نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا!


ایک جانب معاشرے سے جڑے افراد کی اکثریت موجودہ سیاسی ماحول سے بیزار ’بدظن اور لا تعلق نظر آتی ہے وہیں اس تکلیف دہ سیاسی صورتحال کی جمودی کیفیت کو تبدیل کرنے کی خواہش مند بھی ہے۔ اللہ تعالی نے خاکی بشر کو فطرتا آزاد پیدا کیا ہے اور انسان ہمیشہ سے ہی وقت اور حالات کے تقاضوں کے سنگ اپنے آپ کو بدلنے کی سعی میں رہتا ہے پاکستان کے سیاسی نظام پر نظر ڈالی جائے تو تبدیلی اور انقلاب کی جدوجہد کسی نہ کسی شکل میں سات دہائیوں سے جاری ہے۔

پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں قیادت کے فقدان اور اور روایتی سیاست کے باعث ملک و ملت کی حالت نہیں بدل سکی اور ملک کے سیاستدانوں نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کے تحت مفاداتی طرز سیاست کو ہی دوام دیا اور یہی وجہ ہے آج بھی بنیادی ضروریات زندگی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں۔ المیہ ہے ملک کی سیاسی اشرافیہ نے اپنے اقتدار اور اختیارات کے لئے ہی ہمیشہ فریبی سیاست کا ایسا جال بچھایا جس کا شکار عوام ہی بنی۔ بد قسمتی سے عام آدمی اپنے گرد مسائل کے انبار دیکھ کر بنیادی ضروریات زندگی کی عدم دستیابی پر تبدیلی کی شدید خواہش تو رکھتا ہے لیکن ملک کی جمودی سیاست اور مفاد عامہ سے عاری سیاست کے سامنے اس کی خواہش دم توڑ جاتی ہے۔

انسانی ذہن پر یہ سوال شدت کے ساتھ دستک دیتا دکھائی دیتا ہے کہ زراعت میں خود کفیل‘ بہترین آب پاشی نظام کی حامل دھرتی ’وسائل سے مالا مال‘ چاروں موسموں سے مزین بہترین جغرافیائی خد و خال رکھنے والا ملک ترقی یافتہ معاشروں کی صف میں جگہ کیوں نہ بنا سکا یہ ایسا سوال ہے جو ستر سال سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جواب کی تلاش میں محو سفر ہے۔ تبدیلی اور انقلاب کبھی ووٹ کے ذریعے ’کبھی احتجاجی سیاست اور دھرنوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن تبدیلی اور انقلاب کی جدوجہد اس وقت دم توڑ کر سنپولیوں کی طرح عوام کو ڈستی ہے جب سیاست دان ان کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار اور اختیارات کے نشہ میں دو وقت کا نوالہ تک عوام کے منہ سے چھین لیتے ہیں۔

جن معاشروں میں تبدیلی اور انقلاب آئے ان کی تاریخ شاہد ہے کہ جب عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے اقدامات کیے گئے تو ایسے معاشرے ترقی کے زینوں پر قدم رکھتے ہوئے نکھر کر دنیا کے معاشروں کے لئے دلیل بن گئے۔ دنیا کے معاشروں میں آنے والے انقلاب اس بات کی دلیل ہیں کہ ان معاشروں میں قیادت نے ہمیشہ ایسے اقدامات کیے جس سے عام آدمی کا معیار زندگی بلند ہوا آج بھی ان معاشروں کے افراد کی تبدیلی اور انقلاب کے لئے کی گئی جدوجہد تاریخ کے امر باب کا حصہ ہے۔

انقلاب اور تبدیلی کی بنیاد آپ عوام کی ذہن سازی کے ذریعے رکھ سکتے ہیں آپ جس نظام کی خو ڈالنے کا عزم رکھتے ہیں دیکھنا ہو گا کہ آپ کے پاس موجودہ نظام کے برعکس کیا رول ماڈل ہے ہمیشہ وہی تبدیلی اور انقلاب پائیدار ہوتے ہیں جو خیالات و نظریات بدلنے سے آئے۔ عام آدمی کے ملک کی طرز سیاست سے بیزاری کی اصل وجہ یہی ہے کہ اس ملک میں ہمیشہ دلپذیر نعروں کے فریب سے عوام کے حقوق پر نقب لگایا گیا جس کے باعث آج بھی عوام تہی دست ہے عوام حیرت کدوں میں سر پھٹک رہی ہے کہ ملک کی سیاسی اشرافیہ ان سے کیا کھیل‘ کھیل رہی ہے بڑی تکلیف دہ صورتحال ہے۔

