ادب اور امن میں تعلق
چند روز و شب جو میں نے ادب اور امن میں تعلقات کو سمجھنے کے لئے وقف کیے اس کا نتیجہ اب میرے قلم کی نوک سے الفاظ کی شکل میں ڈھل کر آپ کے ذوق کی نذر ہوں گے۔
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہو گا کہ ادب اور امن ہیں کیا چیز؟ تو پھر بسمہ اللہ!
نظم اور نثر ادب کے لئے دل و دماغ کا کام کرتی ہیں یعنی کل ملا کر بات یہ ہوئی کہ ادب انسان کے مشاہدات، جذبات اور احساسات کا نام ہے۔ جبکہ انسان کے اندرون سے لے کر گلی، محلے، بستی، شہر اور ملک بعد ازاں پوری دنیا میں اگر فضا نرم ہو، سلام دعاؤں سے محبت کی خوشبو آ رہی ہو، سوالی کی جھولی بھری جا رہی ہو اور سینوں میں احساس کرنے والے دل موجود ہوں تو اس ماجرے کو امن کا لقب دیا جاتا ہے۔
چلیں اب یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ معاشرے میں امن کی کیا اہمیت ہے۔ وہ معاشرہ جس کے دونوں ہاتھ غلامی کی زنجیروں سے بندھے ہوں، جہاں خود غرضی کے علاوہ تمام احساسات دم توڑ چکی ہوں، جہاں ذاتی اور مذہبی تفرقات اپنے عروج پر ہوں، اور جہاں روٹی، کپڑا، مکان تو دور کی بات آدمی کو اپنی زندگی ہی چھن جانے کا خوف ہو، تو سمجھ لیجیے اس جگہ امن کا نام و نشان نہیں۔ ایک باشعور قوم اپنی امان کی حفاظت کرتی ہے اور اسے کھونے نہیں دیتی۔ مگر خدا بھی بڑا رحیم ہے کبھی کبھی خواب غفلت کی نیند سوئی ہوئی قوموں کو جگانے کے لئے شمشیر لیے ہوئے بہادر بھیجتا ہے تو کبھی قلم لیے ہوئے سخن ور۔
کچھ ایسا ہی واقعہ آج سے قبل ایک سو تریسٹھ سال پہلے واقع ہوا جب برصغیر پاک و ہند پوری طرح انگریزوں کے زیر دست آیا اور ساری قوم غلامی کی جال میں جکڑی گئی۔ اس وقت کوئی انقلابی شمشیر زن نا آیا اور پھر جو جنگ اس دور کے ادیبوں نے چھیڑی ان کے سامنے ظالموں نے گھٹنے ٹیک دیے۔
سرسید احمد خان نے اپنی تحریروں سے اس قوم کو ان کی زمین بوس ہونے والی عزت واپس تھما دی اور سامنے والوں سے لڑنے کا ہنر سیکھا دیا۔ جبکہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری سے لوگوں کے دلوں میں شعور کا نور ڈالا اور انہیں جذبہ عطا کیا کے وہ اپنی آزادی لے کر رہیں گے۔ ان سب کا نتیجہ ایک آزاد ملک پاکستان کی صورت میں نمایاں ہوا۔ یہ بات الگ ہے کہ آج اس کی حالت کیا ہے مگر اس وقت کے ادیبوں نے ایک قید قوم کو آزاد کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ نا قابل فراموش ہے۔
ادب جہاں ادب کو پروان چڑھاتا ہے ٹھیک ویسے ہی یہ معاشرے کو بھی کہاں سے کہاں لے جانے کی قوت رکھتا ہے۔ ایک ادیب اپنے دو بول سے انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ یہ دو بول معاشرے کو عروج پر بھی لے جا سکتے ہیں اور زوال پذیر بھی کر سکتے ہیں۔ اس دور کے ادیب سے یہی تقاضا کیا جاسکتا ہے کہ اگر قلم میں جان ہے اور معاشرے کا کوئی خوبصورت نقشہ کھینچا جاسکتا ہو تو پھر دیر نا کرے دو بول جوڑ دے!


