ضمیر فروش اردو پروفیسر، رشوت اور چور بازاری


اگر ہم آج اکیسویں صدی میں کہیں کہ اردو پر ہندوستان میں زوال خود اردو والوں بالخصوص ضمیر فروش پروفیسروں نے لایا تو کچھ غلط نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہ اردو کے پروفیسر ہی ہیں جنہوں نے ٹولیاں بنا کر اور رشوت کھا کر یونیورسٹی اور کالجوں میں نالائقوں کو اپوائنٹ کیا اور یوں نالائقوں کی یہ ٹولی بڑھتی ہی جا رہی ہے اور اب کئی ٹولیاں وجود میں آ گئی ہیں۔ یونیورسٹی بورڈ اور مختلف ریاستوں کے PSC اور بھرتی ایجنسیوں سے مل کر انہوں نے اردو زبان و ادب کے پیروں پر خود کلہاڑی مار دی ہے۔ اور حرام کی کمائی سے اپنا پیٹ بھر دیا۔ بنگلے تعمیر کیے اور گاڑیاں خریدی۔

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک جے آر ایف، یو جی سی نیٹ، پی ایچ ڈی والا اور جس کے ملک کے مقتدر رسالوں میں مضامین چھپے ہوں سلیکشن میں ڈراپ ہو جائے۔ بلکہ یہ تو کھلی لوٹ ہے۔ دن دیہاڑے چوری۔ اور دوسرے امیدواروں کی انکھوں میں دھول جھونکنا اور ان کی محنت پر پانی پھیر دینا۔ اردو والوں نے پہلے گروہ بندی سے اردو کو نقصان پہنچایا پھر مشاعرے اور بریانی سے اس کا بیڑا غرق کر دیا۔ فضول کی کتابیں لکھ لکھ کر طالب علموں کو گمراہ کیا اور باقی رہی سہی کسر رشوت کھا کر پوری کر دی۔ اور اس طرح حق دار کو اس کو حق نہیں مل رہا ہے اور جو جتنا ”چالاک“ ہے وہ رشوت اور چاپلوسی سے اتنا کما رہا ہے۔

لیکن رشوت اور چاپلوسی سے تو انہوں نے اپنے پیٹ بھر دیے لیکن اس سے اردو کا کچھ بھلا نہ ہوا۔ بلکہ دن بہ دن اردو زوال کی طرف چلا جا رہا ہے بلکہ چلا گیا ہے۔ اور آج حالت یہ ہے کہ اردو ایک گالی بن گئی ہے۔ نہ اس میں پڑھانے والے اچھے ہیں اور نہ پڑھنے والے۔ جس کو کچھ نہیں آتا وہ اردو پڑھتا ہے اور پھر دو چار شعر یاد کر کے تنقید نگار و پروفیسر بن بٹھاتا اور لوگوں پر رعب جماتا ہے۔ یہ ضمیر فروش پروفیسر تو اپنی کتابوں پر دانشور لفظ بھی لکھ دیتے ہیں جس پر ہنسی آجاتی ہے۔

ایک مرحوم نقاد نے کبھی کہا تھا کہ اردو کے پروفیسر جاہلوں کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتے ہیں (حالانکہ مرحوم نقاد خود ایک گروہ بنائے بیٹھا تھا) لیکن اب حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب یہ پروفیسر بے ایمانوں کی چوتھی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسا کئی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ اردو کے ایکسپرٹ پروفیسروں نے رشوت کا مال کھایا اور ایک امیدوار سے دس سے پندرہ لاکھ میں سودا طے کیا۔ جموں و کشمیر سے لے کر بہار و مہاراشٹر تک کئی بار ایسی خبریں آئیں کہ پروفیسروں نے خوب مال کھایا اور اس میں PSC ممبران نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

