مجھ کو ڈھونڈیں گے سدا اہل جفا میرے بعد


اللہ پوچھے اس دسمبر سے بھی کہ جب بھی بام و در پہ آیا کسی نہ کسی کے بچھڑنے کا دھڑکا سا لگ گیا۔ حر کے نقش قدم پہ چلنے والا آزاد مرد تو کچھ ہفتے ہوئے زیر زمیں آباد کسی طلسم نگری کا باسی ہوا، جا چکا ۔ مگر کسی گھر میں چند ہفتوں سے خالی ہوا بستر مسلسل نوحہ کناں ہے، روتا ہے، سر پٹختا ہے، کرلاتا ہے، بین کرتا ہے، بے سلوٹ چادروں کی ڈبڈباتی آنکھوں سے ہر آنے والے سے بے آواز سوال کرتا ہے کہ کس ان کہی کا رزق ہوا وہ کوئے ملامت کو دہن کے عرق سے تروتازہ رکھنے والا؟

کہانی کار تو ازل سے ہی سالم کہانی بنتا ہے۔ انجام کو آغاز سے پہلے کاڑھتا ہے۔ لازوال کرداروں کی کوزہ گری کرتا ہے اور ایسے میں کوئی محیر العقول کوزہ خلق ہو جائے تو اس کی نمود کو جہان دگر تراشتا ہے۔ ہائے مگر جام جہاں نما کے اہل جفا۔ کہ تسلیم کے پیراہن کے لیے بھی فنا کی ”الف“ سے ”یے“ تک کا سارا آموختہ دہرانا پڑتا ہے۔ وہ بھی ایک ایسا ہی چاک کے پیندے سے جڑا منفرد کوزہ تھا کہ جس پر خود کوزہ گری کے شش جہات کو ناز تھا۔

چکوال کے دھنوان خطے سے ہی میرا خمیر اٹھا تھا تو اس سے جڑت قدرتی امر تھا مگر اس شہر دھنک روکے مکین ہوئے ابھی کچھ برس ہی ہوئے ہیں۔ میں کہ گزشتہ تین عشروں سے سر جیمز لائل کے بسائے نوآبادیاتی شہر لائلپور کا باسی تھا۔ سو اس شہر کے اونچے نیچے آڑے ترچھے طول و عرض میں زندگی بتاتے اپنی نوع کے منفرد نابغوں سے میں کماحقہ واقف نہ تھا جو میری کم شناسی کی سند بھی ہے۔ بنتے بناتے چلتے چلاتے جو میرا حلقۂ احباب بنا تو بہتوں کی زباں پہ اسی شاعر خوش پوش کا ذکر تھا۔ اک نادیدہ ہستی بہت گہرائی میں ہر کتاب بیں پہ اپنا سرخ نشاں چھوڑتی جا رہی تھی یوں گویا ایک ہی مرکز مائل قوت سے بندھے سب اسی در کے بھیتر طواف پہ مامور۔ ہائیں! آپ ان سے ابھی تک نہیں ملے کیا؟ یہ ہائیں مجھے مسلسل ہانٹ کیے جا رہا تھا۔

ایم اے اردو کا دور تھا۔ ہمیشہ کی طرح۔ شام گزشتہ کے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال و عہد حال کی یونیورسٹی آف چکوال۔ کے ایستادہ لمبوترے سرخ دالانوں سے گزرتا ہمارا ایک ٹولہ کینٹین کی چائے سے لطف اندوز ہونے بیٹھتا۔ شاہ جی قمر عباس کاظمی، محترم ارشد محمود، مکرمی ساجد اقبال، ڈاکٹر کامران کاظمی، سیدی عشرت حسین کاظمی و پروفیسر کوثر عباس جیسے ادبی خرد مندوں کے درمیاں مجھ سا بے ادب۔ گفتگو کا بہاؤ ادب سے کمیونزم اور وہاں سے ہوتا ہوا چوہدری لیاقت تک پہنچتا۔ ہر کسی کے پاس ان کے متعلق کہنے کو بہت کچھ تھا اور میں۔ ہونق بنا ہر کس و ناکس کا منہ تک رہا ہوتا۔ کچھ اس دیوانے کو بھی تو خبر ہو یہ کس فرزانے کا شہرہ ہے کہ کچھ بھی ہو میرا ازلی جھکاؤ بھی تو باہنی جانب ہی تھا۔

