ضیا محی الدین: ایک عہد جو تمام ہوا
آہ ضیاء کیا گئے تحت الفظ یتیم ہو گیا۔ وہ طلسماتی لہجہ، وہ رعب، وہ شخصیت، وہ خوش اسلوبی، وہ خوش لباسی، وہ فن کی پرکاری، وہ آواز کا ردھم، وہ میر کا مرثیہ، وہ فیض کی شاعری، وہ شیکسپیئر کی باتیں، وہ فلسفہ، وہ روانی، وہ پڑھنا اور سمجھانا سب تمام شد۔
برسوں بعد لکھا بھی تو کب جب لکھنے اور پڑھنے والے ہم سے رخصت ہوا چاہتے ہیں، نجانے کیوں ایسا ہوتا ہے کہ جو شخصیات نام نہیں بلکہ کام اور شفقت میں بھی بڑی ہوں ان کے جانے کا سن کر عجب اداسی اور پژمردگی سی طاری ہو جاتی ہے
پرانے لوگوں کو عزت دینا آتی تھی چاہے سامنے کوئی بادشاہ وقت ہو، کوئی مفکر یا ادیب ہو یا ہم جیسا کوئی ناچیز طالبعلم ہو۔ زبان کی شائستگی اور ادب آداب کا قرینہ انہی کے دم سے ہو جیسے۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ایسی ہی تو نہیں کہا گیا۔
ضیاء صاحب کو سننا کانوں میں شیرینی گھولنے کے مترادف ہو جیسے، ان کو سننے اور ملاقات کا اعزاز محض چند ایک مرتبہ ہوا مگر یقین مانئیے ایسی خوش لباسی اور ایسا لہجہ کہ انسان مبہوت دیکھتا ہی رہ جائے، ایسی ہی ایک ملاقات میں ہمت پکڑی اور چل دیے سلام کرنے ہائے ان کی شخصیت کو دیکھ کر جیسے ایک مسمرائزیشن کی سی کیفیت طاری ہو جائے اور اللہ اللہ ان کا بولنا جیسے کہیں متواتر موتی گر رہے ہوں، جیسے شگوفے پھول رہے ہوں، جیسے دور کہیں سریلی گھنٹیاں بج رہی ہوں ایسے تھے ضیاء صاحب۔
جب بھی کہیں پڑھت کے لئے بلایا جائے تو سیکھنا ضیاء صاحب کی وڈیوز سے ہوتا ہے تو یونہی ایک مرتبہ ایک جگہ ہم مدعو تھے اور پڑھنا تھی شاعری وہ بھی کافی عرصہ کی دوری کے بعد تو سمجھ ناں آئے کہ یا خدا ماجرا کیا ہم شاعری کو شاعری کی مانند پڑھتے ہیں اور ہمارے ہمعصر لہک بہک کہ ہوں ہاں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں خیر عادتاً ہم نے ضیاء صاحب کو پلے کیا کہ بھئی ہم نے تو انہی کی راہ چلنی ہے اور ادھر وہ جیسے دل کا راز سمجھ گئے تھے کیونکہ پہلی وڈیو جو سامنے آئی اس کے الفاظ کچھ یوں تھے ”خدا جانے آج کل کی نو جوان نسل کو شاعری پڑھنے سے زیادہ رینگنے کا شوق کیونکر ہے، جو اضافت اور اضافی کو کھینچ کھانچ کر اصل مفہوم و الفاظ کو بھلا بیٹھتے ہیں، شاعری پڑھو تو یوں پڑھو جیسے پڑھنے کا حق ورنہ مت پڑھو“ یہ الفاظ تھے اور ایسے استاد تھے ضیاء صاحب جو محض چند جملوں میں تمام الجھن سلجھانے کا فن جانتے تھے۔
لکھنے کو قصے بہت، کہنے کو الفاظ بہت، پڑھنے کو کتابیں بہت مگر پڑھت کے لئے ”ضیاء“ ایک ہی تھا اور وہی رہے گا کیونکہ ”ضیاء“ کا کبھی خاتمہ نہیں ہوتا۔