یہ ایک افسوسناک پہلو ہے بلکہ ایک مجرمانہ فعل بھی۔ لیکن جس ملک میں سب کچھ رشوت مین ڈوبا ہوا ہو اس ملک میں انصاف اور ایمانداری کی توقع کرنا کار فضول کے سوا کچھ نہیں۔ میرٹ اور قابلیت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ کسی کو دوسرے کی محنت اور قابلیت کی کوئی فکر نہیں۔ بس کس طرح زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جائے، سب اسی میں لگے ہوئے ہیں، جس پر جتنا افسوس کیا جائے اتنا کم ہے۔

کشمیر کی یونیورسٹیوں سے لے کر علی گڑھ کی یونیورسٹی تک کئی پروفیسروں نے خاتون سکالروں کو اپنے جال میں پھنسایا ور پھر ڈپارٹمنٹ میں بھرتی کیا۔ کچھ نے رشوت وغیرہ سے اپنی بیویوں کے لئے راہ ہموار کی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق عموماً سودا دس سے پندرہ لاکھ میں طے ہوتا ہے۔ اور یہ خبریں راز نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے منٹوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں۔

ایسے میں اردو زبان و ادب کیا خاک ترقی کرے گا۔ اردو کی نئی پود اردو سے قریب نہیں بلکہ دور ہو جائے گی بلکہ ہو چکی ہے۔ بس مشاعرے اور بریانی محفلیں آراستہ ہوں گی اور کانفرنسوں میں کو رما اور بوٹیاں تقسیم ہوں گی۔ اور پھر چوری چھپے باتیں ہوں گی کہ کس نے زیادہ کمایا اور کھایا اور کون پیچھے رہ گیا۔

ضمیر فروش پروفیسروں نے اردو کا جتنا بیڑا غرق کیا اتنا کسی نے نہیں کیا۔ رشوت اور چاپلوسی سے انہوں نے پوری طرح اردو دینا کو ہائی جیک کیا ہے۔ طالب علموں کو گمراہ کیا۔ 2017 کے جموں و کشمیر کالج لیکچرر تقرریاں سے کر بہار و یوپی کالج سلیکشن تک انہوں نے بڑی دھاندلیاں کی۔ کروڑوں روپیہ امیدواروں سے ہڑپ لیا، جس کی خبریں مختلف اخباروں یہاں تک کہ ریڈیو پر آئیں۔ لیکن چونکہ حکومت یا حکومتی اہلکار اس میں کہیں نہ کہیں خود ملوث تھے۔ اس لیے اس پر کچھ کارروائی نہ ہوئی۔

کسی پروفیسر اس پر آواز نہیں اٹھائی۔ سب نے خاموشی اپنائی جیسے ان کو کوئی سانپ سونگھ گیا تھا۔ اور یہ خاموشی اس وجہ سے بجا بھی ہے کہ خود یہ خود ساختہ دانشور اس چور بازاری میں ملوث رہے ہیں اور ان کے تعمیر کیے ہوئے محل اسی رشوت اور حرام کی کمائی سے کھڑے ہیں۔

یونیورسٹی میں یہ پروفیسر اپنے منظور نظر کے انتظار میں لگے رہتے ہیں کہ کب کوئی پھنس جائے جس سے زیادہ سے زیادہ روپیہ ہڑپ لیا جائے یا کب اسسٹنٹ پروفیسر و لیکچرر کے لیے اسامیاں اور کتنی اسامیاں تشہیر کرنی ہیں۔ یوں پروفیسروں نے اسے اپنی جاگیر بنایا ہے۔ لیکن ان جاہلوں اور ضمیر فروشوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ سرکار کا ادارہ ہے اور ہر سرکاری ادارہ عوام کا ہوتا ہے۔ اس طرح ان کو پتہ ہونا چاہیے دھاندلیاں کر کے وہ قوم کے پیروں پر کلہاڑی ما ر رہے ہیں۔

مسئلہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ یونیورسٹی شارٹ لسٹ بھی اب پروفیسر مل کر طے کرتے ہیں۔ کس کو انٹرویو کے لیے لانا ہے، کس نے زیادہ چاپلوسی کی ہے اور کسی سے ”مال“ وصول کرنا ہے۔ یہ سب یہ مل جل کر طے کرتے ہیں اور اپنے منظور نظر امید واروں کو انٹرویو میں بلاتے ہیں۔ اور پھر انٹرویو ایک فارمیلیٹی بن جاتا ہے۔