یہ تسلسل کے ساتھ ہانٹ کرتا ہوا ”ہائیں“ اور خرد مندوں کی مجلس میں خود میں سمٹا ہوا میرا ”جاہل پنا“ مجھے خراماں خراماں ایک ڈھلتی شام پروفیسر چوہدری لیاقت علی خان کے در تک لے گیا۔ وہی روایتی لیاقت صاحب تھے جیسا کہ سب انہیں اسی روایتی انداز کے طفیل پہچانتے تھے۔ میری ان سے کل دو ملاقاتیں تھیں اور بس۔ کل کائنات یہ دو ملاقاتیں۔ مجھ ایسے باریش مولوی دکھنے والے سے اپنے عہد کا کامریڈ کیا گفتگو کرتا؟ کرتا بھی تو کتنی کرتا؟ کر بھی لیتا تو بھلا دو ملاقاتوں میں یہ برگد شخص کتنا کھلتا؟

میں ان کے گریبان و کف کے کھلے ہوئے بٹنوں، کہنیوں تک چڑھائی آستینوں، گلے کا ہار ہوئی موٹی سی زنجیر، کلائیوں کے نقرئی کڑوں، انواع و اقسام کے کثیر رنگ پتھروں سے مزین انگوٹھیوں اور انگلیوں میں نیم سلگتے سگریٹ سے امڈتے دھوئیں کے مرغولوں سے ہی نگاہیں نہ ہٹا پا رہا تھا کہ انہوں نے بانسری کی دھن چھیڑ دی تو یوں جانیے گویا کمرے میں دھیمے سروں بجنے والی بانسری نے آب حیات پی لیا ہو۔

بانسری نے سانس لیا تو مقسوم کے زیر اثر پنپتی سانس لیتی مخلوق پر سحر طاری کر دیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ونجلی نے کراہ کر کمرے کے اداس کینوس کو پوری دنیا کے نقشے پر مل دیا ہو اور اس میں موجود قدرتی و سماجی تفریق کی بندشوں میں الجھے، سیاسی و معاشی گھٹن میں قید، ہجر کے کچے گھڑے پہ جھولتے، نارسائی کے بھنور میں ڈولتے، اچھلتے، غوطے کھاتے، کنارے کی آس میں پٹخنیاں وصولتے۔ ان گنت نفوس، بھانت بھانت کی بولیوں، شکلوں اور دماغوں والے۔ اپنے ہونے کے ماتم میں شریک، اپنی مرتیو کے بھوگ میں رقصاں دیوانہ وار ناچتے سب کردار۔ اپنی زندگیوں کو تج کر بجتی ہوئی بانسری سننے یہاں صوفی کے حضور دو زانو بیٹھے ہوں۔

میری ان دو ملاقاتوں کا حاصل و مقصود مرلی کے ان کہے شبد ہی تھے کہ اس کے علاوہ تو صوفی لیاقت کا کوئی اور سراپا میری آنکھوں میں اترتا ہی نہیں ہے۔ یہ تو شاہد آزادؔ و نبیل انور ڈھکو ایسے دیوقامت لوگوں کے طفیل ہم ایسے کوتاہ بیں بونوں پہ منہدم ہوئی عمارت کی بنیادوں میں لاٹیں مارتے خزانوں کا راز منکشف ہوا۔ انگشت بدنداں تو میں اس اسرار مخفی پہ ہوا کہ حسن ان کا صاحبزادہ ہے۔ ایک اوج کمال کا لو دیتا روشن استعارہ۔ حسن!