جس طرح محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اسی طرح سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں سمجھی جاتی سیاست ملک میں اب ممکنات کا کھیل بن چکا ہے اس کے باوجود عوام کو ابھی تک یہ منطق سمجھ نہیں آئی اور عوام پھر سے ایسی دھوکہ دہی کی سیاست کا شکار ہو جاتی ہے۔ ملکی سیاست میں وہی گھسے پٹے نان ایشو نعرے آج بھی لگائے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر سیاست دان انتخابات کے میدان میں اترتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں ایسے میں آپ بخوبی اخذ کر سکتے ہیں کہ ملکی سیاست کی باگ ڈور جن کے ہاتھ میں وہ کسی تبدیلی اور انقلاب کی بنیاد رکھ سکتے ہیں تبدیلی اور انقلاب کے لئے ہوم ورک مکمل کرنا پڑتا ہے لیکن ملک کی سیاسی قیادت کے پاس ایسا کوئی رول ماڈل نہیں جس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔

چین نے جب تبدیلی کا سفر شروع کیا تو پاکستان اس کے لئے ایک کھڑکی کی مانند تھا جس کے ذریعے اس نے دنیا کو دیکھنا شروع کیا اور اس نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا اصل راز جان کر آگے بڑھنا شروع کیا آج وہی چین ہے جس نے ایک لاغر قوم کو مضبوط بنا کر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا اور دنیا کی بڑی معیشتوں کو پچھاڑ کر رکھ دیا اور ہم آج اسی چین کے در کے مجاور بنے بیٹھے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں شاید انقلاب ریموٹ کنٹرول کے ایک بٹن پریس کرنے سے برپا ہو جائے گا روس کا انقلاب دیکھ لیں جہاں مزدوروں نے سرمایہ داروں کے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔

تیونس میں کیا ہوا تھا ملکہ تیونس کے بیش بہا اخراجات ’اقرباء پروری‘ کرپشن ’مہنگائی اور بے روزگاری جیسے عوامل نے عوام کو اٹھ کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا تھا تئیس سالہ حکمرانی عوام کے بے کراں سمندر کے سامنے تئیس دن میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئی اور اس انقلابی لہر نے مصر‘ یمن ’الجزائر اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ المیہ ہے کہ پاکستان جیسے وسائل سے مالا مال ملک میں وہی خاندان اور چہرے تبدیلی اور انقلاب کے لئے عوام کو ہانکنے کی کوشش میں مصروف ہیں جن کے ہاتھوں عوام متعدد بار لٹ چکی ہے ملکی انتخابات میں کیا ہوتا ہے جب ہم گھروں سے نکل کر بیلٹ باکس تک جاتے ہیں تو اپنی نسل نو کے مستقبل سے بے خبر ہو کر ان کا مستقبل ذات‘ برادری ’مسلک‘ لسانیت اور سیاسی تعصب کی بھینٹ چڑھا آتے ہیں اور ہم سب امید سے ہوتے ہیں کہ جلد تبدیلی یا انقلاب ہمارے در پر دستک دے گا۔

ہمارے قول و فعل میں تضاد کی کتنی بڑی دراڑ ہے کوئی بھی انقلاب کسی شخصیت کے نہیں بلکہ عوام کے مرہون منت ہوتا ہے جس معاشرے میں عوام کے بنیادی حقوق غصب کیے جائیں اگر عوام اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے اٹھ کھڑی ہو تو ملک کی دولت اور وسائل پر قابض ایک فیصد سیاسی اشرافیہ ایل لمحہ کے لئے بھی ایسے انقلاب کو روک نہیں سکتی۔ ملک میں جو صورتحال ہے اس سے عام آدمی باخبر ہے لیکن ہمارے کھلے تضاد نے کھلے بندوں حکمرانوں کو ڈھیل دی ہوئی ہے کہ وہ دن رات کی تفریق کیے بغیر ان کے حقوق غصب کریں۔ ان حالات کے باوجود بھی اگر عوام اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑی نہیں ہوتی تو وہاں انقلاب نہیں آیا کرتے جہاں انسان اپنی نسل نو کے مستقبل سے لاتعلق ہو کر اپنے گھر کو محفظ بنانے کے لئے ایک دوسرے کی فکر کرنا چھوڑ دیں ایسے معاشرے میں تبدیلی اور انقلاب کی امید رکھنا عبث ہے۔

Facebook Comments HS