اس سلسلے میں راقم الحروف نے کئی سابقہ امیدواروں سے بات کی اور ان کا کہنا ہے کہ اردو دنیا میں جتنی دھاندلیاں ہوتی ہیں اتنی شاید ہی کسی مضمون کی سلیکشن میں ہوتی ہوں۔ اور یہی رشوت اور دھاندلیاں اردو زبان و ادب کے زوال کا باعث ہیں۔

ایک سابقہ امیدوار نے نام ظاہر نہ کرنے پر کہا کہ ”میرے امتحان میں اچھے نمبرات آئے تھے اور انٹرویو کے لیے پہلے تین امیدواروں میں شامل تھا۔ یو جی سی جے آر ایف بھی ہوں۔ دو کتابیں اور دس سے زیادہ مضامین یو جی سی سے تسلیم شدہ رسائل میں چھپ چکے ہیں۔ انٹرویو بھی اچھا ہوا، لیکن نتائج دیکھے تو میں ویٹ لسٹ میں بھی نہیں۔ پھر پتہ چلا کہ سودا پہلے ہی دس پندرہ لاکھ میں طے ہو چکا تھا۔“

ایک امید وار کے مطابق ’اردو پروفیسر آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں، ان کا اپنا ایک نیٹ ورک ہوتا ہے اور جب کسی پروفیسر کو کوئی بھرتی ایجنسی بلاتی ہے تو وہ دوسرے پروفیسروں کو اطلاع دیتے ہیں جہاں سے پیسہ وغیرہ ملنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ ”

ایک امیدوار کا کہنا ہے ”کہ جب جموں و کشمیر کی بھرتی اجنسی JKPSC میں اردو کے انٹرویو کا دن تھا اس سے ایک دن پہلے جموں کے ایک پروفیسر نے ماہرین سے ایک ہوٹل میں ملاقات کی اور کچھ دن بعد نتائج کے اعلان ہوا تو سب پر ظاہر ہوا کہ سودا پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔“

اسی طرح ایک اور امیدوار کا کہنا ہے ”کہ ایک سابقہ پروفیسر نے اب یہ فراڈ سسٹم اپنی معاش کا ذریعہ بنایا ہے۔ پہلے تو وہ طلاب کو پیسے کے عوض ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالے لکھ کر دیتا تھا لیکن اب وہ دلالی کر کے خوب پیسہ کماتا ہے۔“ ایسی بہت سی کہانیاں جہاں جائز امیدوار کا انتخاب نہیں ہوا۔ جس نے ان پر پروفیسروں اور بھرتی ایجنسیوں کا بھی پردہ فاش کیا ہے۔ اور رشوت کے اس گھناونے کھیل سے پردہ اٹھایا ہے۔

ایسے حالات میں اردو زبان و ادب کی ترقی کے امکانات کیا ہوں گے اس کا اندازہ ہر صاحب فہم لگا سکتا ہے۔ اردو کو سب سے پہلے رشوت اور چاپلوسی سے آزاد کروانا ہو گا۔ اردو کے پروفیسروں کو چاہیے کہ موٹی موٹی کتابیں لکھ کر اور اپنے رشتہ داروں، بیویوں کو اپوائنٹ کر کے وہ اردو کا کچھ بھلا نہیں کر رہے ہیں بلکہ دوسری طرف رشوت کا بازار گرم کر کے وہ اردو کو زوال کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اپنے آپ کو دانشور کہلوانے سے اردو کا کچھ بھلا نہیں ہو رہا ہے۔ رشوت اور چاپلوسی سے طلاب کہ نئی پود بھی اردو سے بیزار ہو رہی ہے۔ ایماندار پروفیسروں اور ماہرین کو اس کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ اور یہ ہم سب کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔

Facebook Comments HS