ہمارا عشرۂ احتساب چل رہا تھا۔ محتسب کمال عددی کے ساتھ ساتھ جمال ارضی کا بھی عاشق زار تھا سو راوی ہماری شب بسری کہون و ونہار کے برہنہ پہاڑوں کے دامن میں لکھ رہا تھا۔ ایسی ہی ایک بھیگتی نیم گہری ہوتی شام کے ہمراہ کلرکہار کی وادی میں خراماں خراماں چہل قدمی ہو رہی تھی کہ ایک مسحورکن آواز نے قدم جکڑ لیے۔ مائے نی مائے میرے گیتاں دے نیناں وچ برہوں دی رڑک پوے۔ یہ حسن تھا۔ شیوکمار بٹالوی کا کلام گاتا حسن۔ ن م راشدؔ کے حسن کوزہ گر ہی کی طرح۔ پرسوز، پرشکوہ مگر دلآویز تھا۔ پوری شب ہم گوش بر آواز دوست ہوئے وہیں کی زمیں کا اینٹ روڑا بنے رہے۔ اعتکاف سنگیت کا یہ کیف آگیں ورود بعد میں بھی کئی راتوں کا ایندھن بنا۔ اور اب آ کے نبیل انور ڈھکو نے یہ عقدہ کھولا کہ حسن بھی اسی زلف گرہ گیر کا ایک خوبصورت بل ہے۔

نبیل انور ڈھکو مزید لکھتا ہے۔ ”عجیب شخص تھا۔ صبح سویرے کتاب اٹھاتا تو شام تک، شام تک کیا رات گئے تک کتاب ہی پڑھتا رہتا۔ بالکل اسی انداز سے بیکس (Bacchus) کی تعظیم کرتا۔ تارک ہوتا تو لمبے عرصے تک دست کشی اختیار کر لیتا۔ حتیٰ کہ کئی کئی سال گوشت تک نہ کھاتا“ ۔ ہم نے تو نہ دیکھا، نہ سنا۔ یہ شہر خوش خصال کہ جس کے ماتھے کا جھومر یوں بھی دائیں بازو ہی جھکتا ہے پھر کہاں تک انہیں برداشت کرتا۔ وہی سرگوشیاں اس کا مقدر بننا تھیں جو آج تلک اس شہر کی تنگ و تاریک گلیاں اپنے باسیوں سے کرتی آ رہی ہیں۔ ملحد ہے۔ خدا کا انکاری ہے۔ مارکسزم کا سرخیل ہے۔ اور وہ کتابوں کے رمز کا مارا دھنوانی جون ان ملامتی تمغوں کو سینے پہ سجائے زندگی کے نیزے پہ سر بلند محو تلاوت غالبؔ رہا۔

پھر جس پر کامریڈ ہونے کی مصدقہ ٹھاپ لگی ہو تو اس کے معتقد ہمارے تمہارے معاشرتی استعمار کے ڈھانچے کی بے ڈھنگ و بے رحم زائچے میں گندھی لعنت و پھٹکار کے دھتکارے، کول و بھیل نسلوں کے بچ رہے کیڑے مکوڑے، ہماری تمہاری رہتل کے موچی، مسلی، نائی، کبھار، ملیار، ماچھی، مراثی، لوہار، ترکھان، درزی، پنہیارے، کامے، مزارعے، گولے، باندے، چرواہے، چوہڑے، رذیل، مزدور، ہاری، کمی کمین، شودر، میگھواڑ، گرگلے، کبوترے، دراوڑ۔

نسل در نسل غلامی سے ہی جن کے خمیر اٹھتے ہیں، جو بغیر گردن کے پیدا ہوتے ہیں اور بغیر زندگی جیے مر جاتے ہیں، یہ کوڑھی ازلی بھوک پھانکتی ماؤں کے جنے جو حرف بغاوت کے معانی تو دور ہجے تک نہیں جانتے۔ سب کے سب ہوں گے اور سب کے سب تھے۔ پھر ایسا پیشوا کیونکر نہ ان چوہدریوں، زمینداروں، وڈیروں، انگریزوں کی بھیک پہ پلتے جدی پشتی رئیس زادوں، جاگیرداروں، صنعت کاروں، مذہبی پیشواؤں، فرقہ واریت پہ پلتے دہشت گردوں، اندھی حویلیوں اور ان کی تاریک غلام گردشوں کے رسہ گیروں، مسجد و مدرسہ کے فرعونوں، سکون کے لٹیروں، خرد کے بہروپیوں، جمع تفریق کی نجس محفلوں کے ساہوکاروں، ضرب در ضرب کے کھیل کے بدمعاش کھلاڑیوں اور استحصالی نظام کی سانسوں سے چمٹے بد خصلت وزیروں ایسے سرمایہ دارانہ نظام کے سبھی دلالوں کا ہدف ہوتا۔

