ خیز لمحہ تو وہ تھا کہ سامعین کو دکھایا جا رہا تھا کہ قوم کے وسیع تر مفاد میں ڈائریکٹر صاحب کا جنرل صاحب سے تعلقات بہت خراب چل رہے ہیں، مگر پیٹھ پیچھے مذاکرات ہو رہے تھے۔ اور ہاں یہ ریٹائرمنٹ سے پہلے کی بات ہے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے، کہ فلم کی آخری قسطیں چل رہی ہے، اور کسی نئے موڑ اور چمتکار کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ جس سے مزید اقساط کا اضافہ کیا جائے۔

نوٹ۔ 1 : وقت کے ساتھ ساتھ بیانات سے ”امریکی مراسلہ“ ، بیرونی مداخلت جیسے الفاظ کو حذف کیا گیا۔ اور یہی وہ باتیں ہیں، جس پر اس پورے فلم کا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا تھا۔

نوٹ۔ 2 : خان صاحب کی ناراضگی اس بات پہ نہیں تھی کہ کسی نے ان کی مخالفت کی ہے، یا ان کے خلاف سازش کی گئی ہے۔ بلکہ ناراضگی اس بات پر تھی، کہ مدد کیوں نہیں کی جا رہی۔

المختصر! جس کی گود میں پلے بڑھے تھے، اس گود سے اٹھنا برداشت سے باہر تھا۔
اب آگے کیا ہو گا؟ کچھ نہیں کہہ سکتا، اور یہ قبل از وقت ہو گا، ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ کیونکہ نہ میرے پاس علم غیب ہے اور نہ آپ کے پاس۔

Facebook Comments HS