صوفی لیاقت کا ایک اور راوی اعظم سمور بھی تو ہے۔ اعظم سمور کے ساتھ میرا ایک نہانی تعلق ہے۔ پورے کا پورا اعظم سمور میرے لیپ ٹاپ میں بند ہے۔ جہاں موقع ملتا ہے میں اصل والے سمور جٹ سے مل بیٹھ گپیں ہانکتا رہتا ہوں۔ ایک سگریٹ کے راکھ ہونے تک کے لامحدود وقفۂ ملاقات میں دنیا جہان کے موضوع زیر بحث رہتے ہیں۔ بہت سارا لیاقت صوفی میں نے یہاں جلتے بجھتے سگریٹوں کے دوران کھنگالا ہے۔

بغاوت کی پگڈنڈی پہ چلنے والا وہ ایک منفرد تارک تھا جو ازل سے زندگیوں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں کی امین کتابوں کی تعظیم بھی کرتا تھا اور تحریم بھی جانتا تھا سو کمال یکسوئی کے ساتھ اس امانت کو امین کندھوں پہ دھرتا رہتا تاکہ کہانی جیتی رہے۔ امانت سونپنے و سنبھالنے والے ہر دو کردار مرتے رہتے ہیں مگر تربیت کی کٹھالی میں پک کر نکلنے والے نئے کردار اس بار صمیم کو اٹھاتے رہتے ہیں۔ یوں نمک سار خطے کا یہ نمناک باغی اپنی دھن میں قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، یگ یگ گدا کر کے حوادث کو نتھارتا رہا۔ ان نتھارے گئے جگ سے وکھرے حوادث میں مال غنیمت ایسے ہاتھ لگے نت نئے کرداروں کو حالات کی مطابقت و مسابقت کے عین مطابق ڈھال کر ان سے حظ کشید کرنے والے صوفی نے انہیں زمانے کے مدمقابل ٹھہرے رہنے کا فن سکھایا۔

تا عمر باہنے بازو کی مالا جپنے والے اس من چلے من موجی باغی نے بے شمار روپ بدلے۔ سر سنگیت، قلم و قرطاس اور کتاب کی مثلث کو منفرد بنانے کی کاوشوں میں جتا اپنی جون اور چولے ادلتے بدلتے فنا کے گھاٹ اترنے والا اپنے قبیل کا ہی نہیں شہر بھر کا ممتاز بانسری نواز، سنگیت کا سایۂ دراز اور سلطنت قافیہ و ردیف کا اعتزاز تھا۔

نجانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ زیر زمین لمبے لمبے آہنی گرز اٹھائے آنے والوں کو بھی اس متفکر قسم کے متحرک فلسفی و صوفی نے دو زانو بٹھا کر صفر کی پیدائش کے کسی گمبھیر مسئلے میں الجھا لیا ہونا ہے اور ان کے فولادی گرز کسی غیر مرئی کیمیائی تبدیلی کے عمل سے گزر کر مرلی میں بدل چکے ہوں گے جن کی سریلی تانوں سے دما دم برآمد ہوتی مختلف نوع کی صدائیں زمین کو ایک کیف آگیں ارتعاش کے زیر اثر متحرک رکھیں گی۔ رہ گئے ہم ایسے زمیں زاد تو ہم بھلا کہاں اس صوفی سادھو سنت کا قرض چکا پائیں گے۔

Facebook Comments HS